کوئی شرم ہوتی ہے، حیاہوتی ہے

بھلے زمانے تھے ۔۔۔۔۔ بھلے وقت ، دیہاتوں گاؤں میں چوپالیں جمتی تھیں۔۔۔۔۔ ان چوپالوں میں لسی، گڑ ، حلوہ یا گھر کی بنی پنیاں تواضح کے لئے پیش کر دی جاتیں ! ساگ ، مکھن گھر سے آ جاتے ، جو دال دلیا پکا ہوتا تندور کی روٹی کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ۔۔۔۔۔ آنے والے مہمان ، میزبان آرام سے بھگت جاتے ۔۔۔۔۔ ایسی چوپالیں شہر میں آئیں تو بیٹھکوں کی شکل اختیار کر لیتیں، محلوں کے چوکوں میں چوباروں میں محفلیں جم جاتیں ۔۔۔۔۔ نہر کنارے عورتوں کی منڈلؒی جم جاتی ۔۔۔۔ میٹھے پانی کا نلکا یا تندور عورتوں کی محفل و خبر رسانی کا ادارے کا کام سر انجام دیتا ! یہ محفلیں نہ صرف سماج کی عکاس تھیں بلکہ انسان کی بنیادی ضرورت کا اظہار بھی تھیں ۔۔۔۔ کہ اسے اپنے جیسے لوگوں کی صحبت درکار ہے ۔۔۔۔۔ اسے کہہ دینے کی آرزو ہے ! یہ چوپالیں انسان کو انسان سے جوڑے بھی رکھتیں اور اک دوسرے کے مسائل سے آگاہی کا باعث بن جاتیں ۔۔۔۔۔ سو گر آپ کے ہمسائے کو ضرورت پڑتی تو وہ آپ کی اجازت سے دیوار پار کر کے آپ کے آنگن میں اپنی “منجھی پیڑھی ڈھا” کر آرام سے سو سکتا تھا۔۔۔۔ مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے وقت اک اندھی چھلانگ لگا کر اک نئے دور اک نئے عہد میں داخل ہو گیا۔۔۔۔ یہ نیا دور کمپیوٹرایج ۔۔۔۔۔ نیٹ کی دنیا کا تھا ۔۔۔۔۔ اور ہے ۔۔۔۔ اس نے پوری دنیا کو حقیقت میں گلوبل ویلج میں بدل دیا ہے ! اس گلوبل ویلج ۔۔۔۔۔ اس دنیاوی گاؤں کی بیٹھکیں اور چوپالیں اب سوشل میڈٰا کی زینت ہیں ! یہ بیٹھکیں کبھی واٹس ایپ کے گروپ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔۔۔۔ کبھی سنیپ چیٹ ۔۔۔۔۔ کبھی انسٹا گرام اور سب سے معروف زمانہ فیس بک ہے ! فیس بک یوں تو ہماری اس حقیقی دنیا کے عین مترادف مثالی دنیا ہی تخلیق ہونی ہے ! اک عالم تمثیل۔۔۔۔۔ جو ہوا کے دوش پر سفر کرتے سگلنز کی بنیاد پر قائم ہوا تھا ۔۔۔۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس اصول و ضوابط بھی آپ کی حقیقی دنیا سے ملتے جلتے ہوتے !

