پی ٹی وی کی اینکرز کو جنسی ہراساں کئے جانے کا انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پی ٹی وی نیوزکی اینکر پرسنز کو حراساں کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات کو سخت ایکشن لینے کی ہدایت کردی ،کمیٹی کو سرکاری ٹی وی کی اینکرز نے آگاہ کیا کہ ہم پی ٹی وی میں کنٹریکٹ پر کام کر تی ہیں، کنٹریکٹ ختم ہونے پر ہمیں کمرے میں بلا کر مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں پھر کنٹریکٹ میں توسیع کی جاتی ہے،کنٹرولر پی ٹی و ی خواتین کو حراساں کرتا آرہا ہے، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اونگزیب نے کہا کہ مذکورہ آفسر کیخلاف عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر عملدآمد کرایا جائے گا، اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعظم پاکستان کو بھی آگاہ کرکے افسرکیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو حراساں نہ کیا سکے۔خواتین اینکرز کو ضرور انصاف دلاوں گی۔ پیر کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہوا ،اجلاس میں سینیٹرز فرحت اللہ بابر روبینہ خالد ڈاکٹر اشوق کمار نہال ہاشمی ، ڈاکٹر کریم احمد خواجہ ، چوہدری تنویر خان، کے علاہ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب سیکرٹری اطلاعات و نشریات چیئرمین پیمرا کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین پیمرا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا جو ٹی وی چینلزقانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف وارننگ لیٹر اور جرمانے و دیگر قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتاہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو سوال کیا گیا تھا اس کے مطابق جواب فراہم نہیں کیے گئے قائمہ کمیٹی نے خلاف ورزی کرنے والے نیوز چینلز، انٹرٹینمنٹ پروگرام اور بچوں سے متعلقہ پروگرام کی تفصیلات طلب کیں تھیں جواب فراہم نہیں کیے گئے ایک ہی لسٹ میں اضافہ کرکے جواب فراہم کر دیا جاتا ہے قائمہ کمیٹی نے معلومات تک رسائی کے بل اور کوڈ آف کنڈکٹ کے بل پر قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق عمل نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کا بل حکومت کی مرضی سے اور تمام سٹیک آف ہولڈر کی مشاور ت اورقائمہ کمیٹی کی انتھک محنت سے ترتیب دیا تھا مگر سپریم کورٹ میں قائمہ کمیٹی کا منظور کردہ بل پیش کرنے کی بجائے وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا بل پیش کردیا گیا ۔جس پر سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے کہا کہ بل کے حوالے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی وزارت ان ممبران پر مشتمل پینل کے ساتھ بلوں کا جائزہ لے کر رپورٹ فراہم کر دی گئی ۔وزیر مملکت اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ بل جو قائمہ کمیٹی نے پاس کیا تھا وہ وزارت کے پاس موجود نہیں ہے سینیٹ سیکرٹریٹ کو اس حوالے سے خط بھی لکھا تھا وہ دستاویز فراہم کردی جائے تو پینل کو آسانی ہو گی۔ٹی وی چینلز کے ریٹنگ سسٹم کے حوالے سے چیئرمین پیمرا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا مانیٹرنگ بہتر کرنے کے حوالے سے معاملات زیر غور ہیں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کیا جارہا ہے اور2ماہ میں موثر سفارشات فراہم کردی جائیں گی جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سسٹم بہتر ہونے سے ادارے فعال کردار ادا کریں گے اور رشوت دے کر بہتر ریٹنگ حاصل کرنے والوں کو روکا جاسکے گا ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ لوگ ورثہ کے ملازمین کو پنشن ادا کردی گئی ہے جس پر رکن کمیٹی کو سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ قائمہ کمیٹی سے غلط بیان کی جارہی ہے قائمہ کمیٹی نے جو سفارشات دیں گئی تھیں ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ابھی بھی 250سے 1000روپے تک پنشن دی جارہی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے تسلیم کیا تھا کہ لوک ورثہ کے ملازمین کو ریگولر بنیادپر پنشن کا طریقہ کار اختیار کرکے پنشن فراہم کی جائے گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ پیمراہر چینل کی ایڈیٹوریل کنٹرول کمیٹی فنکشنل کرائے اور اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور احتسابی سسٹم ادارے ہی میں قائم کیاجائے۔