پیپلزپارٹی اور ن لیگ ملکر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئیں


اسلام آباد(حامد یٰسین)تحریک انصاف اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آسکی۔پی ٹی آئی کیلئے پیپلزپارٹی یا متحدہ مجلس عمل اور ایم کیو ایم کے بغیر حکومت بنانا ممکن نہیں ہورہا۔جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئیں۔ متحدہ مجلس عمل اور ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر وہ مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اکلوتی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آسکی۔ الیکشن کمیشن کے اب تک کے جاری کردہ نتائج میں پی ٹی آئی 115نشستوں کیساتھ اکثریتی جماعت تو ہے مگر مجلس عمل اور ایم کیو ایم کے بغیر اس کیلئے حکومت بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔ دونوں میں سے ایک جماعت کو بھی ساتھ مل کر وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آسکی۔ پی ٹی آئی کے بہت سے رہنما دوہری نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں اور انہیں ایک اسمبلی سے سیٹ چھوڑنا پڑے گی۔ عمران خان خود بھی چار نشستیں چھوڑیں گے۔ پرویز خٹک بھی سیٹ چھوڑیں گے۔غلام سرور خان کو بھی سیٹ چھوڑنا پڑے گی۔ میجر طاہر صادق کو بھی ایک سیٹ چھوڑنا ہوگی۔ پرویز الٰہی بھی ایک سیٹ ہی کھ سکیں گے۔ جبکہ دیگر بہت سے نمائندے جو دو دو سیٹوں پر کامیاب ہوئے انہیں ایک سیٹ چھوڑنا پڑے گی۔ ایم ایم اے اور ایم کیو ایم کو ساتھ نہ ملانے کی صورت میں عمران خان کو حکومت بنانے کیلئے زرداری کے ساتھ ملانا پڑے گا۔ دوسری جانب تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے پاس مجموعی طور پر 108نشستیں ہیں۔ ایم ایم اے اور ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر انہیں 125ارکان کی حمائت مل جاتی ہے۔ مسلم لیگ ق اور بی این پی عوامی جبکہ چار سے پانچ آزاد ارکان کی حمائت حاصل کرکے وہ اتنی بڑی اکثریت حاصل کرسکتے ہیں کہ جہاں تک پی ٹی آئی کا پہنچنا ممکن ہی نہ ہوگا۔ مسلم لیگ ن خود آگے نہ بھی آئے اور پی پی پی کا ساتھ دینے ا علان کردے تو بھی تحریک انصاف کا راستہ روک سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے پاس آپشن کم ہیں۔ نواز شریف اور اپنی جماعت کو بچانے کیلئے انہیں پیپلزپارٹی یا تحریک انصاف میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ہوگا ۔ اس کے بغیر ان کیلئے اپنی پارٹی بچانا ممکن ہو گا نہ نواز شریف کو بہتر امداد پہنچا سکے گی۔

Related posts