پنجاب اسمبلی میں بڈھوں کا راج‘ نوجوانوں کی نمائندگی 2فیصد سے بھی کم

اسلام آباد(رپورٹ:رانا حامد یٰسین)پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے ایوان اعلیٰ میں بابوں کی حکمرانی ہے۔ملک کی سب سے بڑی آبادی نوجوانوں کی پنجاب اسمبلی میں نمائندگی دو فیصد بھی نہیں ہے۔ نوجوانوں کی نمائندگی کی دعویدار پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت ہے مگر اس نے بھی نوجوانوں کی بجائے بابوں کو ہی اسمبلی میں پہنچایا ہے۔ 20جاگیردار اور ایک صحافی بھی پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اس وقت کل ارکان 75خواتین سمیت 369ہیں۔جس میں سے صرف اکسٹھ ممبرچالیس سال سے کم عمر کے ہیں۔نوجوانی کی عمر تیس سال سے کم عمر کے تو صرف سات ایم پی اے ہیں اور ان میں سے نوجوانوں کی نمائندگی کی دعویدار پی ٹی آئی کا ایک بھی نہیں ہے۔ نوجوان ایم پی ایز میں سے چھ مسلم لیگ ن کے ہیں

اور ایک آزاد منتخب ہوا ہے۔نوجوان ایم پی ایز میں سے تین فیصل آباد کے احسن ریاض فتیانہ‘ راناشعیب ادریس‘ مدیحہ رانا‘ جبکہ دو فیصل آباد کے ارد گرد شہروں شیخوپورہ کے حسان ریاض‘ اوکاڑہ کی ثمینہ کوثرشامل ہیں۔ میاں نوید علی پاکپتن اور زبیر بلوچ لودھراں سے منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔تیس سال سے کم عمر کے سات ارکان پنجاب اسمبلی میں دو خواتین مدیحہ رانا اور ثمینہ کوثر بھی شامل ہیں۔پنجاب اسمبلی کے سب سے کم عمر رکن شیخوپورہ سے منتخب ہونے والے حسان ریاض ہیں۔پنجاب اسمبلی کے پچاس سال سے زائد عمر کے ارکان کی تعداد 135 ہے۔ جبکہ 100ارکان چالیس اور پچاس کے درمیان عمر رکھتے ہیں۔جھنگ سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا رحمت اللہ اس ایوان کے معمر ترین 82سالہ رکن ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی رکنیت رکھنے والوں میں سے صرف تین پی ایچ ڈی ہیں جبکہ ایک خاتون سمیت دو ایم پی اے انڈر میٹرک ہونے کے باوجود اسمبلی پہنچ چکے ہیں۔انڈر میٹرک ایم پی ایز میں خاتون رکن زیب النساء اور لودھراں سے منتخب ہونے والے پیزادہ محمد جہانگیر سلطان ہیں۔دو ایم فل‘ 48وکالت‘ دس ایم ایس سی‘گیارہ ایم بی اے‘ 23ماسٹرز‘ دو بی ایڈ‘ چار بی ایس آنرز‘122گریجویٹ‘ دو انجینئر‘ ایک انٹیرئیر ڈیزائنر ہے۔ تین کے پاس شہادت العالمیہ‘ چوبیس انٹر میڈیٹ‘ انیس میٹرک اور ایک تنظیم المدارس کی سند رکھنے والے ہیں۔اس کے علاوہ سات ڈاکٹر بھی پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ایوان میں سب سے زیادہ ارکان مسلم لیگ ن کے 312ہیں جبکہ مسلم لیگ ضیاء کے تین اور بہاولپور عوامی پارٹی کا ایک رکن بھی حکومتی بنچوں پر ہیں۔تحریک انصاف کی تیس‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی آٹھ آٹھ‘ نیشنل مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کی ایک ایک نشست ہے‘ پانچ آزاد ارکان بھی اپوزیشن بنچوں کا حصہ ہیں۔پنجاب اسمبلی کے ایک ہندو رکن بھی ہیں۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے کانجی رام کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور وہ رحیم یار خان کے ایک چھوٹے بزنس مین ہیں۔ نان مسلم کیلئے مختص نشستوں پر منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔پنجاب اسمبلی میں ایک سکھ کو بھی رکنیت حاصل ہے۔ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے رمیش سنگھ اروڑا بنیادی طور پر تو ننکانہ صاحب کے رہائشی ہیں مگر اب اسلام آباد میں سکونت کر چکے۔ تعلق مسلم لیگ ن سے اور ایم بی اے تعلیم رکھتے ہیں۔پنجاب اسمبلی میں 9مسیحی ایم پی اے بھی ہیں۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مسیحی رکن خلیل طاہر سندھو وزارت بھی حاصل کر چکے۔ مسیحی ارکان میں تین خواتین بھی شامل ہیں اور یہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچی ہیں۔اسمبلی کے 358ارکان مسلمان ہیں۔فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک رکن آزاد علی تبسم اپنا پیشہ صحافت ظاہر کرتے ہیں اگرچہ ان کا بیرون ملک بزنس بھی ہے۔اسمبلی ارکان میں سے چھبیس وکیل‘ 103زمیندار‘ 83 بزنس مین‘ سات ڈاکٹر‘چھ ماہر تعلیم‘ ایک صنعتکار‘ تیرہ گھریلو خواتین‘ 19جاگیردار‘ ایک جاگیردارنی‘ ایک تاجر‘ گیارہ سوشل ورکر‘ پانچ ٹیچر‘ اور تین مذہبی ٹیچرہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سات ارکان کا اوڑھنا بچھونا سیاست ہی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنا پیشہ بھی سیاست ہی ظاہر کیا ہے۔

 

 

 

 

 

Related posts