جس پر چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کہا کہ کمیٹیاں قائم ہیں مگر موثر نہیں ہیں تمام چینلز کے اسٹاف کو تربیت دینے کی ضرورت ہے اور کمیٹیوں کا اختیار بہت کم ہے اور ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں عدالتیں چینل کو زیادہ ریلیف دیتی ہیں ہمارے پاس بجٹ کم ہے 2.5کروڑ لیگل ونگ کے لیے بجٹ ہے اور 380کیسز عدالتوں میں ہیں ۔سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں کنٹرولڈ میڈیا کام کررہا ہے ۔سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ بعض اشتہارات میں بچے بڑوں کے ساتھ بد تہذیبی سے پیش آتے ہیں اس سے بچوں کو بد تہزیبی پر اکسایا جارہا ہے بی پی جیلی کی مشہوری میں عدلیہ کا مذاق اڑایا جارہا ہے ایسے اشتہارات فوری طورپر بند کیے جائیں ۔ڈی جی پی این سی اور مشہور اداکار جمال شاہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کا بجٹ بہت کم ہے پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرکے ثقافت فن تعلیمی پروگرام پاکستانی روایات کو فروغ دینے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہیے ہیں یونیورسٹی کالجوں کے لیے پی این سی کے دروازے کھل رہے ہیں۔94فیصد بجٹ انتظامیہ پر خرچ ہوجاتا ہے اور 6فیصد پروگرامز کی پروموشن پر خرچ ہوتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ غیر ملکی پروگرام دکھانے سے ہمیں مسئلہ نہیں ہے مگر ان کی ڈبنگ ہندی کی بجائے پاکستانی زبان میں کی جائے ۔سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں وزارت کے استعمال میں 99گاڑیاں بتائی گئیں تھی اور آج کی بریفنگ میں 172 بتائی جارہی ہیں میرا سوال تھا کہ افسران کے زیر استعمال کتنی گاڑیاں ہیں، پول میں کتنی گاڑیاں ہیں ان کی تفصیلات کمیٹی کوآگاہ کی جائیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا نئی سکیم مونوٹائزیشن کے بعد پٹرول اخرجات میں کتنی کمی ہوئی اس حوالے سے تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی وی نیو ز اینکر کو حراساں کرنے کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 6خواتین اینکر پرسن نے معاملہ بارے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کنٹریکٹ پر کام کر ہی ہیں اور کنٹریکٹ ختم ہونے پر ہمیں کمرے میں بلا کر مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں پھر کنٹریکٹ میں توسیع کی جاتی ہے پرکنٹرولر پی ٹی و ی کے خلاف درخواست دی ہے ان کے خلاف عدالت نے بھی فیصلہ دیا ہوا ہے 1991سے یہ بندہ خواتین کو حراساں کرتا آرہا ہے صرف اس کا تبادلہ کردیا جاتاہے جس سے وہ ہمیں دھمکیاں بھی دیتا ہے سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ خواتین کو حراساں کرنے کا بل پاس ہو چکا ہے محکمہ ایف آئی آر درج کرائے۔ چیئرمین کمیٹی کامل علی آغانے کہا کہ خواتین کی عزت و عظمت کا خیال رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے وزارت معاملہ کا سخت نوٹس لے اور وہ وجہ بھی ختم کرے جس کی بدولت خواتین کا استحصال کیا جاتاہے جس پر وزیر مملکت نے کہا کہ جو عدالت نے ابھی فیصلہ کیا ہے اس پر عملدآمد کرایا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعظم پاکستان کو بھی آگاہ کرکے سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو حراساں نہ کیا سکے۔خواتین اینکرز کو ضرور انصاف دلاؤں گی۔

Related posts