مگر ہوا یہ کہ اس دنیا کے رنگ ڈھنگ تو نرالے ہی نکلے ! سوچتی ہوں جنت بھی اک عالم تمثیل ہے جو کسی مارک زیوک برگر کی بنائی نہیں ۔۔۔۔۔ آپ کی میری تخلیق نہیں بلکہ اس رب کریم و جمیل کے جمال کا شاہکار ””’ وہاں بنی آدم کے لیے کتنے جھٹکے اور کتنی حیرتیں منتظر ہوں گی ؟ آپ دیکھئے نہ آپ کی اس سگنلز کی بنیاد پہ بنی ،تخلیق کی ہوئی دنیا کے ضابطے بھلا کتنے انوکھے اور عجیب ہیں ؟ گر ان کو ہم حقیقی دنیا پہ منطبق کریں تو لوگ آپ کو پاگل خانے کا مفرور سمجھنا شروع کر دیں گے ! بھلا دیکھیے نہ گر آپ کے گھر کے دروازے کے باہر پاگل خانہ ، خبیث عورت ، ذہنی مریض ،پری چہرہ، ناکام محبت ، دیمک زدہ محبت وغیرہ وغیرہ قسم کے القابات لکھے ہوں تو دو ہی صورتیں ممکن ہیں ۔۔۔۔۔ یا تو لوگ آپ کی گلی کے پاس سے بھی گزرنا چھوڑ دیں گے یا پھر آ ۤپ کی گلی کی زیارت کرنے آیا کریں گے کہ یہ دیکھو یہاں اک “نمونہ” رہتا ہے ! مگر بھلا ہو فیس بک کا ، یہاں آپ کو ہر طرح کے نمونے بغیر کسی حیرت کے دستیاب ہوں گے ! یہاں پنجابی حسینہ بھی ہے اور شرارتی کڑی بھی پریٹی ڈول بھی اور دیسی و ولایتی منڈا بھی دستیاب ہے ! جو ضدی بھی ہو جاتا ہے ! اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ بغیر کسی حیرت و اعتراض کے پورے طمطراق سے موجود ہیں ! یہی نام بھلا آپ حقیقت میں رکھ کر دیکھئے ، لوگ آپ کی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ آپ کی جنس کے بارے بھی مشکوک ہو جائیں گے ! اسی طرح ذرا سوچئے کہ گر آپ کا پڑوسی بھی بغیر اجازت اپنی منجھی پیڑھی آپ کے آنگن میں بچھا کر بیٹھ جائے تو آپ کو کتنا ناگوار لگے گا ؟ کجا یہ کہ یہ منجھی پیڑھی قطعی انجان و اجنبی کی ہو ؟! تو آپ اک بار تو شانہ ہلا کر پوچھیں گے ” میاں کس پاگل خانے سے بھاگ کر آئے ہو؟؟” مگر بھلا ہو آپ کی اس کتاب چہرہ نیٹ کی دنیا کا جس نے ساری دنیا کو سچ مچ پنڈ کا ڈیرہ بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔ اور جس کا جی چاہتا ہے وہ بغیر کسی تکلف کے بغیر کسی اجازت کے آپ کے “وال ” یعنی دیوار سے چھلانگ مار ۔۔۔۔۔ آپ کے آنگن میں ڈیرہ ڈال لیتا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی ٹیگنگ پر ٹیگنگ ۔۔۔۔۔

آپ اس ٹیگنگ سے ناک میں دم تک آ کر کوئی پوسٹ لگاتے ہیں جن میں ان ٹیگرز کی دراندازی سے پناہ و معافی طلب کی جاتی ہے تو یہ درانداز آپ کی اس جسارت کا اتنا برا مناتے ہیں کہ آپ کی وال ۔۔۔۔۔آپ کے آنگن کے بعد ۔۔۔۔۔۔ ان باکس یعنی آپ کے ” بیڈ روم” کا دروازہ کھٹکھٹانے لگتے ہیں! ان باکس میں بلا تکلف آپ کو برا بھلا کہا جائے گا ۔۔۔۔۔ کچھ جی دار بلا تخصیص مرد و زن ۔۔۔۔۔ فلرٹ کرنے پر اتر آئیں گے ۔۔۔۔۔ جانے پہچانے بغیر آپ کو خؤبصورت پھول اور اشعار کے تحفے ملنا شروع ہو جائیں گے ! صبح صبح بیڈ ٹی پیش کی جائے گی ! اور رات گئے آپ کو شب بخیر کی دستک بھی سنائی دئیے جائے گی ! موڈ اچھا ہو تو کبھی کبھار یہ جسارتیں یہ حماقتیں ہنسنے پہ مجبور کر دیتی ہیں ۔۔۔۔۔ ورنہ اکثر و بیشتر تو دل یہی چاہتا ہے کہ پوچھا جائے ” میاں کس پاگل خانے سے آئے ہو؟؟” ان ٹیگرز سے گھبرا کر ۔۔۔۔ ان کی پوسٹس کی کثرت سے گھبرا کر کسی وقت منہ سے یہ بھی نکل جاتا ہے ” دسو ۔۔۔۔۔ہن میں اپنی منجھی کتھے ڈھواں؟؟” پھر یہاں ایسے ایسے فارغ البال اور تخلیقی وفور میں بھیگے لوگ موجود ہیں ۔۔۔۔۔ جن پہ ہر آدھے گھنٹے اور گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ نازل ہوتا ہے اور وہ اسے آپ کے ساتھ ٹیگ کرنا عین کار ثواب سمجھتے ہیں ! اور اگر آپ نے اس کے باوجود ان کی پوسٹ کو در خود اعتنا نہیں بخشا تو آپ یاد رکھیے، آپ کے ان باکس یعنی آپ کے بیڈ روم کی کھڑکی پہ بار بار دستک ہوگی ۔۔۔۔۔ ہوتی چلی جائے گی ! آپ کا دل چاہے گا اس کھڑکی کو ہی اکھاڑ کر باہر پھینک دیں اور ہوتا بھی یہی ہے آپ گھبرا کر یا تو بیل آف کر دیتے ہیں یا پھر سگنلز کی دنیا سے باہر جا کر کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ ” لگے رہو منا بھائی آپ ” اس رنگ برنگ کی دنیا میں اتنے رنگ ہیں کہ آپ کا ایمان مضبوط ہو کر کامل ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔۔آپ دل میں پکار اٹھتے ہیں ” واہ مولا ، تیری شان ہے تونے کیسے کیسے نمونے پیدا کر رکھے ہیں ۔۔۔۔۔” کچھ منچلے دن رات آپ کو کینڈی کرش ساگا کھیلنے کے لئے جوش دلاتے رہتے ہیں ! کھلاڑی جو ہوے ۔۔۔۔۔ پر عزم ہیں جسے ذرا ہلکے الفاظ میں ڈھٹائی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ آپ لاکھ کوئی ردعمل نہ دکھائیں مگر آپ کو بار بار دعوت نامہ بھیجا جائے گا ۔۔۔۔۔ آپ ہی بتائیے بھلا حقیقی دنیا میں یہ ممکن ہے ۔۔۔۔۔ آپ ایک بار کسی دعوت کو رد کر دیجئے ۔۔۔۔۔ نتائج آپ کا پوتا بھگتے گا ۔۔۔۔۔ مگر یہ مثالی دنیا سچ میں واقعی ” مثالی” ہے ! لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ مثال کہیں تو حقیقت کے قریب ہوگی نہ! سو یہاں بھی خواتین کے ساتھ سلوک ہماری حقیقی دنیا کی طرح “مثالی” ہی ہے !کچھ لوگ خوامخواہ بغیر کسی شناسائی کے آپ کو اپنی “استادی” دکھاتے ہیں ! آغاز پہلے آپ کو بانس پہ چڑھانے سے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ گر آپ اس نرغے میں نہیں آئے تو پھر آپ کو پند و نصائح کیے جاتے ہیں آپ کی خامیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ اور جب آپ ہاتھ جوڑ کر گذارش کریں کہ مجھے آپ سے کسی تعلیمی راہنمائی میں دلچسپی نہیں تو پھر آپ کو آپ کی اوقات بتائی جاتی ہے ! کچھ ایسے بھی جی دار ہوتے ہیں جو پہلی ہی ہیلو کی بعد آپ سے فون نمبر طلب کر لیتے ہیں ! مگر خیر یہاں بھی حقیقت کی طرح آپ کے پاس “گدا گروں” سے نمٹنے کا ایک بٹن موجود ہے جسے آپ استعمال کر کے سکھ حاصل کر سکتے ہیں جسے “بلاک” کہا جاتا ہے !

