سندھ اسمبلی نے نواز شریف سے مستعفی ہونے کی قرارداد منظورکرلی

کراچی(نیوزلائن)سندھ اسمبلی نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے استعفیٰ کی قراردار کثرت رائے سے منظور کر لی، قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن خیر النساءمغل کی جانب سے پیش کی گئی۔وزیراعظم کے استعفے کے لئے پیش کردہ قرارداد پر پیپلزپارٹی کے علاوہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ارکان نے بھی حمایت میں ووٹ دیا اور مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ نون کی جانب سے ایوان کی کارروائی کا واک آوٹ کیا گیا۔ جب کہ قرارداد میں پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکرشہلا رضا کی سربراہی میں ہوا، جس میں پیپلز پارٹی کی رکن خیرالنساءمغل کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونی کی قرار ایوان میں پیش کی گئی جس کے بعد تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے اس حوالے سے اپنی قرار داد واپس لے لی۔قرارداد میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی لیکن جے آئی ٹی کوسلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے حکومت کے ہر دباو¿ کو رد کردیا، نواز شریف عہدے کا اخلاقی جوازکھوچکے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر اسمبلی سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کےخلاف جھوٹے کیس بنائے گئے، سیف الرحمان اورچوہدری شجاعت نے تسلیم کیا کہ وہ غلط کیس تھے، شریف خاندان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ قہر خداوندی ہے، وزیر اعظم کا عہدہ وقار اور ایمانداری کا متقاضی ہے، وزیراعظم نوازشریف پرسنگین الزامات ہیں، یوسف رضا گیلانی نے بھی وزارت عظمی کے عہدے کو قربان کردیا تھا، نواز شریف کی عہدے پر موجودگی ہر لمحہ پاکستان کے وقار کو کم کررہی ہے، ملک بحران میں گھرا ہے لیکن حکومت کہیں نظر نہیں آرہی، ملک میں جب بھی بحران آیا وفاقی وزیر داخلہ کی کمرمیں درد ہوجاتا ہے، حکومت کی توجہ صرف جے آئی ٹی اور پاناما کی طرف ہے۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ نون کو سیاسی شہید نہیں ہونے دے گی، نواز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہنے کا جواز کھو چکے ہیں اس لئے انہیں فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ملک میں ایک وزیراعظم کے جانے اور دوسرے کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلتی رہے اور حکومت اپنی مدت پوری کرے۔

Related posts

Leave a Comment