کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری‘25کے روک لئے گئے


اسلام آباد(حامدیٰسین)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے تاہم عمران خان کا تین حلقوں سے مشروط نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے‘ سابق سپیکر ایاز صادق اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پرویز خٹک کے بھی مشروط نوٹیفکیشن جاری کئے گئے ہیں۔ عمران خان کے دو حلقوں سمیت قومی اسمبلی کے 9اور صوبائی اسمبلیوں کے 16حلقوں کے نوٹیفکیشن روک لئے گئے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018کے کامیاب امیدواروں کا باضابطہ اور سرکاری نتیجہ اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 25ارکان اسمبلی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔ قومی اسمبلی کے 9‘ پنجاب اسمبلی کے پانچ‘ سندھ اسمبلی کے 6‘ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے تین اور بلوچستان اسمبلی کے دو ممبران کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔ ووٹ کا تقدس پامال کرنے کے معاملے کی انکوائری زیرالتوا ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے این اے 53سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا ہے۔ عمران خان کا این اے 131لاہور سے بھی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا گیا ہے ۔ یہ نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے ۔ یہاں سے ناکام امیدوار خواجہ سعد رفیق کی رٹ پر لاہور ہائیکورٹ نے دوبارہ گنتی کرنے اور عمران خان کا اس حلقے سے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ خیبر پختونخواہ سے قومی اسمبلی کے کسی حلقے کا نوٹیفکیشن نہیں روکا گیا۔ سرگودھا کے دو حلقوں این اے 90اور این اے 91کے نوٹیفکیشن بھی ہائیکورٹ کے حکم پر روک لئے گئے ہیں ۔غیرحتمی نتائج میں این اے 90سے مسلم لیگ ن کے حامد حمید اور این اے 91سے مسلم لیگ ن کے ذوالفقار علی بھٹی کامیاب ہوئے تھے۔ این اے 108کا نوٹیفکیشن بھی روک لیا گیا ہے ۔ غیرحتمی نتائج میں تحریک انصاف کے فرخ حبیب کامیاب ہوئے تھے مگر مسلم لیگ ن کے عابد شیر علی نے ہائی کورٹ میں دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی جس پر ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی امیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا۔ این اے 112سے مسلم لیگ ن کے جنید انوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی روکدیا گیا ہے۔یہاں سے پی ٹی آئی امیدوار چوہدری اشفاق کی طرف سے دھاندلی اور بے ضابطگیوں کی درخواست پر ہائیکورٹ نے دوبارہ گنتی کا حکم دے رکھا ہے ۔این اے 140سے تحریک انصاف کے طالب نکئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی عدالتی حکم پر روک دیا گیا ہے۔ این اے 215سانگھڑ سے پی پی پی پی کے نوید ڈیرو کا نوٹیفکیشن سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 271سے بلوچستان عوامی پارٹی کی امیدوار سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن نے خود روکا ہے۔ اس بارے واضح کیا گیا ہے کہ زبیدہ جلال نے اپنے انتخابی اخراجات جمع نہیں کروائے۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 76سرگودھا سے پی ٹی آئی کے فیصل فاروق چیمہ کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ پی پی 118ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مسلم لیگ ن کے خالد جاوید وڑائچ کا نوٹیفکیشن بھی ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ پی پی 123پیرمحل ٹوبہ سے پی ٹی آئی کی سونیا کا نوٹیفکیشن بھی ہائیکورٹ کے حکم پر روک دیا گیا ہے۔ پی پی 177قصور سے پی ٹی آئی کے ہاشم ڈوگر کا نوٹیفکیشن بھی ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ پی پی 296راجن پور سے تحریک انصاف کے امیدوار محمد طارق دریشک کی وفات کی وجہ سے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 29خیرپور سے جی ڈی اے کے امیدوار محمد رفیق کا نوٹیفکیشن سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر روک دیا گیا ہے۔ پی ایس 36نوشیروفیروز سے جی ڈی اے کے عارف جتوئی کا نوٹیفکیشن بھی عدالتی حکم پر روکدیا گیا ہے۔ پی ایس 48میرپور خاص سے پی پی پی پی کے ذوالفقار علی شاہ کا نوٹیفکیشن بھی عدالت کے حکم پر روکا گیا ہے۔ پی ایس 54تھرپارکر سے جی ڈی اے کے عبدالرزاق کا نوٹیفکیشن بھی ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ پی ایس 73بدین کا نتیجہ ابھی مکمل نہیں ہوسکا اور نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔ غیرحتمی نتائج میں یہاں سے پی پی پی پی کے تاج محمد کامیاب ہوئے تھے۔ پی ایس 82جامشورو سے پی پی پی پی کے ملک اسد سکندر کا نوٹیفکیشن بھی سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 4سوات کا نتیجہ الیکشن کمیشن نے دوبارہ گنتی کی وجہ سے روکا ہے۔ یہاں سے غیرحتمی نتیجہ میں پی ٹی آئی کے عزیزاللہ کامیاب ہوئے تھے۔ پی کے 23شانگلہ کا نوٹیفکیشن بھی الیکشن کمیشن نے روک لیا ہے۔ یہاں سے پی ٹی آئی کے شوکت یوسفزئی غیرحتمی نتیجہ میں کامیاب ہوئے تھے تاہم خواتین کے ووٹ دس فیصد سے کم ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ پی کے 38ایبٹ آباد سے پی ٹی آئی کے حاجی قلندر خان کا نتیجہ ہائیکورٹ کے حکم پر روکا گیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 36شہید سکندرآباد کا نتیجہ آزاد امیدوار نعمت اللہ زہری کے انتخابی اخراجات کی تفصیل جمع نہ کروانے کی وجہ سے روکا گیا ہے۔ پی بی 41واشک کا نوٹیفکیشن بھی الیکشن کمیشن نے روکا ہے۔ غیرحتمی نتیجہ میں اس حلقہ سے ایم ایم اے کے زاہد علی کامیاب ہوئے تھے۔

Related posts