پینے کو پانی نہیں:سکولوں کا کمپیوٹرائزڈ بورڈ خریدنے سے انکار


فیصل آباد(نیوزلائن)پنجاب کے سکولوں میں پینے کے پانی سمیت دیگر سہولیات کا شدید فقدان ہے مگر اس کی فراہمی کی طرف توجہ دینے کی بجائے پنجاب حکومت سکولوں پر زور دے رہی ہے کہ مخصوص کمپنی سے سکولوں میں تنصیب کیلئے اپنے فنڈز میں سے کمپیوٹرائزڈ سمارٹ بورڈ خریدیں۔ کم فنڈز کی وجہ سے سرکاری سکولوں کے سربراہان نے مہنگے سمارٹ بورڈز کی خریداری سے معذوری ظاہر کردی ہے۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی صورتحال بہتر کرنے کی بجائے کمپیوٹرائزڈ سمارٹ بورڈ خریدنے کا نادر شاہی حکم جاری کردیا ہے۔اس کے ساتھ ہی نادر شاہی فرمان یہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ ایسا سکولز اپنے فنڈز سے کریں۔ پنجاب حکومت اس کیلئے فنڈز بھی نہیں دے گی۔ادھر سکولوں کے سربراہان نے اپنے فنڈز سے سمارٹ بورڈ خریدنے سے معذرت کرلی ہے۔ جس کے باعث ہائی سکولز میں سمارٹ بورڈز کی تنصیب ناممکن نظرآرہی ہے۔پنجاب حکومت نے ہائی سکولوں کے سربراہان کوحکم دیا گیا تھااپنے نان سیلری بجٹ سے سمارٹ بورڈ خرید کر نصب کریں اور طلباء وطالبات کو ان بورڈز کے ذریعے لیکچررز دیئے جائیں۔ذرائع کے مطابق ایک سمارٹ بورڈ کی مالیت دو سے اڑھائی لاکھ روپے ہے اور اس بورڈ کو ملٹی میڈیا کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹرسسٹم سے منسلک کیا جائیگا اور بورڈ ٹچ سسٹم کے ذریعے آپریٹ ہوگا اور اس میں تمام لیکچررز کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہوسکے گا اور اس بورڈ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تعلیمی اداروں سے لنک قائم کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی سکول سربراہان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک مخصوص کمپنی کے بورڈ خریدیں۔ اس سلسلہ میں سکول ہیڈز نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان بورڈز کی خریداری کیلئے ان کے پاس فنڈز نہیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو ان مہنگے بورڈز کی بجائے سکولوں میں پینے کے صاف پانی‘واش رومز‘ ڈیسک‘یونیفارمز سمیت دیگر ضروری سہولیات کی کمی کا سامنا ہے اس لئے مہنگے بورڈز کی بجائے پہلے طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

Related posts