گھوسٹ اخبارات حکومت کا 80 فیصد ایڈورٹائزنگ بجٹ کھاجاتے ہیں

اسلام آباد (نیوز لائن)پاکستان میں گھوسٹ اخبارات کی بھرمار ہے۔یہ گھوسٹ اخبارات حکومت کا 80فیصد سے زائد ایڈورٹائزنگ بجٹ غیر قانونی طریقے سے کھا جاتے ہیں۔دھوکہ دہی‘ کرپشن اور لوٹ مار کا یہ معاملہ چند ایک اخبارات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے تمام اخبارات حکومت، عوام اور مملکت پاکستان کو دھوکہ دینے میں ملوث ہیں۔نیوز لائن کے مطابق حکومت پاکستان کے ادارے پی آئی ڈی کے جاری کردہ99 فیصد سرکولیشن سرٹیفکیٹ بوگس ہیں۔ اخبارات سرکولیشن لاکھوں میں ظاہر کر تے ہیں جبکہ اخبار چھپتے گنتی کے ہیں۔99فیصد سے زائد اخبارات اپنے بوگس سرکولیشن سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر سرکاری و غیر سرکاری اشتہارات حاصل کرتے ہیں اور عوا م کے ٹیکسوں کے حکومتی خزانے میں لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا 80فیصد سے زائد ایڈورٹائزنگ بجٹ گھوسٹ اخبارات کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔نیوز لائن کے مطابق گھوسٹ اخبارات صرف چھوٹے شہروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا اخباری مرکز ہونے کے باوجود لاہور میں سینکڑوں کی تعداد میں گھوسٹ اخبارات چھپتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی گھوسٹ اخبارات کی بھرمارہے۔ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ میں بھی گھوسٹ اخبارات کی کمی نہیں ہے۔ فیصل آباد‘ ملتان‘ حیدر آباد‘ سکھر‘ گوجرانوالہ‘ شیخوپورہ‘ ساہیوال‘ سرگودھا‘ بہاولپور سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گھوسٹ اخبارات موجود ہیں۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب‘ سیکرٹری اطلاعات‘ پی آئی او‘ سمیت پی آئی ڈی اور وزارت اطلاعات کے تمام چھوٹے بڑے افسران اور ذمہ داران گھوسٹ اخبارات کی حقیقت سے آگاہ ہیں مگر اس کے باوجود قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے گھوسٹ اخبارات اور ان کے دھوکے باز مالکان کے خلاف کوئی ایکشن لینے کو تیار نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت‘ عوام اور مملکت کو دھوکہ دے کر اربوں روپے کے اشتہارات لینے والے گھوسٹ اخبارات کے مالکان کی بڑی تعداد اے پی این ایس اور دیگر تنظیموں کی ممبر ہے اور ان کے اعلیٰ حکومتی شخصیات سے قریبی تعلقات بھی ہیں۔ہر شعبے میں احتساب کا مطالبہ کرنے والے اخبارات کے مالکان سب سے زیادہ کرپشن میں ملوث ہیں اور محب وطن حلقے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اخباری اداروں اور اخباری مالکان کا بھی احتساب کیا جائے اور لوٹ مار میں ملوث اخباری مالکان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے

Related posts