پنجاب کے 95 لاکھ مزدورکا المیہ: خادم اعلیٰ ایک نظر ادھر بھی

پنجاب حکومت ملک میں ایک عام تاثر یہ دے رہی ہے کہ صوبے میں سب اچھا ہے اور پورا صوبہ ایک نظام کے تحت خودکار انداز میں چل رہا ہے۔ مگر افسوس یہ کہ اسی صوبے کے ایک کروڑ باسی اپنے بنیادی سماجی حق سے محروم ہیں مگر کوئی حکومتی عہدیدار اور خود ”خادم اعلیٰ“جناب محترم چیف منسٹر میاں شہباز شریف اس سماجی مسئلے کو حل کرکے صوبے کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔پاکستان میں ایک عام آدمی کو صحت‘ تعلیم‘ لائف انشورنس‘ بیٹی کی شادی کیلئے امداد‘ جیسی سہولت مل جائے تو اس کے 90فیصد مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ یہ مسائل صرف ایک فیصلے سے حل ہو سکتے ہیں مگر اس کیلئے صوبائی حکومتوں کو ایمانداری کے ساتھ سوشل سکیورٹی کا نظام اور رجسٹریشن کرنا ہو گی۔ پنجاب میں یہ سب سے بڑا مسئلہ اس لئے بن چکی ہے کہ ایک تو پنجاب ملک کی نصف آبادی کا حامل ملک ہے اور دوسرے یہ کہ سماجی و صنعتی ترقی کی بدولت پنجاب میں صنعتی و تجارتی محنت کشوں کی تعداد دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔اس لئے دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب حکومت کو اس جانب زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پنجاب حکومت عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے مگر اپنے ہی صوبے کی فیکٹریوں میں کولہوکے بیل کی طرح مشقت کرنے والے محنت کشوں کو ”مزدور“تک ماننے کیلئے تیار نہیں ہے ایک رپوٹ کے مطابق پنجاب کا 95لاکھ سے زائد مزدور ”مزدور“ کی حکومت کی طے کردہ تعریف پو پورا اترنے کے باوجود اپنا مزدور کا تشخص اور درجہ حاصل نہیں کر پا رہا۔ سیاسی دباؤ‘ کرپٹ بیوروکریسی‘ صنعتی مالکان کی ہوس زر اور استحصالی نظام مزدور کے مزدور مانے جانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ پنجاب کے صنعتی یونٹس میں ایک کروڑ سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں جو کہ قواعد کی رو سے مزدور مانے جانے چاہئیں۔پنجاب حکومت نے مزدور کی تعریف یہ کر رکھی ہے کہ جو کسی صنعتی یا ٹریڈنگ یونٹ میں ورکر ہو مگر اس کی آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کی تنخواہ 18ہزار روپے سے زیادہ نہ ہو۔اس تعریف پو پورا اترنے والے کو پنجاب حکومت مزدور مانتی ہے اور اس کی مزدور کے طور پر رجسٹریشن پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ) میں کی جاتی ہے۔ صوبہ بھر میں ایک کروڑ سے زائد تصدیق شدہ مزدور ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کا متعلقہ ادارہ ان کی رجسٹریشن نہیں کرتا۔سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق کاغذی لحاظ سے پنجاب بھر میں صرف گیارہ لاکھ کے لگ بھگ مزدوروں کی رجسٹریشن کی گئی ہے ان میں سے بھی صرف ساڑھے چار لاکھ مزدور کو سوشل سکیورٹی کارڈ جاری ہوا ہے۔ جبکہ 95لاکھ سے زائد مزدورتگڑی سفارش نہ ہونے کہ وجہ سے اپنا ”مزدور“ کا تشخص منوانے میں بھی ناکام ہیں۔ سوشل سکیورٹی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ محنت کش پنجاب حکومت کی طرف سے مزدوروں کیلئے فراہم کی جانیوالی سہولیات سے استفادہ نہیں کر پا رہے۔یہ محنت کش‘سرکاری ریکارڈ میں ”لیبر“ کے طور پر جانے ہی نہیں جاتے اور نہ ہی محنت کشوں کیلئے خصوصی طور بنائے گئے سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں ان کا علاج معالجہ ہوتا ہے‘ مزدوروں کے بچوں کیلئے بنائے سکولوں میں ان محنت کشوں کے داخلہ بھی ممنوع ہے۔