کالعدم جماعتوں کا مسئلہ؟

جھنگ میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے کا ضمنی انتخاب عالمی سطح پر دلچسپی کا مرکز بن گیا تھا۔ نتیجہ آیا تو سیاست و صحافت کے ایک حلقے میں وہ ہاہا کار مچی کہ خدا کی پناہ! بلاول بھٹو نے ٹوئٹ کیا‘ نیشنل ایکشن پلان ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ہمارے بعض تجزیہ کار اور کالم نگار دوستوں کے لیے ”آزاد امیدوار‘‘ مسرور نواز جھنگوی کی جیت حیرت اور اذیت کا باعث تھی۔ وہ نیشنل ایکشن پلان کے اس نکتے کا ذکر کر رہے تھے جس کے تحت کوئی کالعدم جماعت‘ کسی اور نام سے بھی کام نہیں کر سکتی۔ مسرور نواز جھنگوی کو ”اہلسنت والجماعت‘‘ کی حمایت حاصل تھی‘ ”سپاہ صحابہ‘‘ پر پابندی لگی تو اس کے وابستگان نے ”اہلسنت والجماعت‘‘ کا نام اختیار کر لیا بعد میں یہ بھی ”کالعدم ‘‘ قرار پائی۔
نائن الیون کے بعد ڈکٹیٹر نے واشنگٹن سے آنے والی ٹیلی فون کال پر سولو سوپر کی مکمل اطاعت شعار کر لی تھی(حالانکہ وہ ڈرتا ورتا کسی سے نہ تھا۔) اس کے بقول اس خود سپردگی کے ذریعے اس نے پاکستان کے ایٹمی اثاثے اور کشمیر کاز کو محفوظ کر لیا تھا۔ ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اس نے ڈاکٹر قدیر سے ساری دنیا کے سامنے معافی منگوانے کے علاوہ‘ انہیں ذلت آمیز نظر بندی سے بھی دوچار کیا۔ ان کی صاحبزادیاں بھی‘ تلاشی کے عمل سے گزرے بغیر باپ کی دہلیز پار نہیں کر سکتی تھیں۔ ایک دفعہ یوں بھی ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی لاڈلی کی آمد کی اطلاع پا کر دروازے پر پہنچ گئے جہاں اس کے ہینڈ بیگ کی ایک ایک چیز چیک کی جا رہی تھی۔ باپ کے دروازے پر بیٹی کے ساتھ اس ذلت آمیز سلوک پر پیمانۂ صبر چھلک گیا، محسنِ پاکستان چیخ اٹھے‘ تم لوگ مجھے قتل کیوں نہیں کر دیتے؟
اور کشمیر کاز کا” تحفظ ‘‘یوں ہوا کہ دکانوں سے کشمیر فنڈ کے ڈبے تک اٹھا دیئے گئے ‘ کشمیریوں کی حمایت میں بینر اتروا دیئے گئے‘ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ایٹمی دھماکوں کی یادگار چاغی کا ماڈل مسمار کر دیا گیا‘ وفاقی دارالحکومت میں یہی سلوک ”غوری‘‘ کے ماڈل کے ساتھ ہوا۔مقبوضہ کشمیر کی آل پارٹیز حریت کانفرنسمیں انتشار کے بیج بوئے گئے۔2004ء میں واجپائی کی آمد پر اسلام آباد ڈیکلریشن میں پاکستان کی سرزمین سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو ایکسپورٹ نہ کرنے کے قول اقرار اور کشمیر پر پاکستان کے تاریخی موقف سے انحراف کے ساتھ نت نئے فارمولے پیش کیے گئے (بے نظیر سے تو راجیو گاندھی کی آمد پر صرف کشمیر ہائوس کا بورڈ ہٹانے کا گناہ سرزد ہوا تھا۔)
مختلف تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ بھی دلچسپ تھا۔ واشنگٹن سے فہرست آتی اور اس میں درج تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیدیا جاتا۔ ان میں ”رابطہ ٹرسٹ‘‘ بھی تھا ۔ جنرل ضیاء الحق نے بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں
(1971ء میں پاک فوج کا ساتھ دینے والے بہاریوں) کو پاکستان لانے کے لیے رابطہ عالم اسلامی کو بھی ”انوالو‘‘ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لیے رابطہ ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا اور طے پایا کہ محصورین کی واپسی اور پاکستان میں آباد کاری کے اخراجات میں نصف حکومتِ پاکستان اور نصف رابطہ عالم اسلامی کے ذمے ہو گا۔ صدرِ پاکستان”بر بنائے عہدہ‘‘ اس کے چیئرمین قرار پائے۔ نواز شریف کے پہلے دور میں اوکاڑہ اور میاں چنوں میں بہاری کالونیوں کی تعمیر اسی فنڈ سے ہوئی(وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں نے اس میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔) محصورین کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا تھا کہ نواز شریف حکومت برطرف ہو گئی۔ بعد میں محصورین کی واپسی کا عمل سیاست کی نذر ہو گیا ۔ اوکاڑہ اور میاں چنوں کی بہاری کالونیاں کھنڈر بنتی جا رہی ہیں۔
تب صدر پاکستان کی حیثیت سے جنرل مشرف رابطہ ٹرسٹ کے چیئرمین تھے ۔واشنگٹن سے آمدہ فہرست میں رابطہ ٹرسٹ بھی تھا؛ چنانچہ یہ بھی کالعدم قرار پایا۔ پابندی کی شکار‘ مذہبی شناخت رکھنے والی تنظیموں میں ”جہادی‘‘ بھی تھیں جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے دوران جنم لیا۔ افغانستان سے سوویت انخلاء کے بعد کشمیر ان کی تگ و تاز کا مرکز تھا۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے‘ اوپن سیکرٹ کہ نائن الیون سے پہلے یہ تنظیمیں ہمارا”اثاثہ‘‘ تھیں ۔فرقہ واریت سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔
