سکیورٹی گارڈ: جی سی یونیورسٹی فیصل آبادکا سب سے طاقتور افسر

فیصل آباد(احمد یٰسین)یونیورسٹیاں کسی بھی ملک‘ کمیونٹی‘ شہرمیں تحقیق و تدریس کے پیمانے‘ طلبہ و اساتذہ کی تکریم اور تہذیب و ثقافت کے اثرات کو جاننے‘ ماپنے اور جانچنے کا بہترین مقام اور ذریعہ مانی جاتی ہیں۔پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں پبلک سیکٹر کی جنرل کیٹگری کی پہلی اور واحد یونیورسٹی کا اعزاز”جی سی یونیورسٹی فیصل آباد“کو حاصل ہے مگر کیا ہی افسوس کا مقام کہ جی سی یونیورسٹی کو دیکھ کر اس میں جا کر اس کا ماحول دیکھ کر کسی”ایم سی گرلز ہائی سکول“ سے زیادہ کا تاثر نہیں ملتا۔مگر شائد ایساکہنا بھی غلط ہے جی سی یونیورسٹی کا آغاز سے ہی المیہ رہا ہے کہ اسے کوئی بہترین دماغی اپروچ والا وی سی نہیں ملا۔ جو بھی آیا کسی نہ کسی کے ہاتھ کا کھلونا بن کر آیا۔ جی سی یونیورسٹی کا ماحول دیکھ کر فیصل آباد کا سیدھا سیدھا تاثر ایک دقیانوسی اور تنگ نظر شہر کا ملتا ہے۔ جہاں طاقت سب کچھ مانا جاتا ہے۔ جی سی یونیورسٹی میں طلبہ تو ایک طرف اساتذہ سے بھی زیادہ اختیارات سکیورٹی گارڈ کے پاس ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹرز‘ لیکچررز‘ کلیریکل سٹاف تو گارڈذ کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔سکیورٹی گارڈز کو اتنے اختیارات حاصل ہیں کہ وہ پی ایچ ڈی اور ایم فل کے سکالرز کو بھی کسی بھی وقت‘ کسی بھی مقام پر روک کر ان سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں اور انہیں یونیورسٹی میں گھومنے پھرنے‘ کسی مقام پر بیٹھنے‘ کسی سے بات کرنے‘ اور یونیورسٹی میں داخل ہونے سے منع کر سکتے ہیں۔پی ایچ ڈی سکالرز تو ایک طرف رہے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز سے بھی پوچھ گچھ کئے جانے میں گارڈز مضائقہ نہیں سمجھتے اور اسے اپنے اختیارات کا حصہ سمجھتے ہیں۔”ڈنڈا“ یونیورسٹی میں سدھار لانے کا بہترین آلہ مانا جا رہا ہے۔ سکیورٹی گارڈز کی طرف سے طلباء کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات یونیورسٹی میں آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔ خود یونیورسٹی کا سکیورٹی آفیسر افتخار طلباء کو تشدد کا نشانہ بناتا اور اپنے سامنے تشددکا نشانہ بنوا کر اپنی متشدد طبیعت کو تسکین دیتا ہے۔اس حوالے سے یونیورسٹی کے‘ ڈی ایس اے‘ رجسٹرار‘ وائس چانسلر اور دیگر حکام کے پاس لاتعداد شکایات آچکی ہیں مگر اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ طاقتور سکیورٹی آفیسر اورلامحدود اختیارات کا حامل گارڈزکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا یونیورسٹی کے سکیورٹی آفیسر افتخار کہنا ہے کہ جامعہ میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے ایسے میں ڈنڈا استعمال کئے اور گارڈز کو لامحدود اختیارات دئیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ گارڈز کچھ غلط نہیں کر رہے۔ جب طلباء و طالبات ان کی بات نہیں مانیں گے تو انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔

Related posts