نان رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے غربت کی چکی میں پستے ان مزدوروں کو میرج گرانٹ‘ڈیتھ گرانٹ‘رہائشی سہولیات بھی حاصل نہیں ہوتی جو کہ پنجاب حکومت مزدوروں کو فراہم کرتی ہے۔ صورتحال کا علم ہونے اور محنت کشوں کی تنظیموں کے احتجاجوں اور تحریکوں کے باوجود پنجاب حکومت کے ذمہ داران خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنیوالے ان غریب مزدور کی اشک شوئی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اس حوالے سے لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب‘ سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن اور وفاقی حکومت کے ادارے ای او بی آئی اور تاجروں و صنعتکاروں کی نمائندگی کرنیوالے ادارے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے اعدادو شمار میں حیرت انگیز طور بہت زیادہ فرق ہے۔
پنجاب میں مزدور کی رجسٹریشن کا مسئلہ محکمہ سوشل سکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ حل ہونا ہے حکومت کی سطح پر کیونکہ اس رجسٹریشن کی راہ میں پنجاب حکومت کی پالیسی اور کرپٹ سیاسی و سماجی نظام حائل ہے۔ پنجاب حکومت نے مزدور کی رجسٹریشن کا کنٹرول مکمل طور پر صنعتی و تجارتی اداروں کے مالکان کے حق میں دے رکھا ہے ایسے میں کونسا مالک ایسا ہو گا جو چاہے گا کہ وہ اپنے مزدور کی رجسٹڑیشن کروائے اور اس کے بدلے میں محکمہ کو ہر ماہ سب ونشن (چندہ) فی کس ایک ہزار روپے ادا کرے چاہے یہ چندہ اس مزدور کی تنخواہ سے ہی ادا کرنا پڑے۔دوسرے یہ کہ پنجاب حکومت کے نمائندے مالکان کے لسٹیں بھی نہیں لیتے اور سادہ سوشل سکیورٹی کارڈ دستخط اور مہر لگا کر مالکان کے حوالے کر دیتے ہیں اور جو مالکان کسی بھی ایمرجنسی میں استعمال کرنے کیلئے آزاد ہوتے ہیں۔حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔لیبر انسپکشن پر پابندی ختم کی جانی چاہئے۔ سوشل سکیورٹی رجسٹریشن مزدور تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت سے خود محکمہ سوشل سکیورٹی کرے۔سوشل سکیورٹی کارڈ کا اجرا براہ راست مزدور کو محکمہ کی طرف سے کیا جائے۔سوشل سکیورٹی رجسٹریشن میں مالکان کا کردار ختم کیا جائے۔سوشل سکیورٹی رجسٹریشن کیلئے زیادہ سے زیادہ تنخواہ کی حد 18ہزار سے بڑھا کر 30ہزار روپے کی جائے۔رجسٹریشن کا نظام کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن کیا جائے۔کارڈ ہولڈر کا نام‘ شناختی کارڈ نمبر‘ کارڈ نمبر آن لائن کیا جائے اس کی آن لائن سرچ ممکن بنائی جائے۔مزدور کی رجسٹریشن نہ کروانے والے صنعتی مالکان کو انسپکشن میں پکڑے جانے پر فی مزدور کم سے کم ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے۔محکمہ سوشل سکیورٹی کو رجسٹریشن کے حوالے سے بااختیار بنایا جائے۔ انہیں فیکٹریوں کی انسپکشن کی اجازت دی جائے۔ محکمے سے منت ترلہ کلچر ختم کیا جائے۔ صرف ریونیو حاصل کرنا ہی مقصد نہیں ہونا چاہئے بلکہ محکمے کو اپنا بنیادی فرض محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرنا اور مزدور کی رجسٹریشن یقینی بنانا بنا لینا چاہئے۔ پنجاب حکومت صرف یہ ایک کام کر لے تو صوبے کی 70فیصد عوام کو صحت‘تعلیم‘ لائف انشورنس‘ میرج و ڈیتھ گرانٹ سمیت تمام مسائل بڑے پیمانے پر حل ہو جائیں گے۔

تحریر: حامدیٰسین

Related posts