کار کی روشنی تیز رکھنے والے کیلیے انوکھی سزا

imagesرات کے اندھیرے میں مخالف سمت سے آنے والی کار کی ہیڈلائٹس اگر پوری طرح جل رہی ہوں تو ان سے لوگوں کو بہت دشواری ہوتی ہے اسی لیے دنیا بھر میں ہیڈلائٹس کی تیز روشنی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اب چین میں اس کے لیے ڈرائیوروں کو انوکھی سزا دی جارہی ہے۔یکم نومبر سے شینزن پولیس نے چین کے مشہور سوشل نیٹ ورک وائیبو پر کہا ہے کہ ہائی بیم روشنیاں کھول کر ڈرائیونگ کرنے والے خواتین و حضرات پر نہ صرف 44 ڈالر کے بقدر جرمانہ کیا جائے گا بلکہ انہیں اپنی کار کی روشنی کو 60 سیکنڈ تک دیکھنا ہوگا اور اس کے لیے انہیں خاص طرح کی کرسی میں بٹھایا جائے گا۔اگرچہ ابتدائی طور پر یہ سزا 2014 میں بھی متعارف کرائی گئی تھی جس پر اس وقت شدید تنقید ہوئی تھی لیکن اب لوگوں نے اس کی تائید کی ہے۔ بلکہ ایک شخص نے تو کہا ہے کہ ایسے ڈرائیوروں کو زیادہ دیر تک روشنیوں کے سامنے بٹھانا چاہیے اور ایک اور چینی باشندے نے سزا پر فوری عمل درآمد پر زور دیا ہے۔ اس طرح 90 فیصد افراد نے یہ سزا دینے کی حمایت کی ہے۔ تاہم اب بھی بعض حلقوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔واضح رہے کہ چینی صوبے شینزن کی پولیس غیرروایتی سزاؤں کی وجہ سے پورے چین میں مشہور ہے۔ اس سے قبل وہ پولیس اہلکاروں کے پتلے بھی ہائی وے پر کھڑے کرچکی ہے اور اپنے عملے میں تلواروں کی شکل کی لاٹھیاں بھی دے چکی ہے

Related posts