پولیس پٹرول پمپ کے فنڈز میں کروڑوں روپے کے گھپلے


فیصل آباد(احمد یٰسین)پولیس پٹرول پمپ فیصل آباد کے فنڈز میں کروڑوں روپے کے گھپلے سامنے آئے ہیں۔معاملے میں پمپ انچارج کے علاوہ نقدی محرر‘ اکاؤنٹ آفیسر اور بعض اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ کروڑوں روپے کا ہیر پھیر کرنے کے علاوہ جعلی کمپنی سے پمپ کا بوگس آڈٹ بھی کروا لیا گیا۔ آر پی او‘ سی پی او اور ڈائریکٹر انٹی کرپشن معاملے کا علم ہونے اور انکوائری میں ملزمان کے گھپلوں میں ملوث ہونے کاثابت ہونے کے باوجود بااثر ملزمان کیخلاف ایکشن نہیں لے رہے ۔نیوزلائن کے مطابق پولیس پٹرول پمپ فیصل آباد کے فنڈز میں کروڑوں روپے کے گھپلے سامنے آئے ہیں۔ پٹرول پمپ سے پولیس کی گاڑیوں کو سپلائی اور پولیس اکاؤنٹ سے پمپ کو ادائیگیوں میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کیا جا رہا ہے۔ گھپلوں میں پولیس پٹرول پمپ کا انچارج فیاض‘ سابق انچارج رانا آصف‘ سابق نقدی محرر صابر‘ حاجی آصف ‘سی پی او آفس کا سابق اکاؤنٹ آفیسر‘ ایک سابق ایس پی ایڈمن عبدالقادراور متعدد دیگر افراد کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پمپ انچارج فیاض نے صرف پیسوں کا ہی ہیر پھیر نہیں کیا بلکہ جعلی حسابات بنا کر مختلف لوگوں کیخلاف کارروائیاں بھی کرواتا رہا ہے ۔ سابق نقدی محرر صابر کے خلاف انٹی کرپشن کی ایک انکوائری میں 45لاکھ روپے پولیس اکاؤنٹ سے نکلوانے مگر پمپ کو ادائیگی نہ کرنا ثابت بھی ہوگیا مگر اس کیخلاف کوئی ایکشن نہ لیا جا سکا۔ سابق ایس پی ایڈمن نے اپنے بھائی کی بوگس فرم سے جعلی آڈٹ کروا کے لاکھوں روپے بٹور لئے۔ سابق پمپ انچارج رانا آصف پر گھپلوں کا الزام ثابت ہوا اور 80لاکھ روپے کی ریکوری بھی ہوگئی مگر قانون پھر بھی حرکت میں نہ آیا۔ پمپ انچارج فیاض کے ریکارڈ ٹمپرڈ کرنے اور متعدد حسابات کو ادھر ادھر کرکے گھپلے کرنے انکوائریوں میں ثابت ہوتا رہا مگر اعلیٰ افسران اس کے اثرورسوخ کی وجہ سے کارروائی سے گریزاں رہے۔ ریجنل انویسٹی گیشن بیورو کی ایک انکوائری میں انکوائری آفیسر اشتیاق رسول نے پولیس پمپ کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلے ہونے کی تصدیق کی اور کروڑوں روپے کے اس معاملے پر اکانٹنٹ جنرل آف پاکستان سے آڈٹ کروانے کی سفارش کی مگر اس کے باوجود اعلیٰ افسران کرپٹ مافیا کے خلاف کاروائی نہ کرسکے اور نہ ہی غیرجانبدارانہ آڈٹ کروانے آمادہ ہوئے۔نیوزلائن کے مطابق پولیس پٹرول پمپ کے فنڈزمیں کروڑوں روپے کے گھپلوں بارے آر پی او فیصل آبادآفس ‘ سی پی او فیصل آباد آفس ‘ڈائریکٹوریٹ آف انٹی کرپشن اور دیگر حکام بھی آگاہ ہیں مگر بااثر کرپٹ مافیا کے خلاف ایکشن لینے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے۔

Related posts