کامیڈی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ


کہا جاتا ہے کہ ہنسانا بہت مشکل کام ہے اور یہ سو فیصد سچ بھی ہے کہ رلانے والے تو آپ کو بہت ملیں گے لیکن زندگی کے اس پر خطر اور کٹھن سفر میں ہنسنے ہنسانے والوں کی تعداد بہت کم ہو گی ، منور ظریف بھی ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اپنی بے ساختہ کامیڈی سے فلم بینوں اور اپنے شائقین کو اب تک اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے ۔

دو فروری انیس سو چالیس کو گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے منور ظریف فلمی دنیا میں پہلے سے موجود اداکار ظریف کے چھوٹے بھائی تھے ۔ ان کا اصلی نام محمد منور تھا ، ان کے بھائی ظریف قیام پاکستان کے فورا بعد کی بننے والی فلموں میں کام کرتے رہےتاہم وہ اپنے بھائی کی وفات کے بعد شوبز کی دنیا میں آئے ۔

منور ظریف کے دو چھوٹے بھائیوں مجید ظریف اور رشید ظریف نے بھی فلموں میں کام کیا ۔ منور ظریف کا فنی سفر کم و بیش سولہ سال پر محیط رہا ، اس تمام عرصے میں انھوں نے تقریبا تین سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا جن میں سے ستر فلمیں اردوزبان میں تھیں ، اگر ان کی فلموں کا اوسط نکالا جائے تو تقریبا ہر سال ان کی اکیس فلمیں ریلیز ہوتی تھیں ۔

منور ظریف کا دور ایک ایسا دور تھا جب پاکستانی فلموں میں مرزا اشرف ، چارلی ، غوری اور یعقوب جیسے بلند پایہ کامیڈین موجود تھے لیکن منور ظریف نے مشہور مزاحیہ اداکار رنگیلا کے ساتھ جوڑی بنائی ، وہ صرف مزاحیہ کرداروں تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ بطور ہیرو بھی خود کو منوایا ۔

بطور ہیرو اور ٹائٹل رول میں ان کی پہلی پنجابی فلم ’’ اج دا مہینوال ‘‘ تھا اس میں ان کی ہیروئین نامور اداکارہ آسیہ تھیں ، یہ فلم باکس آفس پر تو ناکام ہو گئی لیکن اسکے فورا بعد فلم ’’ بنارسی ٹھگ ‘‘نے انھیں بام عروج پر پہنچا دیا ۔ وہ ایسے پاکستانی اداکار تھے جنہوں نے نسوانی کردار بھی ادا کئے ، ان پر روبینہ بدر ، ناہید اختر اور مہناز کے گانے بھی فلمائے گئے ، منور ظریف پر ان گانوں کا فلمانا یقینا نسوانی کرداروں کو ان کی بہترین طریقے سے ادا کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار تھا ۔

شنہشاہ ظرافت منور ظریف نے اپنے کرئیر کا آغاز انیس سو اکسٹھ میں پنجابی فلم ’’ ڈنڈیاں ‘‘ سے کیا ، انیس سو چونسٹھ میں ’’ہتھ جوڑی ‘‘فلم میں رنگیلا کے ساتھ مزاحیہ اداکار کے طور پر بڑی سکرین پر جلوہ گر ہوئے ۔ انیس سو تہتر کا سال ان کی زندگی کے لئے ایک اہم سال ثابت ہوا انھوں نے اردو فلم ’’پردے میں رہنے دو ‘‘میں رنگیلا کے ساتھ ہی سائیڈ ہیرو کے طور پر کام کیا ، ان کی فلم ’’ بنارسی ٹھگ ‘‘ اسلئے بھی زیادہ مشہور ہوئی کہ انھوں نے مذکورہ فلم میں کئی گیٹ اپس اور کردار ادا کئے جن کی وجہ سے وہ فلم بینوں کی دلوں میں گھر کر گئے ۔

منور ظریف خداداد صلاحیتوں کے حامل تھے وہ رقص بھی جانتے تھے ، انیس سو پھچھتر میں ایک فلم ’’ جانو کپتی‘‘ میں انھوں نے رقص میں آسیہ سے بھی مقابلہ کیا تھا ، زیادہ تر ان پر گلوکار مسعود رانا کے گائے ہوئے گیت ہی فلمائے گئے ، ان کی کامیڈی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ مزاحیہ کرداروں کو بھی باوقار انداز سے ادا کرنے کے ماہر تھے ، آج کل کے دور میں ہمیں جو سٹیج ،تھئیٹر اور فلموں میں کامیڈی کا گرا ہوامعیار نظر آتا ہے وہ ان کے زمانے میں نہیں تھا ۔

رنگیلا اور ان کی جوڑی کو ہمیشہ لوگوں کی پسندیدگی کی سند حاصل رہی اسی وجہ سے ایک اردو فلم ’’ رنگیلا اور منور ظریف ‘‘ نامی بھی بنائی گئی جس کی وجہ سے بھی ان کی شہرت میں اضافہ ہوا ۔ منور ظریف کی چند مشہور فلموں میں ’’ بنارسی ٹھگ ‘‘ ، ’’ دامن اور چنگاری ‘‘ ، ’’ منجی کتھے ڈاواں ‘‘، ’’ موج میلہ ‘‘ ، ’’ سوکن ‘‘ ، ’’ جیرا بلیڈ ‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔

اعزازت کی بات کریں تو منور ظریف یہاں بھی پیچھے نہیں رہے انھوں نے انیس سو اکہتر میں ’’ فلم عشق دیوانہ ‘‘ میں پہلی مرتبہ خصوصی نگار ایوارڈ حاصل کیا ۔ اسکے بعد انھیں فلم ’’ بہارو پھول برسائو ‘‘ اور ’’ زینت ‘‘ میں بھی نگار ایوارڈ ملے ۔

منور ظریف آج ہم میں نہیں لیکن چھتیس سال کی مختصر زندگی میں وہ بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں خوشی اور مسکراہٹ کے رنگ بکھیر گئے ۔

Related posts