گنگاگئے تو گنگا رام ، جمنا گئے تو جمنا داس

میڈ یا میں عمو می طور پریہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ میاں نوازشریف فیملی کے خلاف ‘پاناما لیکس‘ کیس میں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے اپنی سبکی ہو نے کے بعد خو د مز ید پیر وی کر نے سے معذرت کر لی ہے جبکہ حقا ئق اس کے بر عکس ہیں۔ دراصل عمران خان نے حامد خان کو ان کی جمعرات کے روز سپر یم کو رٹ میں کا رکر دگی کی بنیا د پر کیس کی پیرو ی سے سبکد ش کیاہے اوراس خدشے کے پیش نظر کہ ایسا کر نے سے حامد خان جو ایک بڑ ے منجھے ہو ئے وکیل، آئین وقانون کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں کی سبکی ہوگی، لہٰذا سارا ملبہ میڈیا پر ڈالنے کا راستہ اختیار کیاگیا۔ میں حامد خان کو اچھی طر ح جانتا ہوں۔ ان کی فر م لین اینڈ مفتی کا دفتر بھی میرے اخبار کے دفتر کی عما رت میں ہی ہے۔ سا لہا سال تک ہم جمعہ کی نماز بھی اکٹھے پڑھتے رہے ہیں۔ اس فرم کے مدارالمہام میرے والد حمید نظامی مر حوم کے قر یبی دوست مجید مفتی کے صاحبزادے افضل مفتی ہیں، وہ اب اپنا زیا دہ وقت لندن میں گز ارتے ہیں۔ افضل مفتی کا تعلق بھی میرے ننھیالی شہروزیر آباد سے ہے۔ لین اینڈ مفتی لا فرم جو ہمارے کرایہ دار بھی ہیں، میں بڑ ے بڑ ے نامور اورچغادری وکلا کام کرتے رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستا ن جواد ایس خواجہ جن کا تعلق بھی وزیر آباد سے ہے، اپنے دور وکالت میں اسی فرم میں عرق ریزی کرتے رہے ہیں۔ ‘پاناما کیس‘ میں میاں نواز شریف کے وکیل سلمان بٹ اسی فرم سے وابستہ ہیں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی اپنی فرم بنانے سے پہلے یہیں کام کرتے رہے ہیں۔ سابق صدر فضل الہٰی کے پو تے شہزاد عطا الہٰی بھی اس فر م میں کام کرتے ہیں۔ اس پس منظر کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شکی مز اج کے ما لک ہیں اورانھیں غالباً باور کرایا گیا ہے کہ حامد خان درون خانہ بذریعہ لین اینڈ مفتی حکومت کے ساتھ ملے ہو ئے ہیں؛ حالانکہ ان کی وکالت کی کارکردگی پر بحث تو ہو سکتی ہے لیکن وہ ایک انتہائی پروفیشنل، صاف گو اور ایماندار شخص ہیں۔ ان پر ایسا الزام لگانا ان کی سخت توہین ہے۔ بعض لوگ دورکی کو ڑی لا ئے ہیں کہ چونکہ نواز شر یف خاندان کے وکیل اکرم شیخ نے حامد خان کی تعریف کی ہے،لہٰذا دال میں کچھ کالا ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ ‘پاناما لیکس ‘کے حوالے سے سب سے فعال اور سرگرم وکیل چوہدری اعتزاز احسن ہیں۔ انھوں نے میرے ٹی وی پروگرام میں حامدخان کی سخت مدافعت کی اور کہا کہ چو نکہ سپر یم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، لہٰذا نواز شر یف اور ان کے خاندان کے لندن کے فلیٹس کے لیے رقم کی فراہمی کے ذرائع کے حوالے سے فیصلہ فاضل ججوں نے خود کرنا ہے۔ اعتزاز احسن پر تو کسی صورت بھی نواز شر یف کے ایجنٹ ہونے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔
دراصل جمعرات کے روز حامد خان عدالت میں دو گھنٹے تک میاں نواز شریف کے تین متضا د بیانات پڑھتے رہے جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جما لی نے کہا کہ محض ان بیانات کی بنیا د پر فیصلہ کیسے جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف نے لندن فلیٹس ناجائز دولت سے حاصل کئے۔ بنچ کے ایک اور فاضل رکن جسٹس عظمت سعید کا خیال تھا کہ حامد خان قانون کے بجائے سیاست کر رہے ہیں۔عدالت عظمیٰ اس سے پہلے منگل کو پی ٹی آ ئی کے وکیل کی پہلے بھی سرزنش کر چکی ہے کہ اخباری تراشے الف لیلیٰ کی کہانیاں ہیں، سچ کوخو د ہی دفن کر دیا گیا ہے نیز اخباری تراشوں کی کوئی حیثیت نہیں، ان میں تو پکوڑے بکتے ہیں ۔آخری پیشی کے موقع پر عمران خان اور جہانگیر ترین بھی عدالت میں مو جود تھے اور وہ حامد خان کی انوکھی پیروی سے سخت نالاں تھے۔ میرے ذرائع کے مطابق عمران خان حامد خان کو اس کیس میں اپنا وکیل بنانے کے حوالے سے پہلے ہی متذبذب تھے لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ جس میں شاہ محمود قریشی،شفقت محمود اورشیر یں مزاری پیش پیش تھے باقاعدہ وفد کی صورت میں بیک زبان ہوکر عمران خان سے کہہ رہے تھے کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں اور اس کیس کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔خان صاحب بھی طو ہاً وکر ہاً مان گئے لیکن بعد از خرابی بسیار یہی رہنما جو کہہ رہے تھے کہ حامد خان کو انگیج کیا جائے اب عمران خان سے مطالبہ کر رہے تھے کہ انھیں فوری طور پر تبدیل کر دیا جائے۔