چھٹی مردم شماری 15مارچ سے شروع ہوگی

اسلام آباد(نیوزلائن)ملک بھر میں چھٹی مردم شماری 15مارچ سے شروع ہوگی ،عدالت عظمیٰ نے حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کردیاگیا ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ عمل درآمد نہ ہوا توسنگین نتائج ہونگے ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ، قوائد وضوابط کے مطابق پاکستان میں مردم شمار ی2008میں ہونا تھی جبکہ 1998کے بعد پاکستان میں 17سال بعد مردم شمار ی ہوگی،پاکستان میں پہلی مردم شماری1951میں ہوئی تھی آئین کے مطابق ہر10سال بعد پاکستان میں مردم شماری کروانا لازم ہے تاہم مردم شماری میں تاخیر پر عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیا تھا ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس امیر حانی مسلم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مردم شماری میں تاخیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کوتحریری یقین دہانی کرائی کہ مردم شماری 15مارچ سے شروع ہوکر دو ماہ میں مکمل کرلی جائے گی، مشترکہ مفادادت کونسل کو سمری بجھوادی گئی کینٹ کی حتمی منظوری کے بعد عمل درآمد شروع کردیا جائے گاعدالتی حکم پر من و عن عمل کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدم عمل درآمد کے سنگین نتائج ہوں گے، حکومت نے اگر عملدرآمد نہ کیا تو توہین عدالت کی مرتکب ہوگی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔وفاقی حکومت کی تحریری یقین دہانی کے بعد فاضل عدالت نے مردم شماری ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ،واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی بار مردم شماری 1951 میں ہوئی ،دوسری بار مردم شماری 1961، تیسری 1972 اور چوتھی مردم شماری 1981 میں ہوئی تھی ،ملک کی آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی، قواعد کی روح سے مردم شماری 2008 میں ہونا تھی تاہم پاکستان میں آئندہ سال چھٹی مردم شماری 17سال بعد ہو گی،چھٹی مردم شماری 8سال کی تاخیر سے کرائی جائیگی ، مردم شماری کے نتیجے میں ملک کی حقیقی آبادی، سماجی و معاشی ضروریات، روزگار اور دیگر امور کا تعین ہو سکے گاجبکہ نئی انتخابی حلقہ بندیاں، وفاق اور صوبوں میں پارلیمان کی نشستوں کا تعین بھی ہو سکے گا۔

Related posts