میاں شریف ارب پتی نہیں تھے‘نواز شریف جھوٹے‘ لندن فلیٹ مریم کی ملکیت

اسلام آباد(نیوزلائن)پانامہ گیٹ سکینڈل پر قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی جانے والی آخری اور حتمی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لندن فلیٹس 1993سے آج تک شریف خاندان کی ملکیت ہے ،70کی دہائی میں میاں محمد شریف کا ارب پتی ہونا ثابت نہیں ہوتامریم نواز لندن فلیٹس کی حقیقی مالک ہیں ،2000تک حسین نواز اور حسن نواز کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا ،2001میں حسن اور حسین نواز نے اپنا کاروبار شروع کیا رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ گلف حکومت کا خط شریف خاندان کے 25فیصد حصص سے متعلق ریکارڈ کو جھوٹا قرار دیتا ہے،شریف خاندان کے دبئی کاروبارسے متعلق پیش کردہ دستاویزات جھوٹے اور جعلی ہیں ،نواز شریف ،مریم صفدر ،حسین نواز سمیت فریقین نے مزید دستاویزات فراہم کرنے اور متعلقہ ریکارڈ تک رسائی سے بھی انکار کیا،وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے متعلق رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ڈھائی گھنٹے کے انٹرویو میں نواز شریف نے صرف یہ تسلیم کیا کہ محمد حسین انکے خالو ،جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت آنے کے بعد قطری شہزادے کا بیان غیر ضروری تھا ،قطری شہزادے کے سپریم کورٹ میں پیش کردہ دونوں خطوں فسانہ ہیں حقیقت نہیں ۔ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کی جانب سے جمع کروائی جانے والی پانامہ جے آئی ٹی کی 254صفحات پر مشتمل ہے۔ دستاویزات کے مطابق جے آئی ٹی نے 28گواہان کو طلب کر کے ان سے پوچھ گچھ کی ،جے آئی ٹی کے متعدد سمن کے باجود 5گواہ پیش نہیں ہوئے ،قطری شہزادے سے متعلق رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حمد بن جاسم الثانی اور نواز شریف کے قریبی ساتھی شیخ سعید جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے جبکہ اسحاق ڈار کی اہلیہ کا بھانجاموسیٰ غنی بھی جے آئی ٹی کے سامنے تفتیش کیلئے پیش نہیں ہوا،رپورٹ میں کہاگیا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے اہم گواہ کاشف قاضی بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا، جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے والے پانجواں گواہ شیزی نقوی ہے جو التوفیق بنک کیس میں مدعی ہے ، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جاوید کیانی اور سعید احمد نے نام ای سی ایل میں رہیں گے ،رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ نواز شریف ،مریم صفدر ،حسین نواز سمیت فریقین نے مزید دستاویزات فراہم کرنے اور متعلقہ ریکارڈ تک رسائی سے بھی انکار کیا ، رپورٹ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے الزام عائد کیاگیا ہے کہ حکومتی اداروں نے جے آئی ٹی کو صرف مخصوص ریکارڈ فراہم کیا ،رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے یو کے کی فرم سے فرانزک تفتیش کیلئے مدد لی ،جے آئی ٹی کے دو ممبران نے یو اے ای میں شریف خاندان کے کاروبارکی تفتیش کیلئے سفر کیا ِ،رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ گلف حکومت کا خط شریف خاندان کے 25فیصد حصص سے متعلق ریکارڈ کو جھوٹا قرار دیتا ہے،شریف خاندان کے دبئی کاروبارسے متعلق پیش کردہ دستاویزات جھوٹے اور جعلی ہیں ،رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طارق شفیع نے گلف اسٹیل ملزسے متعلق جھوٹے دعوے کر کے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ،رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے وقت گلف سٹیل ملز سے متعلق پوچھے گئے سوالات سے اجتناب کرتے رہے ،نواز شریف کے ڈھائی گھنٹے کے