موبائل فون کمپنیوں کے دفاتر بیگار کیمپ بن گئے


اسلام آباد(نیوزلائن)ملٹی نیشنل کمپنیاں ہونے کی دعویدار پاکستانی موبائل فون کمپنیوں کے دفاتر کسی بیگار کیمپ سے کم نہیں ہیں۔ ملازمین کا استحصال کرنے میں کوئی کمپنی پیچھے نہیں ہے۔ٹیلی نار ہویا زونگ‘ موبی لنک اور وارد ہو یا یوفون اس میدان میں سبھی ایک دوسرے پر سبقت لینے میں لگے ہوئے ہیں۔ نیوز لائن کے مطابق پاکستان میں سرگرم تمام موبائل فون کمپنیوں کے 90فیصد ملازمین ایک ورکر کے طور پر اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ لاہور‘ اسلام آباد‘ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ فیصل آباد‘ حیدرآباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں موبائل فون کمپنیوں کے دفاتر میں کام کرنے والے ان ورکرز کو یہ کمپنیاں اپنا ورکر تک تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ان موبائل فون کمپنیوں کی سیل اور پروموشن کیلئے دن رات کام کرنے والے ان لاکھوں ورکرز کو کمپنیاں ملازمت کا تحفظ دیتی ہیں اور نہ ہی ایک ورکر کے طور پر پاکستانی قوانین کے مطابق تنخواہ اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق کولہو کے بیل کی طرح ان ورکرز سے موبائل فون کمپنیاں اٹھارہ‘اٹھارہ گھنٹے کام لیتی ہیں اور بدلے میں انہیں ایک مزدور کے برابر بھی تنخواہ اور مراعات نہیں دی جاتیں۔ موبائل کمپنیوں نے اپنے ورکرز سوشل سکیورٹی سمیت کسی محکمے میں رجسٹریشن نہیں کروائی اور نہ ہی اپنے ورکرز کو خود سے کسی قسم کی مراعات دینے کو تیار ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ہر کمپنی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ورکرز کی سوشل سکیورٹی رجسٹریشن یقینی بنائے۔ انہیں قانون کے مطابق تنخواہیں ادا کرے اور ملکی قوانین کے انہیں دیگر مراعات بھی دے۔ کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کمپنیوں کیلئے تو یہ بھی لازمی ہے کہ سوشل سکیورٹی رجسٹریشن ایکٹ‘ ای او بی آئی رولز‘ ورک میں کمپنسیشن ایکٹ‘ لیبر لاز کے علاوہ کمپنیز ایکٹ کے تحت بھی اپنے ورکرز کو مناسب تنخواہیں‘ ملامت کا تحفظ اور دیگر مراعات دے۔ ایسا نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہئے۔ موبائل فون کمپنیاں اپنے ورکرز سے بیگار لے رہی ہیں تو وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ان کیخلاف فوری اور سخت ایکشن لینے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

 

 

 

Related posts