ڈاکٹر یاسمین راشد کا الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

لاہور(نیوزلائن) این اے 120 ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد نے الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد نے کہا کہ فی الحال کسی چیز پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتی، الیکشن کا دن پرسکون رہنے پر فوج اور میڈیا کا شکریہ ادار کرتی ہوں، فوج کی وجہ سے لوگ پرسکون رہے اور آرام سے ووٹ ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے نتائج پر 29 ہزار ووٹوں کا سایہ پڑا ہوا ہے اور اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے بلکہ آخری دم تک اس کا پیچھا کریں گے۔ آج کے انتخاب کا جو نتیجہ بھی آئے الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت ضرور جاؤں گی۔ یاسمین راشد نے کہا کہ پچھلی بار پولنگ اسٹیشنز میں ن لیگ کے لوگ گھس جاتے تھے اس بار ایسا نہیں ہوا، اگر ضمنی انتخاب میں بھی 40 سے42 فیصد ووٹ پڑجائیں تو یہ بہت اچھی بات ہے، اگر میں جیتی بھی تو الیکشن کمیشن کو کہوں گی کہ وہ 29 ہزار ووٹ کی وضاحت کرے، ہماری خواہش ہے کہ الیکشن ہمیشہ صاف اور شفاف ہوں،غلط طریقےسےجیتا گیا الیکشن جمہوریت کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرتا ہے۔ یاسمین راشد نے کہا کہ یہ الیکشن ہے کوئی ہندوستان پاکستان کی جنگ نہیں ہے، جیتنے پر کارکنوں نےاگر فائرنگ کی تو میںِ خود ان کے پیچھے پڑجاوں گی، 9 مہینے میں کوئی معرکہ تو مارنا نہیں ہے لیکن میں اس وقت میں بہت سےکام کرسکوں گی، حلقے کے مسائل کے لیے آواز اٹھا سکتی ہوں اور صحت کے مسائل حل کراسکتی ہوں۔ قبل ازیں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے بیان میں الیکشن کمیشن کے رویے سے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حلقہ این اے 120 کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے میں بہت پرامید ہوں، الیکشن مہم کے دوران گھر گھر گئی، تحریک انصاف شاہی پارٹی نہیں عوام کی پارٹی ہے اسی لیے عوام سے کہوں گی اس بار سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن کمیشن پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے رویے سے مطمئن نہیں ہوں، (ن) لیگ والوں کے پاس جادو کی چھڑیاں ہوتی ہیں جبکہ ہم 29 ہزار ووٹوں کیلئے ہائیکورٹ بھی گئے تھے۔

Related posts

Leave a Comment