جب بیٹیوں کا قتل جرم نہ رہا

یہ 1990 کا سال تھا۔ جنرل ضیا الحق کا شریعتی پودا مضبوط ہو کر تن آور درخت میں بدل رہا تھا۔پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افضل ظلہ نےایک حکم جاری کیا جس کا ہر روز پاکستانی عدالتوں میں ذکر ہوتا ہے اور اس کے برے نتائج سامنے آنے کے باوجود کوئی اسے ٹھیک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ اس کے ساتھ لفظ اسلام جڑ چکا ہے۔
جسٹس افضل ظلہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے حکم دیا کہ اگر حکومت نے عدالتی فیصلے کی روشنی میں ججوں کے بنائے ہوئے قصاص اور دیت کے قانون کو پارلیمنٹ سے پاس نہ کروایاگیا تو ملک میں قتل سے متعلق قانون ختم تصور کیا جائے گا۔ پھر پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن بھی آیا جب قتل سے متعلق کوئی قانون موجود نہ تھا۔ اس دن کو پاکستان کی قانونی تاریخ سے مٹانےکے لیے پچھلی تاریخ سے قانون کو نافذ کر کے ختم کیا گیا۔
پاکستان میں تھوڑے تھوڑے وقفے بعد ایسی خبریں لوگوں کے ضمیر کو جنجھوڑ دیتی ہیں کہ باپ، بھائی یا ماں نے بیٹی کو غیرت کےنام پر قتل کر دیا۔ کچھ لوگ ٹویٹ کر کے اور کچھ تقریریں کر کے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس موقعے پر چپ سادھ لیتا ہے اور جب کوئی اس قانون کو ٹھیک کرنے یا ختم کا مطالبہ کرے تو یہ خاموش ’اسلامی حلقے‘ فوراً چیخنے چنگھاڑنے لگتے ہیں۔
جنرل ضیا الحق نے پاکستان کے قوانین کو بدلنے کے لیے ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیا جو ابھی تک اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے اور اس کا تحفظ کرنے والے بھی موجود ہیں۔
پاکستانی پارلیمنٹ نے عدالتوں کے حکم پر قصاص و دیت کا قانون منظور کیا جو اب تک موجود ہے۔
قصاص و دیت کے قانون کو ملک میں نافذ کر کے قتل کے جرم کی ہیت تبدیل کر دی گئی ہے۔ اس قانون سے پہلے پاکستان میں کسی شہری کا قتل ریاست کے خلاف جرم تھا لیکن اب وہ فرد کے خلاف جرم ہے یعنی یہ قتل کا جرم ’پبلک سے پرائیوٹ‘ کر دیا گیا۔
غیرت کے نام پر قتل تو ہمیشہ خاندان کے افراد ہی کرتے ہیں اور پھر اسی خاندان میں مقتولہ کے ولی موجود ہوتے ہیں جو قاتل کو معاف کر سکتے ہیں۔ اس قانون کی موجودگی میں خاندان کے اندر قتل عملاً کوئی جرم ہی نہیں ہے۔
اس قانون کو نافذ کرتے وقت یہ دلیل دی جاتی تھی کہ ملک میں سخت سزاؤں کے موجودگی میں جرائم میں کمی ہوگی۔ قصاص و دیت کے قانون پاکستان میں نافذ ہوئے پچیس برس ہو چکے ہیں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے کمی نہیں۔
قصاص و دیت کے اثرات پر تحقیق کرنے والے ماہر قانون ڈاکٹر طاہر واسطی کے مطابق اس قانون کے نفاد کے بعد پاکستان میں قتل انتہائی آسان ہو چکا ہے اور اس کی شرح میں بھی سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ با اثر لوگ بلا خوف قتل کرتے ہیں اور پھر خون بہا ادا کر کے آزاد ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں کہ غیرت کے نام پر بیٹی اور بیوی کو قتل کر نے والے ایک دن بھی جیل نہیں گئے۔ مقتولہ کی ولی قاتل کی یا تو ماں ہو گی یا بیوی جو اپنے قاتل شوہر یا بیٹے کو معاف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
پاکستان میں جب ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو بھائیوں کو قتل کیا تو پاکستان میں شور بپا ہوا۔ لوگوں نےامریکی شہری کو پھانسی پر لٹکانے کے مطالبے شروع کر دیے لیکن ایک روز ریمنڈ ڈیوس اچانک رہا ہو کر واپس امریکہ پہنچ گئے۔ ریمنڈ ڈیوس بھی خون بہا ادا کر رہا ہوئے تھے۔
کہنے کو تو پاکستانی پارلیمنٹ حاکم اعلیٰ ہے لیکن جب تک وہ مخصوص سوچ رکھنے والےججوں کےحکم پر قبائلی روایت پر بنے ہوئے قانونی مسودوں کو من و عن قانونی شکل دے کر نافذ کرتی رہے گی، لاہور کی زینت اور مری کی ماریہ جل کر مرتی رہیں گی۔

رفاقت علی

Related posts