پی ٹی آئی: قریشی اور ترین کھل کر ایک دوسر ے مقابل آگئے


اسلام آباد(نیوزلائن)تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں جیانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آگئے۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں سینئر رہنما شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں جھڑپ ہوگئی۔ دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ شاہ محمود قریشی نے نااہل قرار دئیے گئے لوگوں سے پارٹی اختیارات واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ نیوزلائن کے مطابق پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے بنی گالا میں اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے۔ قریشی نے عمران خان سے مطالبہ کیا کہ نااہل قرار دئیے گئے لوگوں سے پارٹی ذمہ داریاں واپس لی جائیں۔ انہیں الیکشن بورڈ کا ممبر نہ بنایا جائے۔ ایکشن کیلئے امیدواروں کا چناؤ کرتے ہوئے کسی اجلاس میں نااہل لوگوں کو کسی بھی حیثیت میں نہ بٹھایا جائے۔ بصورت دیگر پی ٹی آئی کو نقصان بھی ہوسکتا ہے۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ قریشی نے بظاہر نام رائے حسن نواز کا نام لیا اور ان کے نام کیساتھ ہی نااہل لوگوں کو پارٹی سے دور کرنے کا مطالبہ کیا مگر اصل میں ان کا اشارہ اجلاس میں موجود جہانگیر ترین کی طرف تھا جنہیں عدالت کسی بھی سیاسی و عوامی عہدہ کیلئے نااہل قرار دے چکی ہے مگر اس کے باوجود وہ پی ٹی آئی کے ہر اجلاس میں موجود ہوتے ہیں اور فیصلہ سازی میں ان کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے الیکشن بورڈ کے بھی ممبر ہیں مگر شاہ محمود قریشی ان کی بھرپور مخالفت کررہے ہیں۔ قریشی چاہتے ہیں کہ جہانگیر ترین کو الیکشن بورڈ اور پارٹی ذمہ داریوں سے الگ کر دیا جائے ۔ واقفان حال کے مطابق جہانگیر ترین موقع پر ہی شاہ محمود قریشی کا اشارہ سمجھ گئے اور انہوں نے رائے حسن نواز کی آڑ میں ان پر کی گئی تنقید کا جواب بھی دیا ۔ ترین نے اس موقع پر کہا کہ وہ قریشی کا اشارہ سمجھ رہے ہیں ۔ قریشی یا پارٹی نہیں چاہتی و ہ گھر بیٹھنے کیلئے بھی تیار ہیں ۔ ان کی پارٹی سرگرمیاں پارٹی کو پسند نہیں ہیں وہ اس سب سے الگ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر عمران خان نے مداخلت کرکے دونوں میں بیچ بچاؤ کرایا اور معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے پر زور دیا۔

Related posts