کراچی : ہوٹل میں آگ سے ڈاکٹروں سمیت 11 جاں بحق,75زخمی


کراچی (نیوزلائن)کراچی کی شاہراہ فیصل پر جناح ہسپتال کے قریب ہوٹل ریجنٹ پلازہ میں لگنے والی آگ تین خواتین , دو ڈاکٹروں سمیت 11افراد جاں بحق اور 70زخمی ہو گئے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شارع فیصل پرواقع نجی ہوٹل کے گراﺅنڈ فلور پررات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اوپری منزلوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا اوردم گھٹنے کے باعث3 ڈاکٹروں او رہوٹل منیجر سمیت11افراد جاں بحق ہو گئے ، حادثے میں خواتین سمیت 70افراد زخمی ہیں جنہیں جناح ہستپال منتقل کر دیا گیا ہے ۔ فائربریگیڈ نے آگ پر قابوپا لیا ہے ۔ امدادی کاموں میں پاک آرمی کے دستوں نے بھی حصہ لیا۔ہوٹل میں دو سو کے قریب ملکی اور غیرملکی ڈاکٹر بھی موجود تھے جو سیمینار میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔چیف ریسکیو آفیسر کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر سیمی جمالی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ زیادہ ہلاکتیں دم گھنٹے کی وجہ سے ہوئیں جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں 3 ڈاکٹر بھی شامل ہیں اور زیر علاج افراد میں غیر ملکی بھی شامل ہیں تاہم جاں بحق افرادمیں کوئی غیرملکی شامل نہیں ہے۔جاں بحق ہونے والوں میںڈاکٹررحیم سولنگی،وقاص،حامد،محمدحسین،ہوٹل انتظامیہ کاالیاس بابرشامل ہیں۔ کراچی کے نجی ہوٹل میں آتشزدگی سے کرکٹرز بھی متاثر ، یاسم مرتضیٰ نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی ، پاﺅں میں فریکچر ذرائع کا کہناہے کہ آگ لگنے کے فوری بعد فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو طلب کیا گیا۔ فائر برگیڈ کی 3 گاڑیوں نے ابتدائی طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ آگ لگنے کے باعث دھوئیں کے باعث شدید دھوئیں سے کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ آگ کی شدت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے شہربھر کی فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو طلب کر لیا گیا۔ فائربریگیڈ نے آگ پر قابو پایا جن میں پاک آرمی کے اسنارکل بھی شامل تھے۔ ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اور میئر کراچی وسیم اختر اطلاع ملتے ہی امدادی کاموں کا جائزہ لینے ہوٹل پہنچے۔ آگ پر چار گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا گیا ۔ امدادی کارروائیوں میں پاک فوج ، رینجرز ، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا ۔ کراچی میں آتشزدگی کا ایک اور دلخراش واقعہ کئی قیمتی جانیں لے گیا ۔ آگ رات تین بجے کے قریب شاہراہ فیصل پر واقع ہوٹل ریجنٹ پلازہ کے کچن میں لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہوٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا ، جان بچانے کیلئے کوئی ادھر بھاگا تو کوئی ادھر ، آگ نے کسی کو نکلنے کی مہلت بھی نہ دی ، متعدد لوگوں نے پردوں سے لٹک کر اترنے کی کوشش کی ۔ آگ لگنے کی وجہ سے دھواں ہر طرف پھیل گیا ۔ ریسکیو ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں ۔ دھواں نکالنے کے لیے کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑے گئے ، امدادی کاموں میں پاک فوج ، پاک نیوی ، رینجرز ، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا ۔ میئر کراچی وسیم اختر بھی جائے حادثہ پر پہنچے ، ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں کوئی ہنگامی راستہ موجود نہیں تھا ، آتشزدگی کے واقعے میں 75 افراد زخمی ہوئے جنہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زیادہ تر اموات دم گھٹنے سے ہوئیں ، جاں بحق ہونیوالوں میں دو ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ۔ آگ پر قابو پانے کے بعد رینجرز اور پولیس نے ہوٹل کی سیکورٹی سنبھال لی ، کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔

Related posts