دفاعی اہمیت کے 3ائیر پورٹ غیرملکیوں کو لیز پر دینے کا اشتہار جاری

اسلام آباد(رانا حامد یٰسین)مسلم لیگ ن کی حکومت نے نجکاری کی انتہا کر دی ہے اور ملکی کے بعد قومی و دفاعی اہمیت کے اثاثے بھی فروخت کرنے کیلئے پیش کر دئیے ہیں۔وفاقی حکومت نے اس مرتبہ تین اہم نوعیت کے ائیر پورٹ لیز پر دینے کی تیاریاں کی ہیں۔نیوز لائن کے مطابق مسلم لیگ نے کی وفاقی حکومت تین ہوائی اڈے‘ بے نظیر بھٹو ائیر پورٹ اسلام آباد‘ قائد اعظم ائیر پورٹ کراچی اور علامہ اقبال ائیر پورٹ لاہور کو 30سال کیلئے غیر ملکی کمپنیوں کو لیز دے رہی ہے۔اس کیلئے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاہور اوراسلام آبادکا نیوایئرپورٹ کونجی شعبے میں دیے جانے سے متعلق منگل کوباقاعدہ اشتہاربھی جاری کردیا جس میں بیرون ملک کمپنیوں کومدعوکیا گیا ہے۔ کمپنیوں کو 30سال کیلئے یہ ائیر پورٹ آؤٹ سورس کئے جائیں گے۔ تینوں ائیر پورٹ ایک ہی کمپنی کو بھی دئیے جا سکتے ہیں اور الگ الگ کمپنیاں بھی اس کی لیز حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ جو کمپنی اوپن آکشن میں زیادہ بولی دے گی اسے ٹینڈر ایوارڈ کردیا جائے گا۔ ادھر ایوی ایشن ڈویژن کے سینئر افسر نے بتایا کہ ایئرپورٹس کو30، 30 سال کے لیے آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ ہوا ہے تاہم ایئرپورٹ پر ٹریفک کنٹرول اور سیکیورٹی نظام مکمل طور پر سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے پاس رہے گا جب کہ جو کمپنی ٹینڈر میں کامیابی حاصل کرکے ایئرپورٹ کوآپریٹ کرے گی اس کے ذمے پیسنجرز ہینڈلنگ، صفائی، ڈیوٹی فری شاپس، ریفریشمنٹ ایریاز وآؤٹ لیٹس سمیت دیگر شعبوں کوچلانے کی ذمے داری ہوگی . تینوں ایئرپورٹس کے انتہائی اہم شعبے جات بھی غیر ملکی کمپنی کی نگرانی میں چلے جائیںگے۔ نیوز لائن کے مطابق کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی گزشتہ سال آمدنی 3 ارب روپے تھی جس کواب نجی شعبے میں دینے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں جبکہ 3 سال قبل انٹرنیشنل ایسوی ایشن (اکاوٌ) نے سول ایوی ایشن کے تحت کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کودنیا کا 10 واں بہترین ایئرپورٹ قراردیا تھا اورایئرپورٹ پر بہترین سروس فراہم کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیاتھا اس اعزاز اور سالانہ 3ارب روپے کی آمدنی والے ایئرپورٹ کوحکومت نجی شعبے میں دے رہی ہے۔ کراچی ایئرپورٹ 3 ہزار ایکٹر سے زائد اراضی پر قائم ہے جبکہ اسکی حدود میں متعدد سروس اسٹیشنز، شادی ہال،پیٹرول پمپس سمیت دیگرکاروباری مراکزموجود ہیں جبکہ حدود میں لگائے گئے سائن بورڈز، بل بورڈزکی آمدنی بھی غیرملکی کمپنی کو حاصل ہوجائے گی، جس سے قومی دولت کی بیرون ملک منتقلی کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت ملک کے تمام ایئرپورٹس پر حساس نوعیت کے ریڈار سمیت دیگر آلات نصب ہیں، ایئرپورٹس کو نجی شعبے میں دینے سے متعدد سوالات جنم لیں گے،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذمے دار افسرکے مطابق تینوں ایئرپورٹس غیر ملکیوںکی نگرانی میں دیے جانے سے ملکی سیکیورٹی پر بھی سوال پیدا ہو سکتے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ ٹیکس اورکارپارکنگ فیس میں اضافے کا جواز بھی بنادیا جائے گاجومسافروں کو برداشت کرنا پڑے گا، اندرون ملک پرواز پر ایک ہزار فی ٹکٹ ایئرپورٹ ٹیکس جبکہ بیرون ملک2ہزار فی ٹکٹ وصول کیا جاتا ہے تاہم نجی شعبے میں دیے جانے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی اس بڑی آمدنی سے محروم ہوجائے گا ۔دوسری جانب ایئرپورٹ کونجی شعبے کو دینے کی اطلاعات پرملازمین میں شدید خوف وہراس پھیل گیا، ملازمین کاکہنا ہے کہ نجی شعبے میں جانے کے بعد ہماری ملازمتیں خطرے میں پڑ جائیںگی، واضح رہے کہ منگل کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے اشتہار میں کہاگیا ہے کہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ایئرپورٹس کا انتظام وانصرام چلانے کیلیے بیرون ممالک کمپنیوں سے ریفرنس آف پرپوزل طلب کرلیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں دیے جانے کا عمل اسلام آباد میں کئی ماہ سے جاری ہے تاہم ٹینڈرز منگل کو شائع کرائے گئے ہیں ماہرین کے مطابق پاکستان کے تینوں ائیر پورٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور یہ نہ صرف ہوائی اڈے کے حوالے سے اہمیٹ رکھتے ہیں بلکہ ملکی دفاع کیلئے بھی ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ائیر پورٹس کو لیز پر دینے کا وفاقی حکومت کے فیصلہ کو دفاعی ماہرین ملکی دفاع کو مشکوک بنانے اور اپنا دفاع غیرملکیوں کے حوالے کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ائیر پورٹس اور دیگر دفاعی اہمیت کے مقامات حکومتی اور ملکی اثاثوں سے زیادہ قومی اثاثہ ہوتے ہیں ان کو لیز پر دینا اپنی شہ رگ کسی کے حوالے کردینے کے برابر ہے ایسا کرنا کسی قومی مفاد میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Related posts