فرقہ ورانہ مسلح تنظیموں میں سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کے علاوہ تحریک فقہ جعفریہ کو بھی شمار کیا گیا۔ سپاہ صحابہ پابندی سے پہلے ہی دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ اس کے انتہا پسند”لشکر جھنگوی‘‘ کے نام سے الگ ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ پاکستانی طالبان کا حصہ بن گئے۔ ادھر”سپاہ محمد‘‘ میں بھی دھڑے بندی نے جنم لیا اور اس کی قیادت باہمی ”خانہ جنگی‘‘ کا شکار ہو گئی۔ مسلح کارروائیوں سے الگ تھلگ تحریک فقہ جعفریہ، ایک سیاسی جماعت تھی، پابندی لگی تو یہ علامہ ساجد نقوی کی زیر قیادت ”تحریک اسلامی‘‘ ہو گئی۔ یہ 2002ء کے الیکشن میں حصہ لینے اور صوبہ سرحد میں حکومت بنانے والی متحدہ مجلس عمل کا حصہ تھی۔ علامہ ساجد نقوی، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا سمیع الحق اور پروفیسر ساجد میر کے شانہ بشانہ موجود ہوتے۔
حافظ سعید صاحب کی لشکرِ طیبہ کالعدم ہوئی تو انہوں نے جماعۃ الدعوہ کے نام سے اپنی دعوتی اور فلاحی سرگرمیاں جاری رکھیں، بعد میں ”الدعوہ‘‘ بھی پابندی کی زد میں آ گئی۔ آج کل حافظ صاحب اور ان کے کارکن فلاح انسانیت فائونڈیشن کے نام سے سرگرم ہیں۔ سپاہ صحابہ علامہ محمد احمد لدھیانوی کی قیادت میں ”جماعت اہلسنت‘‘ ہو گئی۔ یہ حافظ سعید کی زیر قیادت دفاع پاکستان کونسل کا فعال حصہ ہے، کونسل کے سٹیج پر علامہ لدھیانوی بھی مولانا سمیع الحق، شیخ رشید، اعجاز الحق اور(جنرل حمید گل کے صاحبزادے) عبداللہ گل کے پہلو بہ پہلو موجود ہوتے ہیں۔جھنگ کے حالیہ ضمنی انتخاب میں مولانا لدھیانوی بھی امیدوار تھے۔ وہ نا اہل قرار پائے تو مولانا مسرور نواز جھنگوی نے ان کی جگہ لے لی(وہ لدھیانوی صاحب کے کورنگ کینڈیڈیٹ تھے) لدھیانوی صاحب نے ان کے لیے دن رات ایک کر دیا،ڈور ٹو ڈور مہم چلائی۔ 20دن بعد عدالت نے مولانا لدھیانوی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اب مسرور جھنگوی ہی لدھیانوی صاحب کے امیدوار تھے۔ یہ نشست مسلم لیگ(ن) کی راشدہ یعقوب کی نا اہلی پر خالی ہوئی تھی اور اب آزاد ناصر انصاری مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے۔ پیپلز پارٹی نے سرفراز ربانی کو امیدوار بنایا اور ان کے حق میں زبردست مہم چلائی، اس کے لیے جناب یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ اور شہلا رضا(سندھ اسمبلی ڈپٹی سپیکر) بھی جھنگ پہنچے۔ پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ عارفہ مجید کے پاس تھا۔انتخابی نتائج کے مطابق مسرور نواز جھنگوی 48,562 ووٹوں کے ساتھ یہ معرکہ جیت گئے۔ مسلم لیگ (ن)35,469 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی (تقریباً 13 ہزار کا مارجن) پیپلزپارٹی صرف 3671 ووٹ حاصل کر پائی۔ پی ٹی آئی کے حصے میں 2821 ووٹ آئے۔ طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک بھی میدان میں تھی، جھنگ قادری صاحب کا ”آبائی وطن‘‘ ہے، حیرت ہے، ان کا امیدوار صرف ایک سو کے لگ بھگ ووٹ حاصل کر پایا۔
”کالعدم‘‘ قرار پانے والی جماعتوں کا معاملہ دلچسپ ہے۔ان پر کسی اور نام سے بھی کام نہ کرنے کی پابندی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اِن میں سے جنہوں نے پابندی کا حکم تسلیم کر لیا اور وہ آئینی و قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہتی ہیں، ان کے ساتھ کیا سلوک ہو؟ پاکستانی طالبان سے ہمارا یہی مطالبہ تھا کہ واپس لوٹ آئیں۔ ”بلٹ‘‘ کی بجائے ”بیلٹ‘‘ اور ”بندوق‘‘ کی بجائے ”صندوق‘‘(بیلٹ بکس) کو تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔ ”ناراض بلوچوں‘‘ سے بھی ہمارا مطالبہ یہی ہے۔ اس کے لیے ہم انہیں فی کس 5لاکھ سے 15لاکھ تک ”ہدیہ‘‘ بھی دینے کو تیار ہیں۔ اگر مولانا لدھیانوی جیسے لوگ ”سسٹم‘‘ کے اندر رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کا راستہ بند کیوں کیا جائے؟ مسرور نواز جھنگوی کے 48,562ووٹر بھی پاکستان کے شہری ہیں۔ کیا انہیں ووٹ کے حق سے محروم کر دیا جائے؟

رؤف طاہر

Related posts