انٹرویو میں صرف یہ تسلیم کیا کہ محمد حسین انکے خالو ہیں ،رپورٹ میںکہاگیا ہے کہ شریف خاندان کی طرف سے گلف سٹیل ملزسے متعلق بنائی گئی کہانی جھوٹی ہے ،رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ لندن فلیٹس 1993سے آج تک شریف خاندان کی ملکیت ہے ،مریم نواز نے جے آئی ٹی کو جعلی دستاویزات دیں جو فوجداری جرم ہے ،مریم نواز لندن فلیٹس کی حقیقی مالک ہیں ،رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق نواز شریف نے ایک بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا ،حقائق چھپنانے کیلئے حسین نواز نے بار بار اپنا موقف تبدیل کیا،رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ2000تک حسین نواز اور حسن نواز کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا ،2001میں حسن اور حسین نواز نے اپنا کاروبار شروع کیا،حسن نواز اور حسین نواز لندن فلیٹس خریدنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے ،شریف خاندان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت آنے کے بعد قطری شہزادے کا بیان غیر ضروری تھا ،قطری شہزادے کے سپریم کورٹ میں پیش کردہ دونوں خطوں فسانہ ہیں حقیقت نہیں،رپورٹ کے مطابق حسین نواز نے 3جون کو جو دستاویزات جے آئی ٹی کو دیئے وہ سپریم کورٹ میں پیش نہیں کیے گئے، شریف خاندان ذریعہ آمدن کا واضح جواب نہیں دے سکا ہے ،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز،حدیبیہ انجینئرنگ اور چوہدری شوگر ملز کے مقدمات جے آئی ٹی کے نئے شواہد کی روشنی میں دوبارہ کھولے جائیں ،حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس میں سعید احمد اور جاوید کیانی کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا جائے ،وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف بد عنوانی کے 28مقدمات بنائے گئے ،وزیر اعظم نواز شریف نے 2013کے ٹیکس گوشواروں میں 100ملین روپے ن لیگ کو عطیہ کیے جبکہ وزیر اعظم نوا ز شریف نے 2013میں ہی پارٹی اکائونٹ سے 45ملین روپے لیے لیکن یہ حقیقت چھپائی گئی ،وزیر اعظم نواز شریف 2013میں دولت کے حوالے سے مس ڈکلیئریشن کا مرتکب ہوئے،نواز شریف خاندانی کاروبار کے فواہد اٹھاتے رہے ،70کی دہائی میں میاں محمد شریف کا ارب پتی ہونا ثابت نہیں ہوتا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے ریکارڈ کو مد نظر رکھا جائے تو نواز شریف کے اثاثے انکی آمد ن سے زائد ہیں ، 90کی دہائی میں مریم نواز کے اثاثوں میں اعلانیہ ذریعہ آمد ن نہ ہونے کے باوجود انتہائی اضافہ ہوا، مریم نواز اعلانیہ ذریعہ آمد ن نہ ہونے کے باوجود کروڑوں روپے قرض لیتی رہیں ،90کی دہائی میں حسین نواز کے اثاثوں میں بے پناہ اضافہ ہوا جبکہ90کی دہائی وہ وقت تھا جب شریف خاندان برسراقتدار تھا ،حسین نواز اور مریم نواز کے اثاثے انکی ذریعہ آمدن سے زائد ہیں،رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ1981سے 1986تک اسحاق ڈار کے انکم ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ غائب ہے ،ایف بی آر نے 1994سے 2002تک اور 2003سے 2008تک ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراہم نہیں کیں ،اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 2008/9میں آمدنی سے زائد اضافہ ہوا،اسحاق ڈار آمدن سے زائد اثاثوں کی معقول وضاحت پیش نہ کرسکے ،رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ،مریم نواز ،حسن نواز اور حسین نواز کی آمدن اور اثاثوں میں واضح فرق ہے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بار ثبوت الزام کا سامنا کرنے والے پر عائد ہوتا ہے تاہم پانامہ کیس کے تمام فریقین آمدن سے زائد اثاثوں کی معقول وضاحت دینے میں ناکام رہے

Related posts

Leave a Comment