سیاستدانوں کا احتساب ہوتا ہے توججوں اورجرنیلوں کا بھی ہونا چاہئے، جاوید ہاشمی

ملتان(نیوزلائن) سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ صرف سیاست دانوں کا ہی نہیں بلکہ ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے جب کہ ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ میرے سیاسی کیریئر کی آخری پریس کانفرس ہو۔ ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ جے آئی ٹی کا تماشا بند کیا جائے، ججوں کو احتیاط سے کام لینا چاہئے، انہوں نے فیصلے سے پہلے ہی حکومت اور نواز شریف کو سسلین مافیا اور گاڈ فادر قرار دے دیا۔ مخدوم نے کہا کہ نواز شریف سے استعفیٰ دینے کا نہیں کہتا لیکن وہ چودھری نثار یا احسن اقبال کو وزیر اعظم بنا دیں۔ مستقبل میں حکومت کس کی ہو گی؟ سینئر سیاستدان نے پیشگوئی بھی کی۔ جاوید ہاشمی نے شیخ رشید پر بھی کڑی تنقید کی۔ سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ نواز شریف کبھی مجھے ٹکٹ دینے کے خواہاں نہیں تھے، انہوں نے شیخ رشید کو میرے اوپر چیکر لگایا ہوا تھا، سیاستدانوں سمیت مقتدر اداروں میں بیٹھے اشخاص میں سے کوئی بھی صادق اور امین نہیں ہے۔ اپنی پریس کانفرس میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں، نواز شریف عہدہ چھوڑ کر الزامات کا سامنا کریں اور اپنی پارٹی کے کسی ارکان کو وزیر اعظم نامزد کر دیں لیکن وہ ایسا کریں گے نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان تصدق جیلانی کے بعد جو بھی آیا وہ اسمبلی توڑ دے گا لیکن میں نے کہا کہ یہ بھی جوڈیشل مارشل لا ہو گا۔ جاوید ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ چاہتا تو پی ٹی آئی میں رہ کر فارورڈ بلاک بناتا اور جماعت کو نقصان پہنچاتا، شیخ رشید جیسے سیاستدان نواز شریف پرویز مشرف میرے اور اب عمران خان کے درباری ہیں۔ جاوید ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مریم نواز اگر پیش ہوئیں تو کوئی بڑی بات نہیں، میرے خلاف بننے والی جی آئی ٹی میں میری بیوی کو بھی بلایا گیا جسکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سینئر سیاستدان نے کہا کہ جمہوریت کو صرف دس سال چلنے دیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کا جج ہے جسکو میں جانتا ہوں اسکی بھی پانامہ میں پراپرٹی ہے اسکو کیوں نہیں بلایا جاتا؟ احتساب صرف سیاستدانوں کا کیوں ہوتا ہے؟

Related posts

Leave a Comment