کچھ خواتین و حضرات تو شاید فیس بک پہ تشریف فرما ہی اس لئے ہیں کہ وہ آپ کے گھر میں لڑاائی کروائیں ۔۔۔۔۔ ان کو کچھ اور نہیں سوجھتا تو وہ اپنی بیگم یا شوہر کے ہاتھ کے بنے کھانے کو سجا سنوار کے پیش کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ اب جھگڑا شروع ۔۔۔۔ بیوی دیکھ کر آہیں بھرتی ہے ۔۔۔۔۔”تمہیں تو میرے لیے کبھی ایک چائے کا کپ بنانے کی توفیق گوارا نہیں ہوتی “۔ اور شوہر گرجتا ہے ” تم بھی کوئی سلیقہ سیکھو ۔۔۔۔۔ تمہارے بد مزہ کھانے کھا کھا کر تنگ آ چکا ہوں ۔۔۔۔۔” کچھ حضرت اس قدر زیرک ہوتے ہیں کہ آپ کے پروفائل میں جملہ خوبیوں میں سب سے پہلے شادی شدہ کا سٹیٹس چیک کرتے ہیں اور پھر بات کا پھندہ تیار کرتے ہیں۔۔۔۔ آپ شادی شدہ ہیں تو آپ کو سمجھایا جاتا ہے کہ آپ بالغ لنظر ، تجربہ کار اور “عمر رسیدہ” ہیں (دل میں شاید ستم رسیدہ) بھی کہتے ہوں ) ۔۔۔۔۔ بات کر لینے میں کیا حرج ہے حالانکہ اپنے خاندان میں شاید پھوپھی کی بیٹی سے بھی ہنس کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہو ۔۔۔۔ یہ ایک اور اشتراک ہے فیس بکی اور حقیقی دنیا میں کہ آپ کے گھر کی خاتون کے علاوہ باقی ہر اکاؤنٹ ہولڈرخاتون دکان سجا کر بیٹھی ہے سو آپ کو خریداری کا پورا حق حاصل ہے ! اور اگر آپ ابھی تک کنوارے ہیں ۔۔۔۔۔ بلا تخصیص جنس ۔۔۔۔ تو پھر آپ کی خیر نہیں ۔۔۔۔۔ بہت سے پتھر اپنے “بیڈ روم کی کھڑکی” یعنی ان باکس میں کھانے کے لئے تیار رہیں! جونہی آپ نے کسی سٹیٹس کو لائک یا کمنٹ کیا ۔۔۔۔۔ سب سے پہلا شک یہی کیا جائے گا کہ “بچی ۔۔۔۔۔ بچا ۔۔۔۔۔ سلپ ہو گیا “۔ آپ گر صاحب پوسٹ کی خاتون خانہ یا شوہر نامدار موجود تو آپ سمجھ لیجئے آپ نے اوکھلی میں سر دے دیا ! کچھ خواتین اپنی انتہائی گلیمرس اور ہاٹ قسم کی پکچرز پوسٹ کرکے داد سمیٹتی ملیں گی اور جونہی شہد پر چیونٹے اور مکھیاں بھنبھنانے لگیں تو مصنوعی غصے کا اظہار کرتی پائی جائیں گی ۔۔۔۔۔ کچھ قبر میں ٹانگیں لٹکائے بابے اپنی تیس سالہ پرانی تصویر لگا کر دکان سجائے بیٹھے ملیں گے ! تیس نہیں تو کچھ بلکہ کافی پرانی تصویر کو فوٹو شاپ کے مختلف اور مجھے کبھی سمجھ نہ آنے والے مراحل سے گذار کر آئی ڈی لگانے کا اہتمام کیا جائے گا ! آخر گھر کا فرنٹ تو صاف ستھرا رکھنے کی آرزو ہر شخص کو ہوتی ہے ! غرض صاحب یہ رنگوں کی دنیا ہے ۔۔۔۔۔ اس رنگ رنگ کی دنیا نے آپ کو واقعی اک گلوبل ویلج میں بٹھا دیا ہے ۔ اس گاؤں میں آپ کو اپنی پسند و ذوق کی بیٹھکیں بھی مل جائیں گی اور اپنے گمشدہ قبیلے کے افراد بھی ! مگر کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اس مثالی دنیا میں کچھ دنیاوی اخلاقی ضابطوں کی پابندی کرنا بھی سکھ لیں ! اس دنیا کے سب سے بڑے گاؤں کی چوپال میں بیٹھنے کے بھی کچھ قائدے و تہذیب ہونی چاہئیے نہ ۔ کیا خیال ہے ؟!

seemi-kiran
سیمیں کرن

Related posts