کمسن لڑکی جو 43ہزار مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنی

انسانی تاریخ ہولناک جرائم کے ذکر سے بھری پڑی ہے لیکن جو بربریت میکسیکو سے تعلق رکھنے والی ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ کی گئی اس کی مثال شاید ہی مل سکے۔ کارلا جسنتو صرف 12 سال کی تھیں جب انہیں اغوا کرلیا گیا اور درندہ صفت مجرموں نے ان کی عصمت دری کے بعد انہیں جسم فروشی کے دھند ے میں جھونک دیا۔ اگلے 4سالوں کے دوران انہیں قید میں رکھا گیا اور روزانہ تقریباً 30 افراد انہیں ہوس کا نشانہ بناتے رہے۔
کارلا کا کہنا ہے کہ ان سے جسم فروشی کروانے والا گروہ تمام گاہکوں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب رکھتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی عصمت دری کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں چار سال کے دوران 43ہزار 200 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کارلا کی دردناک داستان گزشتہ سال پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی جب امریکی ٹی وی سی این این نے ان کا انٹرویو کیا۔
کارلا نے بتایا کہ جنسی غلامی میں گزارے چار سال ان کی زندگی کا خوفناک ترین دور تھے۔ ان کا کہنا تھا ”صبح 10 بجے سے میری آبرو ریزی کا آغاز ہوجاتا اور یہ سلسلہ آدھی رات تک جاری رہتا۔ میری عزت سے کھیلنے والے اکثر مرد مجھے روتا ہوا دیکھ کر ہنسا کرتے تھے۔ میں آنکھیں بند کرلیا کرتی تھی تاکہ اپنے ساتھ ہونے والی درندگی کو دیکھ نہ سکوں۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اس عذاب سے کبھی نہیں نکل پاﺅں گی کیونکہ میری آبرو ریزی کرنے والوں میں پولیس والے، جج اور حتیٰ کہ پادری بھی شامل تھے۔ میں سوچتی تھی کہ نکل کر جاﺅں گی بھی تو کس کے پاس۔“ کارلا کی خوش قسمتی تھی کہ میکسیکو میں کئے جانے والے ایک بڑے اینٹی ٹریفکنگ آپریشن کے دوران انہیں جنسی غلام بنانے والا گروہ بھی پکڑا گیا اور بالآخر چار سال تک ظلم سہنے کے بعد انہیں آزادی مل گئی۔ اس وقت ان کی عمر 16 سال تھی۔
اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ناقابل تصور بربریت کا سامنا کرنے والی اسی لڑکی نے ظالموں سے نجات پانے کے بعد ایسا فیصلہ کیا ہے کہ دنیا کے لئے عزم و ہمت کی مثال بن گئی۔ اس نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر خاموش رہنے کی بجائے ظالموں کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا اور یوں بدترین دردنگی کا نشانہ بننے والی یہ لڑکی دوسروں کے لئے سہارا بن گئی ہے۔ کارلا نے اپنے بھیانک تجربے سے مایوس ہونے کی بجائے دوسروں کو حوصلہ دینے کی مہم شروع کردی ہے۔ وہ انسانی سمگلنگ اور جبری جسم فروشی کے شکار افراد کی مدد کے لئے سرگرم ہیں۔ وہ انہیں اپنی مثال سے بتارہی ہیں کہ ظلم کے بادل بالآخر چھٹ جاتے ہیں اور امید کا دامن تھامے رکھنے والے سرخرو ہوتے ہیں۔

Related posts