کرپشن‘بدانتظامی‘استحصال :ڈویژنل ماڈل کالج تماشاگاہ بن گیا


فیصل آباد(احمد یٰسین)ڈویژنل ماڈل کالج فیصل آباد کو نئے پرنسپل نے تماشا گاہ بنا دیا۔فنڈز میں کروڑوں روپے کی کرپشن‘ اپنوں کو نوازنے‘ طلبہ و اساتذہ کا بڑے پیمانے پر استحصال اورانتظامی امور میں پرنسپل کی نااہلی کے سبب کالج و سکول کے تمام معاملات ٹھپ رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پرنسپل کے ظالمانہ روئیے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اساتذہ نے امتحانات کا بائیکاٹ کیا ‘ معاملہ بات چیت سے حل کئے جانے کی بجائے دست و گریباں ہونے تک جا پہنچا۔ نیوزلائن کے مطابق کمشنر فیصل آباد مومن علی آغا کے زیر کنٹرول چلنے والے ڈویژنل ماڈل کالج فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدانتظامی کے مظاہرے سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرنسپل ظہیر احمد جان اور کمشنر مومن آغا کے گٹھ جوڑ سے روایات کے امین اس ادارے میں انتظامی و تدریسی امور مسلسل انحطاط کا شکار ہوئے ہیں۔ پرنسپل اور چیئرمین بورڈ آف گورننگ نے باہمی گٹھ جوڑ سے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا نہ سالانہ انکریمنٹ دی گئی۔ ڈی ایم سی کے اساتذہ نے حقوق کے حق میں احتجاج کیا اور امتحانات کا بائیکاٹ کردیا تو معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی بجائے اساتذہ اور ان کے لواحقین کو دھمکیوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا گیا۔ خواتین اساتذہ کیساتھ بے ہودہ زبانی اور غیرمناسب روئیے کی شکایات بھی عام ہیں۔ طلباء‘ طالبات اور انکے والدین کیساتھ بھی بے ہودہ گفتار اور آمرانہ طرز برتاؤ رکھا جاتا ہے۔ سکول کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کرپشن اور چند مخصوص خدمات سرانجام دینے والے چار اساتذہ کو غیرضروری مراعات اور اضافی رقوم دئیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔اس تمام صورتحال میں یہ مطالبہ سامنا آرہا ہے کہ ڈویژنل ماڈل کالج فیصل آباد کو کمشنر اور گورننگ باڈی کے کنٹرول سے واپس لے کر پنجاب حکومت اسے محکمہ تعلیم کے حوالے کرے تا کہ اس انتظامی معاملات میں بہتری لائی جا سکے۔

Related posts