پیپلز پارٹی کی پنجاب فتح کرنے کی تیاریاں

images-1پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قمر زمان کائرہ کو وسطی پنجاب کا صدر اور ندیم افضل چن سکریٹری جنرل اور مصطفی نواز کھوکھر کو سکریٹری اطلاعات مقرر کیا ہے، قمر زمان کائرہ میاں منظور احمدوٹو کی جگہ لیں گے جبکہ ندیم افضل چن لطیف کھوسہ کی جگہ خدمات سرانجام دیں گے، بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی پنجاب پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کرنے کے عزم کا عندیہ طاہردیا تھا، وسطی پنجاب کی تنظیم کا اعلان کرنے سے قبل انہوں نے جنوبی پنجاب کی تنظیم انائونس کی تھی بلاول بھٹو زرداری کے اس فیصلے کو انتۃائی اہم ،وقت کی ضرورت اور بہترین فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور پارٹی کے راہنماوں کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے ان کے مطابق اس فیصلے سے پارٹی مضبوط ہوگی اور ناراض کارکن بھی راضی اور خوش ہونگے۔
kaira
پیپلز پارٹی کے بزرگ اور نوجوان ورکرز کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ اقدام پارٹی کے کارکنوں کو تو متھرک کرنے کا باعث ہوگا ہی لیکن ان عام پاکستانیوں کو بھی گھروں سے باہر لانے میں معاون اور مددگار ثابت ہوگا جو سابق پارٹی عہدیداروں کی نالائقی، پارٹی معاملات سے عدم دلچسپی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے۔
chan
نئے نامزد عہدیدار عوام کے ساتھ ساتھ مقتدرہ حلقوں کے بھی قابل قبول ہیں،وسطی اور جنوبی پنجاب کی نئی قیادت آزمائش اور امتحان کی گھڑی میں ثابت قدم رہے گی اوربلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد گرامی سابق صدر آصف علی زرداری کی آرزوئوں تمنائوں اور پالیسیوں کو اپنی سوچوں کا محور و مرکز بنائے رکھے گی،اور وقت آنے پر نہ تو آنکھیں پھیرے گی اور نہ ہی کسی اور کے اشارہ ابرو پر پارٹی قیادت کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گی
اگر غیر جانبدارانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کی نئی تنظیم انتہائی متوازن انتخاب ہے ،اس ٹیم کا انتخاب کرتے وقت بلاول بھٹو زرداری کے سامنے یہ چیلنج ہوگا کہ انکی انتخاب کردہ ٹیم پنجاب میں پارٹی کی واپسی کو یقینی بنانے گی اور انکی توقعات پر پورا اترے گی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پنجاب میں اقتدار حاصل کیے اور حکومت بنائے بغیر وفاق میں برسراقتدار آنا بے سود ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پنجاب پاکستان کا پیسنٹھ فیصد ہے، ان کے ذہن میں ہے کہ پنجاب کے بغیر محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے والد گرامی کےا دوار حکومت میں کیا کیا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لیے ان کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ اگلی بار پنجاب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔
پنجاب میں کم بیک کرنا اور ایسا سوچنا اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا اچھی سوچ اور بات ہے لیکن بلاول بھٹو زرداری کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ پاکستان کی سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ ایسا نہیں چاہے گی اور نہ ہی ایسا ممکن ہونے دے گی کیونکہ اس نے پانچ جولائی 1977 سے فیصلہ کر رکھا ہے کہ پنجاب پیپلز پارٹی کو واپس نہیں دینا یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو اکثریت میں ہونے کے بوجود عارف نکئی اور میاں منظور وٹو کو بطور وزیر اعلی پنجاب قبول کرنا پڑا تھ
پیپلز پارٹی پنجاب سے ہمدردی رکھنے والے سیانے کہتے ہیں کہ اگر اب بھی بلاول کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ واقعی پنجاب کو سرمایہ داروں کے قبضے سے آزاد کروانے میں مخلص ہیں توانہیں ضرور کامیابی ملے گی اور اگر موجودگی نامزدگیوں کے فیصلے کے محرکات کچھ اور ہیں تو پھر الگ بات ہے۔

Related posts