پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے ‘کبھی ختم نہیں ہو سکتی

حلقہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن کے نتائج کو بنیاد بنا کر ملکی میڈیا اورسوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور یہ تاثر پیش کرنے کی بھرپورانداز میں کوشش کی جاری ہے کہ جیسے پاکستان پیپلز پارٹی خدانخواستہ ختم ہو چکی ہے، بات محض تنقید تک رہتی تو بھی کچھ مضائقہ نہ تھا، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اورسخت سے سخت ناقدین کی آراء کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتی ہے، لیکن کیا کیجئے ان خود ساختہ دانشورحضرات کا کہ جو اس حق سے تجاوز کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں کہ جو کسی بھی مروجہ نظام اخلاق سے مطابقت نہیں رکھتیں، لہذا ان سیاسی پنڈٹوں کے حضورمیں اپنی چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، وہ یہ کہ کسی بھی حلقہ کے ضمنی الیکشن کے نتائج کو کسی بھی جماعت کی عوامی مقبولیت یا غیرمقبولیت کا پیرامیٹر نہیں بنایا جاسکتا، اورپھراس وقت جبکہ وہ حلقہ ایک نہیں بلکہ دو دو سیاسی جماعتوں کے سربراہان کا آبائی حلقہ بھی ہو، جیسا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اس حلقہ کے عین وسط میں واقع محلہ گوالمنڈی اور تحریک انصاف کے چیرمین عمران خاں بھی اسی حلقہ کی سرحد پر محلہ زمان پارک میں اپنے آبائی مکان رکھتے ہیں، جبکہ 77ء کے بعد یہ حلقہ کبھی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا نہیں رہا، اس لیے معروف سیاستدانوں کے آبائی حلقوں کے نتائج کو بنیاد بنا کرکسی بھی سیاسی جماعت کی عوام میں مقبولیت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، جیسا کہ حلقہ این اے 207 لاڑکانہ، یہ بھٹو خاندان کا آبائی حلقہ ہے وہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی بھی کسی الیکشن کو نہیں ہارا ہے، حتی کہ 1990ء اور 1997ء جیسے بدترین وقت میں بھی کہ جب ایک جھرلو فارمولے کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستان کے تمام حلقوں سے آوٹ کردیا گیا تھا، تب بھی لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی تینوں نشستوں پربھٹو خاندان نے ہی واضح کامیابیاں حاصل کی تھیں، حتی کہ اسی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں محترمہ فریال تالپور صاحبہ نے 70 ہزار 800 ووٹ لے کر پہلی اورمحترمہ غنویٰ بھٹو صاحبہ نے 20 ہزار 430 ووٹ لے کردوسری پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا تو دور دور تک کچھ پتہ نہ تھا،
احباب اب میں بات کرتا ہوں الیکشن 2013 ء کے بعد ہونے والے کچھ ضمنی انتخابات کے نتائج کی، اگر میں یہ بات کہوں کہ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا بہت بڑا حصہ ہے تو بیجا نہ ہوگا، یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے کہ جو وادی خیبر سے شروع ہو کر وادی مہران تک جا پہنچتا ہے، پیپلز پارٹی کی ضمنی انتخابات میں کامیابیوں کا یہ سلسلہ الیکشن 2013 ء کے فورا بعد ہی شروع ہو گیا تھا جن کا ذکرکرنا میں یہاں پربہترخیال کرتا ہوں، تاکہ آپ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی صحیع پوزیشن کا اندازہ ہوسکے،
اگست 2013 ء میں این اے 237 ٹھٹھہ 1 سے پاکستان پیپلزپارٹی کی شمس النساء میمن نے 81500 ووٹ لے کر ایک عظیم الشان کامیابی حاصل کی، جبکہ یہاں پر مسلم لیگ ن کے ریاض شاہ محض 14 ہزار ووٹ ہی حاصل کر پائے تھے،
اگست 2013ء ہی میں این اے 235 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار شازیہ مری نے مسلم لیگ (فنکشنل ) کے خدا بخش دراس کو شکست دی،
اگست 2013 ء میں این اے177مظفر گڑھ کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نور ربانی کھر نے واضح کامیابی حاصل کی
اگست 2013ء کے ضمنی انتخاب سے حلقہ پی پی 193 اوکاڑہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں خرم جہانگیر وٹو نے بیمثال کامیابی حاصل کی،
ستمبر 2015 صوبہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی حلقہ پی کے 93 ضلع دیر”اپر” کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ثنا اللہ خاں 18 ہزار 823 ووٹ لیکر کامیاب قرار پاتے ہیں حالانکہ کہ یہاں حکومت بھی انصافیوں کی تھی لیکن ان کا امیدوار ٹیلی اسکوپ سے بھی دیکھنے پر بھی نظر نہیں آرہا تھا،
مئ 2016ء میں سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 22 نوشہرو فیروزمیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار ڈاکٹرعبدالستار راجپر اٹھائیس ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور یہاں پر تحریک انصاف کے امیدوار شاہنواز لاڑک صرف 178 ووٹ لیکر آٹھویں پوزیشن پر تھے،
نومبر 2016ء میں پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی کے حلقہ این اے 258 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوارعبدالحکیم بلوچ نے 72 ہزار 400 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی،جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار حنیف بنگش کو صرف 829 ووٹ ہی ملے
جولائی 2017 ء حلقہ پی ایس 114 کراچی کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی نے 23840 ووٹ حاصل کرکے پہلی جبکہ ایم کیو ایم کے کامران ٹیسوری نے 18106 ووٹ لیکر دوسری جبکہ ن لیگ تیسری اور تحریک انصاف چوتھے نمبر پر رہی،
اسی روز جولائی 2017 ء میں ایک اور انتخابی دنگل گلگت بلتستان حلقہ نگر 2 میں سجا، اس انتخاب میں پیپلز پارٹی کے جاوید حسین نے 6671 ووٹ حاصل کرکے یہ نشست پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کی، اس الیکشن میں پی ٹی آئی کا امیدوارمحض 373 ووٹ حاصل کرسکا،
احباب یہاں پرمیرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی جو کہ وفاق کی علامت واحد جماعت ہے اور پنجاب کے چند ایک علاقوں کو چھوڑ کر آج بھی ملک بھر میں یکساں طور پر مقبول ہے، کیا اس کی تمام کامیابیوں کو نظر انداز کرکے صرف ایک حلقہ این اے 120 لاھور کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ کو بنیاد بنا کر اسے غیرمعروفیت کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا جائے، حالانکہ متذکرہ بالا جن نتائج کا میں نے ذکر کیا ہے ان کا تعلق پاکستان کے مختلف صوبوں سے ہے،


تحریر خاور جاوید رانا

Related posts

Leave a Comment