دفع کرو جی صحافت بھی کوئی کام ہے

میں اپنے ہونے کا احساس دلانا چاہتا ہوں معاشرے میں نمایاں مقام چاہتا ہوں صرف اور صرف اسی لئے میں نے قلم کا سہارا لے لیا ہے کیونکہ ناقدین کی نظر میں میرے لکھنے کا مقصد یہ ہی ہے۔ مانتا ہوں کہ خود نمائی کا شوق جس طرح ہر انسان میں ہوتا ہے بحیثیت انسان مجھ میں بھی ہے مگر میں اس مقصد کیلئے قلم کا سہارا لینے کا قائل نہیں ہو کیونکہ زمانہ طالب علمی سے مجھے سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں نمایاں حیثیت حاصل تھی اور اس کی وجہ میری جسمانی سرگرمیاں بنی رہی اگرچہ میں پڑھائی میں درمیانے درجے کا طالب علم تھا لیکن کھیل کے میدانوں میں میرا شمار صف اول کے کھلاڑیوں میں ہوتا رہا اور ایک اچھے کھلاڑی کی طرح میں نے بھی ایچ۔ای۔سی کی طرف سے منعقد کھیلوں کے مقابلوں میں متعدد تمغے (ان میں براؤن, سیلور اور گولڈ شامل ہیں) اپنی جامعہ کے نام کیے جس کے نتیجہ میں یونیورسٹی کے پراسپیکٹس، سالانہ سپورٹس بروشر اور یونیورسٹی میگزین میں میری تصویر بڑی واضح لگائی جاتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب کا کسی اخبار میں انٹرویو شائع ہوا تو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جو تصاویر اخبار میں چھپنے کیلئے دی گئی تھی ان میں میری بھی تصویر تھی جس میں میں اپنے ڈیپارٹمنٹ ماس کمیونکیشن کی سپورٹس ٹیم کی بطور کپتان نمائندگی کررہا تھا جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔لیکن قلم اٹھانے کا مقصد اپنے اردگرد سرایت کر جانے والی بے حسی ، چور بازاری ، لوٹ کھسوٹ ، دوغلا پن اور اس طرح کی دیگر بیماریوں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کیونکہ غلط کو غلط کہہ دینا ہی سہی بات ہوتی ہے اور سہی بات کر دینے کو سچ کہتے ہیں اور سچ بولنا ہی اس دور میں مشکل کام ہے اور مشکل کام ہی کرنا مجھے پسند ہے اور جو میں دیکھتا ہوں بے شک وہ مجھے ذاتی طور پر پسند ہو یا نہ ہو وہی میں لکھتا ہو اور یہ سب میں بغیر کسی نفع نقصان کے ڈر کے کر جاتا ہو، بذریعہ قلم فساد برپا کرنا ، کسی کی دل آزاری کرنا ، خوشامد، اور خودنمائی یہ ایسے داغ ہیں جو مجھے پسند نہیں اسی لیے میرا قلم ان داغوں سے کبھی دغدار نہیں ہوا۔ مگر آج میں آزردگی کے ساتھ یہ تحریر لکھ رہا ہوں میرے خیال میں صحافی پنڈتوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اس پہلو پر بھی غور کریں کیونکہ میں نے ہمیشہ صحافتی تنظیموں سمیت سنئر صحافیوں کو صرف یہی کہتے سنا ہے کہ اخبار اور نیوز چینل مالکان صحافیوں کا استحصال کرتے ہیں۔ ورکر صحافیوں اور ان کی فیملیز کو صحت, تعلیم ودیگر بنیادی سہولیات تو درکنار ان کو تو ان کے کام کا بھی پورا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ میں مانتا ہوں کہ اخبارات اور نیوز چینل مالکان بھی اس معاملے میں قصور وار ہوسکتے ہیں مگر اس سے پہلے میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کیا ہم صحافی ایک دوسرے کے خیرخواہ ہیں؟ کیا ہم ایک دوسرے کا استحصال نہیں کرتے؟ کیا اس فیلڈ میں ہر نئے آنے والے کو سنئیرز کی اکثریت یہ کہہ کر مایوسی کے اندھے کنویں میں نہیں دھکیل دیتی کہ یہ (صحافت) کون سا کام ہے کوئی اور کام کرو۔ زیادہ بضد کو صاف لفظوں میں بتا دیا جاتا ہے کہ اگر آپ اس فیلڈ میں آنا ہی چاہتے ہیں تو پھر آپ کو مفت میں کام کرنا پڑے گا واضح رہے یہ الفاظ کہنے والوں کی اکثریت صحافیوں کی ہی ہوتی ہے ناکہ اخبارات یا نیوز چینلز مالکان کی کیونکہ اخبارات اور نیوز چینلز مالکان کو تو ملوایا ہی نہیں جاتا۔ کیا یہ نئے آنے والے صحافیوں کا استحصال نہیں؟ کیا کبھی یہ الفاظ ادا کرنے سے پہلے سوچا ہے کہ جو الفاظ آپ نے “شُغل شُغل” میں ادا کر دیے ہیں ان کا اگلے بندے پر کیا اثر پڑے گا۔ اگر آپ سنئیرز کو یہ لگتا ہے کہ صحافت شریفانہ پیشہ نہیں اور اس میں کسی کو بھی نہیں آنا چاہیے تو پھر ملک بھر میں (ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق) جو 188 یونیورسٹیاں 10 لاکھ 30 ہزار 4 سو 80 طالب علموں کو تعلیم دے رہی ہیں جن میں طالبات کی تعداد 48 فیصد ہے ان میں یعقیناً ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کی تعداد میں ماس کمیونکیشن کے سٹوڈنٹس بھی ہونگے ہی تو آپ ان طالب علموں کو بتاتے کیوں نہیں کہ ماس کمیونکیشن کی ڈگری کی کوئی اوقات نہیں اس کے علاوہ کوئی اور “کام” کی ڈگری حاصل کرلیں اسی طرح اگر مفت میں کام کرنے والے یا دوسرے الفاظ میں مفت کے صحافی چاہیے تو پھر آپ صحافت کی تعلیم مفت کیوں نہیں کروا دیتے؟ مانتا ہو پروفیشن میں قدم جمانے میں دیر لگتی ہے اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پیراشوٹ یعنی “اوپر” سے آنے والوں کی نسبت گراس روٹ یعنی نیچے سے اوپر جانے والے منزل کی جانب سہی رخ سفر کررہے ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پیراشوٹ کی چھتریوں کی اتنی گھنی چھاؤں بن گئی ہے کہ گراس روٹ لیول کو بالکل روندھ ہی دیا گیا ہے۔یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے کہ آپ خود تو اسی سیٹ (صحافت) پر برجمان رہنا چاہتے ہیں مگر کوئی اور اس طرف کا رخ کرتا ہے تو آپ کہتے ہو دفع کرو جی یہ کون سا کام ہے۔ یہاں پر میں ایک آنے والے اخبار کی بھی بات کروگا اس اخبار کی اشاعت کے بہت چرچے ہو رہے ہیں یہاں تک کہ پاکستان کے اہم اور بڑے شہروں میں سے اکثر کے پریس کلبز کے مین گیٹس کے اوپر اس اخبار اور اس کو جوائن کرنے والے ناموار صحافیوں کی تصاویر والے جہازی سائز بورڈز بھی لگا دیے گئے ہیں اور اسی اخبار کی مشہوری کے لیے شہر کی میںن شاہراہوں پر اشتہارات بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔ بظاہر تو یہ خوش آئند بات ہے کیونکہ بہت سے پڑھے لکھے ( یہ اس لئے لکھنا پڑا کہ اس شہر میں بہت سے ناموارصحافیوں کی تعلیمی قابلیت بہت کم ہیں) مگر معمولی تنخواہ پر دھکے کھانے والے صحافیوں کی امید بھر آئی تھی کہ لاکھوں کی اشتہاری مہم چلا کر شروع ہونے والا یہ اخبار یعقیناً اِن کو بھی معقول تنخواہ پر نوکری دے گا مگر جب وہاں سے بھی یہ ہی جواب ملا کہ دفع کرو جی صحافت کون سا کام ہے کوئی اور کام کرو لو تو ہکا بکا سے چہروں کے ساتھ واپس آنے والے یہ نوجوان صحافی قابل رحم لگ رہے تھے۔ میں یہاں پر صحافتی پنڈتوں سے یہ التماس ضرور کرو گا کہ آپ صحافیوں کے حقیقی مسائل جیسے کہ انتہائی معمولی تنخواہیں, نمائدنوں سے مفت کام کروانا , سوشل سکیورٹی اور بڑھاپے میں پنشن کی سہولت حاصل نہ ہونا، فساد زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے جانے والے صحافیوں کو حفاظتی جیکٹ فراہم نہ کرنا، انشورنس کور نہ دینا،ہلاکت کی صورت میں پسماندگان کی کفالت نہ کرنا, زخمی ہونے پر علاج نہ کروانا، پیشہ ورانہ تربیت کا بندوبست نہ ہونا ، نوکری کا تحفظ نہ ہونا (سوائے چند ایک اداروں کے) جیسے مسائل پر توجہ دے نہ (کیونکہ ایسا کرنے سے کہی اخبارات اور نیوز چینلز مالکان آپ سے ناراض ہی نہ ہوجائے) دیں۔ مگر خدارا یہ ڈائیلاگ “دفع کرو جی صحافت بھی کوئی کام” کو چھوڑ دیں کیونکہ اس سے صحافت کے تقدس کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے جونئیرز کی دل آزاری بھی ہوتی ہے۔

تحریر افضال احمد تتلا

Related posts

Leave a Comment