ہڑتال کرنے والے بیوروکریٹس کیخلاف مقدمات کا مطالبہ


فیصل آباد(نیوزلائن)آئین اور قانون کے تحت سول سرونٹس ہڑتال‘ دفاتر کی تالہ بندی اور احتجاجی مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ ایسا کرکے پنجاب کی بیوروکریسی نے آئین اور قانون سے کھلواڑ کیا ہے جس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ ان کے خلاف مقدمات درج اور سرکاری ملازمت سے فارغ کیا جائے۔ یہ مطالبات قانونی ماہرین اور سیاسی رہنما کررہے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب کی بیوروکریسی نے احد چیمہ کی نیب کا ہاتھوں گرفتاری کیخلاف گزشتہ روز ہڑتال کی اور افسران کی بڑی تعداد دفاتر سے غیر حاضر رہی۔ افسران نے لاہور میں اکٹھے ہو کر اور بازو پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ بیوروکریسی کی ہڑتال کے پیچھے براہ راست وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف ہیں ۔ ہڑتال ان کے اشارے پر ہی ہوئی اور رات گئے ان کے اشارے پر ہی ہڑتال ختم کردی گئی۔ ہڑتال کا مقصد نیب کو دباؤ میں لانا بتایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کی ہڑتال قطعی طور غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ بیوروکریٹس قانون کے مطابق ہونے والی کسی کارروائی پر کام چھوڑ ہڑتال پر گئے انہوں نے احتجاج کیلئے تفتیش کے نتائج سامنے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا۔ ایسا کرکے انہوں نے قانون سے کھلا کھلواڑ کیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڑتال کرنے والے بیوروکریٹس کیخلاف مقدمات درج کئے جانے چاہئیں اور انہیں ملازمت سے فارغ کیا جانا چاہئے تا کہ مستقبل میں کسی کو قانون سے ایسا کھلواڑ کرنے کی جرأت نہ ہو۔

Related posts