حامد خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میڈ یا ٹرائل سے پر یشان ہو کر خو د ہی الگ ہو ئے ہیں لیکن حقائق کچھ اور ہیں۔ چو نکہ پی ٹی آ ئی کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس نواز شر یف کی کر پشن کے حو الے سے ٹھو س ثبوت مو جود ہیں، اگر ایسا ہی ہے تو کیا واقعی خان صاحب اور شیخ رشید ثبوت حا صل کر نے کے لیے یکدم لندن پدھارے ہیں؟ پی ٹی آئی کا فیصلے کرنے کا انداز بھی عجیب ہے۔ لگتا ہے کہ تمام فیصلے خان صاحب کی ذات کے گرد ہی گھومتے ہیں اور مشیر گنگاگئے توگنگا رام ،جمنا گئے تو جمنا داس کے مترادف اپنی رائے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ غالباً پی ٹی آئی کو امید نہیں تھی کہ ان کے اسلام آباد کے ناکام ‘شٹ ڈاؤن‘ کے دوران عدالت عظمیٰ بالآخر ‘پاناماگیٹ‘ کو سننے اور اس پر کمیشن بنانے کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔ اس بنا پر تین جلدوں پر مشتمل چھ سو سے زائد صفحات پر مبنی جواب داخل کیا گیا جو زیا دہ تر اخباری تراشوں پر مبنی ہیں بلکہ ایک صحافی جو شریف فیملی کے بارے میں نئے نئے” انکشافات‘‘ کر نے کے بارے میں مشہور ہیں کی پوری کتاب بھی فوٹو کا پی کر کے لگا دی گئی؛ حالانکہ کیس کے بارے میں ثبوت حا صل کرنے کا وقت تب تھا جب خان صاحب رائے ونڈ کے جلسہ اور اسلام آباد کے ‘شٹ ڈاؤن‘ کے لیے جہد مسلسل میں مگن تھے۔ اب شنید ہے کہ نئے وکیل کے لیے ‘شاپنگ‘ ہو رہی ہے۔ بابر اعوان تو خود بڑ ے مشتاق ہیں کہ وہ وکیل اوّل کے طور پر اس کیس میں پیش ہوں۔ جہاں تک اعتزاز احسن کا تعلق ہے پاکستان میں شاید ہی ان کے پائے کا کوئی دوسرا وکیل ہو، بالخصوص ‘پاناما لیکس‘ کے حوالے سے ان کی تیاری بہت بھرپور ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں جہانگیر ترین گز شتہ روز اعتزاز احسن سے میٹنگ بھی کر چکے ہیں لیکن یہاں یہ امر مانع آسکتا ہے کہ چوہدری صاحب نہ صرف پیپلز پارٹی کے سینئر ترین رکن ہیں بلکہ سینیٹ میں لیڈر آف اپو زیشن بھی ہیں۔چونکہ پی ٹی آئی کے سربراہ ایک طرف تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو نواز شریف کا زر خرید غلام قرار دیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اعتزاز احسن نے برخوردار بلاول کی انگلی پکڑی ہوئی ہے اس تناظر میں چوہدری صاحب کیلئے پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے ‘پاناما گیٹ‘ کی پیروی کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ دوسری طرف اعتزاز احسن کا بابر اعوان کے ساتھ چلنا قریباً ناممکن ہوگا۔
جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے سیاستدان، عدلیہ، فوج سب کو شکایت ہے کہ میڈیا اپنی حدود سے تجاوز کر جاتا ہے لیکن اگر حامد خان کے معاملے پر غورکیا جائے تو سپریم کو رٹ میں ان کی جو پت اڑائی گئی تو انھیں میڈیاکو قصوروار قرار دینا مبنی برانصاف نہیں۔ یقیناً اب جبکہ عدالت عظمٰی نے اس سارے معاملے کو اپنے ہا تھ میں لے لیا ہے میڈیا کو احتیاط برتنی چاہیے اور اس ضمن میں فریقین یا ان کے وکلا کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف جو میڈیا پر ملبہ ڈال رہی ہے،اس کے قائد خود میڈیا پر آ کر ہر کسی کا ٹرائل کر رہے ہوتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور سے ہی فاضل ججوں کے ریمارکس سماعت کے دوران ہی ٹی وی چینلز پر ٹکر کے طور پر چلنے لگتے اور سما عت کے اختتام پر سپر یم کورٹ کے احاطے میں کیمروں کی لائن لگی ہو تی ہے، جہاں پر اس روز کی کارروائی پر فریقین اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں اور شام کو اینکر حضرات اپنی اور اپنے چینلز کی سیا سی وابستگیوں کے مطابق اس ضمن میں تا ویلیں پیش کر رہے ہو تے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے حامی کارروائی میں سے اپنے مطلب کی باتیں نکال لیتے ہیں جبکہ مخالف برملا کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اب تو نواز شر یف کی چھٹی ہو جائے گی۔ یہ سلسلہ یقیناً فاضل ججوں کے علم میںہو گا اور اگرچاہیں تو وہی اس حوالے سے کو ئی حدود و قیود طے کر سکتے ہیں لیکن اصولی طور پر اب جبکہ عدالت ‘پانامالیکس‘ کا معاملہ سن رہی ہے، ہمیں اپنے تبصروں میں ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔

عارف نظامی

Related posts