کریسنٹ ٹیکسٹائل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ ٹیکس چوری میں ملوث نکلی


فیصل آباد(احمد یٰسین)ملک کا معروف صنعتی گروپ کریسنٹ ٹیکسٹائل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث نکلا۔ ایف بی آر حکام نے ٹیکس چوری پکڑ کروصولی کیلئے نوٹس بھی جاری کردئیے ہیں۔تاہم بااثر گروپ اپیلوں اور حکم امتناعی کا سہارا لے کر چوری کیا گیا ٹیکس ہضم کرنے کیلئے سرگرم ہے۔نیوزلائن کے مطابق کریسنٹ ٹیکسٹائل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث پایا گیا ہے۔کریسنٹ ٹیکسٹائل کے جمع کروائے گئے گوشواروں کا جائزہ لینے پر ایف بی آر حکام کے سامنے آیا کہ کریسنٹ کا سال 2011کا جمع کروایاگیا ٹیکس انتہائی کم تھا۔ گوشواروں کا تفصیلی آڈٹ کرنے پر کریسنٹ ٹیکسٹائل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کا صرف سال 2011کا چھپایا گیا ٹیکس چھے کروڑ42لاکھ 47ہزار 697روپے بنا۔ ایف بی آر نے 15اگست 2017ء کو این ٹی این نمبری 0710140-6رکھنے والی کمپنی کریسنٹ ٹیکسٹائل انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھے کروڑ 42لاکھ 47ہزار 697روپے کا ٹیکس ادا کرنے کا نوٹس دیا۔ ایف بی آر حکام پر احسان عظیم کرتے ہوئے 22اگست کو کریسنٹ کے مالکان نے ٹیکس ادائیگی کا نوٹس وصول کر لیا۔مگر ملک و قوم کا درد رکھنے والی اہم سیاسی شخصیت کے ملکیتی اس گروپ نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ٹیکس ادائیگی یقینی بنانے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیا۔ پونے سات کروڑ ے لگ بھگ کی ٹیکس چوری پکڑے جانے پر بھی سابق وفاقی وزیر کے اس گروپ نے چوری پر شرمندہ ہونے کی بجائے چوری اور سینہ زوری سے کام لینا شروع کر دیا۔ ٹیکس ادائیگی کی بجائے اپیلوں ‘ پھر اپیلوں اور پھر اپیلوں کے گنجلک چکروں میں معاملہ الجھانا شروع کردیا۔ پورے انکوائری عمل کے دوران ایف بی آر حکام سے انکوائری میں مسلسل تعاون سے انکار کرنے والے گروپ نے اپنی ٹیکس چوری ثبوتوں کیساتھ پکڑے جانے پر محکمے کو اپیل در اپیل الجھانے کا سلسلہ شروع کردیا۔کریسنٹ انڈسٹریز نے ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو کو درخواست دی اور ساتھ ہی کمشنر ان لینڈ ریونیو کو نظر ثانی کی درخواست دائر کردی۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ بااثر اپیل کنندہ کو حکم امتناعی تھما دیا۔ کمشنر نے قواعد کے مطابق اپیل کنندہ سے اسیسمنٹ کا ایک چوتھائی وصول کرنا بھی ضروری نہ سمجھا اور 25فیصد ادائیگی کے بغیر ہی بااثر گروپ کو حکم امتناعی دے کر کھل کھیلنے کی اجازت دیدی۔

Related posts