نمک کی کان میں زندگی کادلچسپ احساس

نمک کا پیٹ میں جانا معمول کی بات ہے مگرنمک کے پیٹ(نمک کی کان) میں زندہ انسانوں کو چلتے پھرتے دیکھ کر جو احساس پیدا ہوتا ہے اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان میں چار موسم, معدنیات کے ذخائر, خوبصورت علاقوں سمیت بے شمار ایسی نشانیاں ہیں جن کو دیکھ کر بے ساختہ صورت ائرحمان کی آیت”فبأي الاء ربكما تكذبان” کا ورد منہ سے خودبخود جاری ہو جاتا ہے۔کیونکہ بحیثیت انسان ہماری فطرت ہے کہ ہم ناشکری کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالٰی کی نعمتوں کو جھٹلاتے رہتے…

Read More

گندم کے نرخ اور بیوپاریوں کے نخرے

گندم کی کٹائی کے موسم میں کسانوں کے چہرے خوشی سے دمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ان دنوں دیہی علاقوں میں معمول سے ہٹ کر گہماگہمی ہوتی ہے۔ایک وقت تھا کہ بیساکھ (یہ پنجابی مہنہ نصف اپریل سے نصف مئی تک جاتا ہے )کا مہینہ شروع ہوتے ہی گندم کی کٹائی کی تیاریاں شروع ہوجاتی تھی۔کٹائی سے پہلے باقاعدہ تیاری کی جاتی اس تیاری میں لوہار کا بہت ہاتھ ہوتاتھا کیونکہ درانتیوں کی بناوٹ سے لے کر دیگر کام لوہار ہی کی دوکان پر انجام کو پنچتے ہوتے تھے۔مگر عصر…

Read More

ٹرمپ کو اب ’’بھولا‘‘ سمجھنا چھوڑ دیجئے

گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی کے دوران جب امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق مارا ماری اپنے عروج پر تھی تو دنیا بھر کے میڈیا کی نقالی میں ہمارے کئی تجزیہ نگار بھی ڈونلڈٹرمپ کو دیوانہ سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے۔ انتخابی عمل کی حرکیات پر ہم پاکستانی ویسے بھی اعتبار نہیں کرتے۔ سازشی تھیوریوں کے مارے ہمارے ذہن اس بات پر بضد رہتے ہیں کہ ’’اصل گیم‘‘ درحقیقت کہیں ’’اور Set‘‘ ہو چکی ہوتی ہے۔ انتخابی عمل تو اس گیم کو توڑ تک پہنچانے کا محض ایک بہانہ ہوتا…

Read More

فاطمہ جناح کے قتل کی تحقیقات اور وعدے کیاہوئے؟

محترمہ فاطمہ جناح بانی پاکستان محمد علی جناح کی نہ صرف خیال رکھنے والی مشفق بہن بھی تھیں بلکہ وہ جناح صاحب کی سیاسی شریک کار بھی تھیں۔ جناح صاحب کی وفات کے بعد لوگ انہیں اسی قدر منزلت سے دیکھتے تھے جس طرح جناح کو۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح صاحب کی وفات کے بعد انہیں سیاست سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی حکومت اور انتظامیہ کسی صورت بھی نہیں چاہتی تھی کہ فاطمہ جناح…

Read More

اداروں کو دھمکانے والی خلائی صحافتی مخلوق

پاکستان میں جمہوریت کو کبھی آزادی سے کام کرنے اور پھر اس نظام کے ثمرات پوری طرح عوام تک پہنچانے کا موقع نہ مل سکا۔ یہ نظام ایک سال کے لئے آئے، دوسال، تین سال یا بظاہر پانچ سال کے لئے بھی، اس کی ساری صبحیں اور شامیں دشمنوں کے ساتھ گزرتی ہیں مگر’’آزادی صحافت‘‘کے بعد سے تو ایک عجیب الخلقت مخلوق رات آٹھ بجے کے بعد مختلف چینلز پر نمودار ہوتی ہے۔ اس کے چار ہاتھ، چار ٹانگیں، ماتھے پر ایک اضافی آنکھ اور پائوں ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ کہا…

Read More