جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے

لاہور(نیوزلائن)مسجد میں جوتوں سمیت نماز پڑھنے کو مکروہ اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور کئی بار ایسے واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں کہ جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنے والے نمازی کو زدوکوب کیا جاتا اور ملامت بھی کی جاتی ہے ۔ادارہ منہاج القرآن کے مفتی جناب مفتی محمد شبیر قادری نے حال ہی میں جوتوں سمیت نماز اداکرنے کی شرعی حیثیت پر ایک سوال کا جواب احادیث مبارکہ کی روشنی مین دیتے ہوئے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جوتوں سمیت بھی نماز ادا کرتے تھے۔لیکن آج ہم جوتوں کے…

Read More

عظیم صوفی بزرگ خواجہ غلام فرید کا محل 35 روپے ماہانہ لیز پر دیدیا گیا

بہاولپور(نیوزلائن)برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید کا محل محکمہ اوقاف نے 35روپے ماہانہ لیز پردےدیا۔تفصیلات کےمطابق یہ محل کسی نواب کا نہیں بلکہ شہنشاہ روہی خواجہ غلام فرید کا ہے صوفی بزرگ کے نام پر فرید محل ان کے مرید نواب آف بہاولپورصادق عباسی نے خود تعمیر کرایاتھا۔ 8 کنال پر مشتمل اس محل میں مہمان خانہ، باغیچہ اور مسجد بھی شامل تھی۔ لیکن محل کے مہمان خانے اور باغیچہ کا اب نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔مختلف قبضہ مافیا گروہوں نے فرید محل میں ڈیرے…

Read More

بودھ مت کا بانی

لاہور(نیوزلائن) بودھ مت کا بانی گوتم بدھ ہندوستان میں پیدا ہوا، لیکن آج بھی اس کے کروڑوں پیرولنکا، برما، سیام، کمبوڈیا، جاپان اور چین میں موجود ہیں اور وہ دنیا کے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں کپل دستو (نیپال) کے راجا شدھو دھن کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام سدھارتھ رکھا گیا۔ یہ بچہ بچپن ہی سے سوچتا رہتا کہ انسانوں میں اونچ نیچ کا فرق کیوں ہے؟ اِس دنیا میں اتنے دکھ اور تکلیفیں کیوں ہیں؟ اور…

Read More

حضرت موسی علیہ السلام کیلئے پُھوٹنے والے چشموں کا مقام

قاہرہ(نیوزلائن) قرآن کریم میں سورہ بقرہ اور سورہ الاعراف کی ایک ایک آیت میں ان بارہ چشموں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے جاری فرمائے تھے تا کہ ان کی قوم ان سے پانی پی سکے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ میں چھپنے والی اس دلچسپ رپورٹ کے مطابق مصر کے صوبہ سیناء میں وہ چشمے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آج تک موجود ہیں جنھیں اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے جاری فرمائے تھے تا کہ ان…

Read More

ایسا واقعہ جو رونے پرمجبور کردے

زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی معصوم بچیوں کو سامنے بٹھا کر قبر کھودتے تھے پھر اس بچی کے ہاتھ میں گڑیا دے کر، اسے مٹھائی کا ٹکڑا تھما کر، اسے نیلے پیلے سرخ رنگ کے کپڑے دے کر اس قبر میں بٹھا دیتے تھے۔ . بچی اسے کھیل سمجھتی تھی، وہ قبر میں کپڑوں، مٹھائی کے ٹکڑوں اور گڑیاؤں کے ساتھ کھیلنے لگتی تھی پھر یہ لوگ اچانک اس کھیلتی مسکراتی اور کھلکھلاتی بچی پر ریت اور مٹی ڈالنے لگتے تھے۔ . بچی شروع شروع میں اسے بھی کھیل ہی…

Read More