طلباء یونین پر 28 سالہ پاپندی ہٹانے پرغور



لاہور(نیوزلائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ طلباء یونین بحال ہونی چاہیے اور اس کے لیے قواعد و ضوابط بھی بننے چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے طلباء یونین بحالی پر سوچ بچار شروع کر دی ہے۔ یہ بات اُنہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں ایلومینائی ری یونین کی تقریب سے خطاب میں کہی۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ طلباء یونین پر پاپندی کی وجہ سے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں لسانیت اور علاقائیت پہچان کی بنیاد پر تنظیمیں بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ سٹوڈنٹس، پختون سٹوڈنٹس، پنجابی سٹوڈنٹس، سندھی سٹوڈنٹس کی بنیاد پر تنظیمیں تعلیمی اداروں میں کام کر رہی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ سٹوڈنٹ یونین کے ساتھ تشدد اور سیاسی مداخلت کے راستے بند کرنے چاہیے، طلباء یونین جب سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ونگ بنے تو پھر اس میں بگاڑ پیدا ہوا جس کی وجہ سے یہ پریشر گروپس بن گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ 80ء کی دہائی میں طلباء یونین کے باعث تعلیمی سرگرمیاں معطل رہتی تھیں اور اس دور میں دس سال تک یو ای ٹی کا کانووکیشن منعقد نہیں ہوا تھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس دور میں تعلیمی سیشنز ایک سال کی بجائے تین تین سال میں پورے ہوتے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ تشدد اور احتجاجی سیاست کے باعث پنجاب حکومت نے اسی کی دہائی میں صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ ایلومینائی ری یونین سے خطاب میں احسن اقبال نے پاکستان کے تعلیمی سسٹم پر بھی کڑی تنقید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیمی ماڈل کو بدلنا ہوگا موجودہ نظام طالبعلم کو لائبریریز اور عملی مشق کرنے پر مجبور نہیں کرتا، طالبعلم ٹیکسٹ بکس کے علاوہ دیگر کتب کا مطالعہ کرنے کے لیے لائبریری کا رُخ نہیں کرتے۔ احسن اقبال نے کہا کہ تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا فائنل کیا جارہا ہے اور اس ایجنڈے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت وائس چانسلرز کے اجلاس میں تفصیلی بات چیت بھی ہوچکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی ماڈل میں ریسرچ، انسٹرکشن، کیمونٹی اینگیجمنٹ، سوشل موبیلائزیشن اور انڈسٹریل لنکجز پر توجہ دی جارہی ہے اور اس ماڈل کو جلد ہی متعارف کرایا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو ایلیٹ ادارے نہیں بننے دیں گے، اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے پاکستان کے ہر ضلع میں یونیورسٹیوں کے کیمپس بنانے جارہے ہیں اور پر ایچ ای سی نے کام شروع کر دیا ہے۔ یو ای ٹی کی ایلومینائی ری یونین تقریب میں گلوکار جواد احمد نے بھی تعلیمی نظام پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس سسٹم کے باعث طبقاتیت پیدا ہورہی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام پاکستان میں مزدور اور کسان کے حقوق سلب کر رہا ہے، پاکستان میں معاشی ناہمواری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کے خلاف طلباء کو آواز اُٹھانا ہوگی۔ ایلومینائی ری یونین میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین جاوید سلیم قریشی، وائس چانسلر ڈاکٹر فضل احمد خالد، چیف لیسکو واجد علی کاظمی، سابق وائس چانسلر یو ای ٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد اکرم خاں، سابق وائس چانسلر ایجوکیشن یونیورسٹی ڈاکٹر فیض الحسن سمیت نامور فارغ التحصیل طلباء نے بھی شرکت کی۔

Related posts