تاحیات نااہلی فیصلہ: پی ٹی آئی فیصل آباد کی پوری تنظیم نااہل

فیصل آباد(احمد یٰسین)سپریم کورٹ کی طرف سے آرٹیکل 62ون ایف میں تاحیات نااہلی کا فیصلہ آنے سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی پارلیمانی سیاست کاہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیا ہے تو اس کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف کی فیصل آباد ضلع و ڈویژن سمیت ویسٹ پنجاب ریجن کی پوری قیادت نااہل ہو گئی ہے۔ میاں نواز شریف کا کیس کا براہ راست اثر تحریک انصاف کی تنظیم سازی پر پڑا ہے اور ویسٹ پنجاب ریجن میں پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ فیصل آباد‘ جھنگ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ چنیوٹ‘ ساہیوال‘ اوکاڑہ اور ویسٹ پنجاب ریجن کے دیگر اضلاع میں تحریک انصاف اور اس کے ذیلی ونگز کے تمام تنظیمی عہدیدار نااہل ہوگئے ہیں ۔ مگر خوش قسمتی سے ان کی یہ نااہلی تاحیات نہیں ہے ۔ پی ٹی آئی کے ضلعی صدر چوہدری علی اختر‘ ریجنل جنرل سیکرٹری فیض کموکا‘ سٹی صدر اسد معظم ‘ سیکرٹری اطلاعات جاوید اشرف سمیت تمام ضلعی ‘ سٹی ‘ تحصیل‘ ریجنل عہدیدار یکلخت فارغ ہوگئے ہیں اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ذیلی ونگز کے عہدیدار بھی اپنے عہدوں پر نہیں رہے۔ نیوزلائن کے مطابق پی ٹی آئی کے پارٹی آئین کو رو سے فیصل آباد میں اس کی مکمل تنظیم سازی کا ڈھانچہ دھڑام سے نیچے آگرا ہے۔پی ٹی آئی کے آئین کی رو سے ریجنل صدر ہی سب اختیارات کا مالک اور اسی کیساتھ ہی تمام ریجنل ‘ضلعی‘ تحصیل‘ سٹی عہدیدارنتھی ہیں۔ پارٹی کے تمام ذیلی ونگزکے عہدیداروں کا انحصار بھی ریجنل صدر کیساتھ ہی رکھا گیاہے۔ فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن پر مشتمل پی ٹی آئی کے ویسٹ پنجاب ریجن کے صدر سابق ایم این اے چوہدری اشفاق تھے تو انہوں نے ریجن کے تمام اضلاع ‘ تحصیلوں‘ شہروں‘ قصبوں میں پی ٹی آئی اور اس کے ذیلی ونگز کے عہدیدار اپنی مرضی سے نامزد کئے۔ نئے الیکشن میں سابق ایم این اے رائے حسن نواز ویسٹ پنجاب ریجن کے صدر منتخب قرار پائے ۔ اور انہوں نے پرانی تنظیم کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے ہر ضلع‘ شہر ‘ تحصیل میں اپنی مرضی کے لوگوں کو عہدے دے دئیے۔ رائے حسن نواز سپریم کورٹ سے آرٹیکل62ون ایف کے تحت پہلے ہی نااہل ہوچکے ہیں مگر اس بارے کیس سپریم کورٹ میں نااہلی مدت تعین کا کیس زیرسماعت ہونے کی وجہ سے وہ پرامید تھے اور کوئی نہ کوئی ریلیف ملنے کی توقع پر پارٹی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اب سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ سنا دیا کہ آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی مدت تاحیات ہوگی جس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی میں ایک بڑے گروپ کو لیڈ کرنے والے رائے حسن کی پارلیمانی اور پارٹی سیاست کا باب مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ رائے حسن نواز تو پارٹی سے فارغ ہوئے ہی ہیں مگر اپنے ساتھ اپنے گروپ کو بھی لے ڈوبے ہیں۔ رائے حسن نواز کے صدر بنتے ہی پارٹی کی اندرونی سیاست میں سرگرم ہونے اور دوسرے گروپوں کیساتھ بگاڑ لینے والے مقامی عہدیداروں کیلئے نئی مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں۔رائے حسن نواز کے فارغ ہوتے ہی پارٹی آئین کی رو سے پی ٹی آئی فیصل آباد کے ضلعی صدر چوہدری علی اختر‘ سٹی صدر اسد معظم‘ ریجنل جنرل سیکرٹری فیض کموکا‘ سیکرٹری اطلاعات ‘ جھنگ ‘ ٹوبہ‘ چنیوٹ‘ ساہیوال‘ اوکاڑہ و دیگر اضلاع کے عہدیدار بھی اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہ سکے۔ پارٹی کے تمام ذیلی ونگز کے عہدیدار فوری طور پر اپنے عہدوں سے نااہل ہو گئے ہیں۔اور پی ٹی آئی ویسٹ پنجاب ریجن میں زیرو پر آکھڑی ہوئی ہے۔

Related posts