مادری زبان: پنجابی کا تابناک ماضی مگراب بولنے والے شرمندہ


punjab-map-new
پنجابی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے رہنے والوں کی مادری زبان ہے مگر پنجاب بھر میں پنجابی بولنے والے اپنی مادری زبان بولنے کے حوالے سے شرمندگی کا شکار رہتے ہیں۔پنجابی گھروں میں تو بولی جاتی ہے مگر پبلک مقامات اور محفلوں میں پنجابی بولتے ہوئے لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے ایک بڑے سکول نیٹ ورک ”بیکن ہاؤس“نے تو اپنے طلبہ کو یہ حکمنامہ جاری کر دیا کہ سکول میں اور اپنے گھروں میں بھی پنجابی نہ بولیں جس کی وجہ سکول والے یہ بتاتے ہیں کہ پنجابی ایک غٰیر مہذب زبان ہے اور اس کے بولنے سے بچے غیر مہذب ہوتے ہیں
punjabmap
پنجاب ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں ابتدائی سکول تعلیم مادری زبان کی بجائے قومی زبان میں یا بدیشی زبان ”انگلش“ میں دی جاتی ہے۔اور اس صوبے کے حکمران بدیشی زبان کو اپنے بچوں کے اذہان میں زبردستی ٹھونسنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب پانچویں کلاس تک تعلیم سندھ میں سندھی زبان میں خیبر میں پشتو میں اور بلوچستان میں بلوچی زبان میں دی جاتی ہے۔جبکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے عوام اپنے اس حق سے محروم ہیں کہ انہیں ابتدائی تعلیم ان کی اپنی مادری زبان میں دی جائے۔اس صوبے کے حکمران جانے کیوں تابناک ماضی کیساتھ ایک شاندار حال رکھنے والی زبان کے ساتھ کیوں سوتیلی ماں کے جیسا سلوک کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
پنجابی کا ایک تابناک اور کئی صدیوں پر پھیلا ہوا ماضی ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں پنجابی اس خطے کی سرکاری زبان رہی۔ ابھی بھی ہمارے ہمسائے میں پنجابی زبان بھارتی پنجاب کی سرکاری اور تعلیمی زبان ہے۔سکھ خاص طور پر پنجابی بولتے ہوئے شرمندہ نہیں ہوتے اور اس زبان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
7243
ماہرین زبان کے مطابق دنیا بھر میں سات ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں یا تھیں۔ ان میں سے تین ہزار کے لگ بھگ زبانیں متروک ہوچکی ہیں۔ اور دو ہزار سے زائد زبانیں بالنے والے اتنی کم تعداد میں ہیں کہ ان کا شمار بھی قابل ذکر زبان میں نہیں کیا جا سکتا۔اپنے مادری زبان کے طور پر بولنے والوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کی اشرافیہ کے اذہان پر چھائی زبان انگلش پہلے نمبر پر نہیں ہے۔مادری زبان بولنے والوں کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی زبان ایسی ہے کہ جس کا نام بھی بہت سے ملکوں میں کوئی جانتا بھی نہیں ہو گابلکہ جہاں یہ بولی جاتی ہے وہاں بھی اس ملک کے دیگرزبانیں بولنے والوں کو اس کی اس قدرو منزلت کا اندازہ شائد ہی ہو۔ بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی زبان ”مینڈرین چائنیز“ ہے۔ اس لسٹ میں انگریزی برونز میڈل کی حامل اور تیسرے نمبر پر کھڑی ہے جبکہ پنجاب اس لسٹ کے ٹاپ ٹین میں شامل ہے اور دسویں نمبر پر موجود ہے۔
pjnb
پنجابی زبان کو مستحکم کرنے اور عالمی حیثیت دلانے میں سکھوں کا کردار شک و شبہ سے بالاتر ہے مگر اس کے ساتھ ہی جب ہم پنجابی کے ایک اہم ترین لہجے سرائیکی کے بولنے والوں کی طرف دیکھتے ہیں وہ بھی باہمی گفتگو میں سر محفل بھی پنجابی (سرائیکی لہجے کے ساتھ) بولنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح پنجابی کا ایک اہم لہجہ پوٹھوہاری ہے۔ اس کے بولنے والے بھی پبلک میں اس زبان کو بولنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ عوامی سطح پر بھی پنجابی عام بولی جاتی ہے صرف حکمران اشرافیہ کو اس زبان سے خدا واسطے کا بیر ہے جو کسی طور ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجابی کو اس کی حق دیا جائے۔ پنجاب میں سرکاری نہیں تو کم از کم ابتدائی تعلیم پنجابی میں دئیے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری زبانوں کی طرح اس کے بولنے والوں کے حوالے سے منفی خیالات ذہن میں نہ لائے جائیں بلکہ عملی طور پر ہر پنجابی اپنی مادری 
زبان کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
تحریر۔حامد یٰسین

Related posts