کون سے قرض اُتارے ہیں

یہ تاریخ کا جبر نہیں تو پھر کیا ہے؟ پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی طرف سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ نے پاکستان کی سیاست میں وہ آشوب محشر بپا کیا ہے کہ جس میں مسلم لیگ(ن) کی آشفتہ نوائی اس کی مزید رسوائی کا باعث بن رہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو سے تشبیہ دی جارہی ہے اور مریم صفدر کو محترمہ بینظیر بھٹو سے ملایا جارہا ہے۔ اس ناچیز کو نواز شریف کی وہ تقاریر ابھی تک یاد ہیں جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو پاکستان توڑنے والے شخص کی بیٹی ہے اور اس عورت کا نام سن کر میرا خون کھول اٹھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر نواز شریف کی ایک تقریر کا وہ حصہ بھی گردش میں ہے جو انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی برسی پر کی تھی اور بینظیر حکومت کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کا مزار بنانے کے لئے بھاری رقم خرچ کرنے پر تنقید کی گئی تھی۔اسی زمانے میں ا یک دن محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے کہا کہ میں اپنے باپ کا مزار نہیں بنارہی میں تو پاکستان کے آئین پر اتفاق کرانے والے پہلے منتخب وزیر اعظم کا مزار بنارہی ہوں جسے پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں عالمی طاقتوں نے خود غرض جرنیلوں اور ججوں کے ساتھ مل کر تختہ دار پر لٹکادیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے کہا کہ آپ نواز شریف سے کہیں کہ وہ مجھ پر تنقید کرے لیکن میرے والد کو معاف رکھے۔ میں نے محترمہ سے کہا کہ نواز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور ایک صحافی کی حیثیت سے میری ان کے ساتھ جان پہچان ضرور ہے لیکن اتنی بے تکلفی نہیں کہ میں انہیں آپ کا پیغام دوں۔ یہ سن کر محترمہ مسکرادیں اور انہوں نے اپنے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے میں بہت کمزور وزیر اعظم ہوں لیکن اتنی خبر ضرور رکھتی ہوں کہ کل آپ چوہدری نثار علی خان کی گاڑی میں بیٹھ کر مری گئے۔ وہاں سے آپ بھوربن گئے اور ایک پرفضا مقام پر نواز شریف کے ساتھ لنچ کیا۔ لنچ میں نواز شریف نے آپ سے وعدہ لیا کہ وہ بہت جلد حکومت میں آنے والے ہیں اور آپ ان کی حکومت پر کم از کم پہلے تین ماہ تک کوئی تنقید نہیں کریں گے۔محترمہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ اس ملاقات میں میرے علاوہ تین اور صحافی دوست بھی موجود تھے اور ہم سب حیران تھے کہ نواز شریف کو اپنے برسر اقتدار آنے کا اتنا یقین کس نے دلایا ہے؟ بہرحال محترمہ بینظیر بھٹو نے اس ملاقات کے اختتام پر مجھے کہا کہ پتا نہیں صدر فاروق لغاری میرے ساتھ ہے یا نہیں لیکن مجھے حکومت سے نکال کر نواز شریف وزیر اعظم بن بھی گئے تو کبھی چین کی نیند نہیں سوئیں گےاور یاد رکھنا ایک دن مجھے اور میرے والد کو یاد کرکے روئیں گے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد نواز شریف کے ساتھی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو یاد کررہے ہیں۔ عجب ستم ظریفی ہے، کبھی بھٹو خاندان کو غدار قرار دیا جاتا ہے اور کبھی اسے مظلوم قرار دے کر اس کی مظلومیت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ2006میں محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے ایک چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کئے اور ماضی کی تلخیاں بھلا کر نئی شروعات کے وعدے کئے لیکن جب محترمہ کو پتا چلا کہ مسلم لیگ(ن) کے کچھ رہنما پرویز مشرف کے ساتھ رابطے میں ہیں تو انہوں نے مشرف کے ساتھ این آر او کرلیا۔ مشرف کا یہ این آر او ایک دھوکہ تھا۔ بعدازاں مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میمو گیٹ سیکنڈل کا ہنگامہ کیا۔ اس ہنگامہ میں کچھ فوجی جرنیلوں اور ججوں کے علاوہ’’آزاد‘‘ میڈیا بھی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ تھا جس نے صدر آصف علی زرداری کی زبان کو فالج کروادیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ زرداری اب کبھی نہیں بول پائیں گے۔ زرداری کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو مسلم لیگ(ن) نے فتح کے شادیانے بجائے۔ پھر جب نواز شریف تیسری دفعہ وزیر اعظم بنے اور عمران خان نے ان کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو زرداری نے نواز شریف کی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپا۔ جیسے ہی نواز شریف کے خلاف دھرنا ختم ہوا تو پھر زرداری صاحب کے ساتھ کیا ہوا مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی سمیت تمام اہم اپوزیشن جماعتیں نواز شریف سے استعفیٰ مانگ رہی ہیں۔ نواز شریف اپنے بچائو کے لئے کٹھ پتلیوں کا ذکر کررہے ہیں اور ان کے ساتھی کہتے ہیں نواز شریف کے ساتھ وہی ہورہا ہے جوذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوا۔اس صورتحال میں چوہدری اعتزاز احسن نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھٹو کے خلاف فوج اور عدلیہ نے سازش کی تھی نواز شریف کھل کر بتائیں کہ کیا ان کے خلاف فوج اور عدلیہ سازش کررہی ہے؟ بھٹو کا سامنا ایک فوجی ڈکٹیٹر سے تھا۔ ڈکٹیٹر ملک کا بااختیار صدر تھا اور بھٹو ایک قیدی تھے۔ نواز شریف تو وزیر اعظم ہیں۔ صدر ان کا اپنا آدمی ہے۔ فوج ردالفساد میں مصروف ہے۔ چیف جسٹس صاحب 1993میں نواز شریف کے وکیل تھے اور انہیں کسی ڈکٹیٹر نے نہیں بلکہ میرٹ نے چیف جسٹس بنایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دوستوں کو جیل میں لکھی گئی بھٹو کی کتاب’’اگر مجھے قتل کردیا گیا‘‘ پڑھ لینی چاہئے۔ انہیں پتا چلے گا کہ بھٹو کو تاریخ کی بجائے فوج کے ہاتھوں مرنے کا شوق تھا وہ چاہتے تو جنرل ضیاء سے سمجھوتہ کرکے جان بچا سکتے تھے اور ترک حکومت نے جان بخشی کے عوض انہیں دس سال تک پناہ دینے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن بھٹو ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹک کر اپنے ماضی کے سیاسی گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ کفارہ ادا کردیا۔
نواز شریف نے1999کی فوجی بغاوت کے بعد جنرل پرویز مشرف سے سمجھوتہ کرلیا اور مشرف نے انہیں سعودی عرب بھیج دیا۔ جب مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے کا وقت آیا تو نواز شریف نے مشرف کو بیرون ملک بھیج کر ذمہ داری سپریم کورٹ پر ڈال دی۔ کیا بھٹو اور نواز شریف کا کوئی موازنہ ممکن ہے؟ بھٹو کے بارے میں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ؎
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب نہیں تھے
لیکن نواز شریف اور مریم صفدر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب نہیں تھے؟ اگر فوج اور عدلیہ ان کے خلاف کوئی سازش کررہی ہے تو وہ ثبوت سامنے لے کر آئیں، میرا وعدہ ہے میں سازش کے خلاف آواز اٹھائوں گا۔ بھٹو تو ایک ڈکٹیٹر کے قیدی تھے۔ انہوں نے جیل میں بیٹھ کر ڈکٹیٹر اور اس کے حواری ججوں کو ننگا کردیا۔ نواز شریف تو قیدی نہیں ہیں۔ مجھے نہیں تو کسی بھی پسند کے صحافی کو بلا کر کیمرے کے سامنے ثبوت پیش کر دیں۔ سیاسی منظر بدل جائے گا۔اگر وہ صرف گیڈر بھبکیاں دیتے رہے تو جان لیں کہ جے آئی ٹی میں بہت سی تفصیلات، وقت کی تنگی کے باعث شامل نہ ہوسکیں۔ کچھ معاملات کا تعلق پاناما سے نہیں ہے وہ بھی سامنے آنے والے ہیںاور اسی دوران عمران خان کا حساب شروع ہوجائے گا۔جے آئی ٹی رپورٹ کو عمران نامہ قرار دینے والے غلط ثابت ہوجائیں گے۔

حامد میر

Related posts

Leave a Comment