رانا ثناء اللہ پرٹارگٹ کلنگ کاالزام مگر حکومت انکوائری کروانے سے گریزاں


اسلام آباد(رانا حامد یٰسین) پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر قانون اور میاں شہبازشریف کے قابل اعتماد ساتھی و سینئر سیاسی رہنما رانا ثناء اللہ خاں گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل ٹارگٹ کلنگ کروانے کے الزامات کی زد میں ہیں۔رانا ثناء اللہ خاں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاسی رہنما ہیں اور مشرف آمریت کے دوران انہوں نے ہر ظلم و ستم برداشت کیا مگرمسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف سے تعلق نہیں توڑا۔ مشرف آمریت کا انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور یہاں تک کہ ”بعض قوتوں“ نے انہیں اغوا کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا مگر انہوں نے پھر بھی وہ مشرف آمریت کے ہاتھوں ”مشرف با اسلام“ ہوناخاطر میں نہ لائے۔ مگر افسوس کہ پنجاب حکومت نے اپنے ایسے رہنماکا خراب ہوتا امیج درست رکھنے اور اس بارے میں شفاف انکوائری کروا کر رانا ثناء اللہ خاں کو کلیئر کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ الزامات کے آگے بندھ نہ باندھا گیا تو عوام کو یہی تاثر ملے گا کہ رانا ثناء اللہ خاں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں اور انہیں اس کام میں میاں شہباز شریف کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ایسا تاثر آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن اور خاص طور پر رانا ثناء اللہ خاں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔رانا ثناء اللہ خاں پر لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کروانے کا الزام سب سے پہلے کسی سیاسی رہنما نے نہیں بلکہ پنجاب پولیس کے ذرائع نے عائد کیا جب پنجاب پولیس کے ٹارگٹ کلنگ کرنے والے انسپکٹر رانا فرخ وحید کے خلاف انکوائری شروع ہوئی۔ اس تحقیقات میں رانا فرخ وحید کے ساتھ رانا ثناء اللہ کا نام بھی سامنے آنے لگا۔پنجاب پولیس کا ہونہار جوان رانا فرخ وحید اپنے خلاف انکوائری ہوتی دیکھ کر بیرون ملک فرار ہو گیا جس سے رانا فرخ وحید کے ٹارگٹ کلنگ کا گینگ چلانے کے الزامات کو مزید تقویت ملی بعد ازاں رانا فرخ وحید کا قریبی ساتھی اور اس کے گینگ کا مرکزی شوٹر”کمانڈو“ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ دوران تفتیش ”کمانڈو“ نے بھی گینگ کو رانا ثناء اللہ کی سرپرستی حاصل ہونے کی تصدیق کردی۔ اس وقت کے سٹی پولیس آفیسرفیصل آباد سہیل تاجک نے اس بارے رپورٹ بنا کر اعلیٰ حکام کو بھجوا دی۔مگر پنجاب حکومت نے اس کی انکوائری کروانے کی بجائے پولیس کو اس بارے کام کرنے سے روک دیا۔اس رپورٹ اور ”کمانڈو“ کے اعترافی بیانات کے کچھ حصے میڈیا کے ہاتھ لگ گئے اور یہیں سے رانا ثناء اللہ کا نام ٹارگٹ کلنگ کروانے والوں کی لسٹ میں شامل کر دیا گیا اور ہر کوئی الزام عائد کرنے لگا کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان ٹارگٹ کلنگ کروانے میں ملوث ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ پنجاب حکومت اس معاملے کی اعلیٰ سطحی اور شفاف انکوائری کرواتی اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ملک کے سینئر سیاسی رہنما رانا ثناء اللہ خاں کو الزامات سے کلیئر کرواتی مگر اس کے بالکل الٹ کیا گیا۔اس وقت کے سی پی او فیصل آباد سہیل تاجک پر دباؤ ڈال کر معاملے کو دبانے کی ہدایات دی جانے لگیں (جانے ایسا کون کر رہا تھا۔ یقینی طور پر ایسا کرنے والا رانا ثناء اللہ کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا)۔سی پی او فیصل آباد سہیل تاجک نے انکوائری روکنے سے انکار کیا گیا تو پنجاب حکومت نے سہیل تاجک کا تبادلہ کر دیااس ٹرانسفر کا اثر بھی الٹا ہوا اور رانا ثناء اللہ کے خلاف الزامات ختم ہونے کی بجائے اس میں سچ کی آمیزش زیادہ نظر آنے کا تاثر پیدا ہو نے لگا۔ مگر ہوا یہ کہ سہیل تاجک کی ٹرانسفر تک آن ریکارڈ رانا ثناء اللہ کے خلاف کئی رپورٹس بن چکی تھیں جو ابھی تک رانا ثناء اللہ کیخلاف الزامات در الزامات کا باعث بن رہی ہیں۔ان لزامات کا سلسلہ درمیان میں تھا کہ لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا واقعہ پیش آگیا۔ منہاج القرآن کے 14کارکنوں قتل رانا ثناء اللہ کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے مگر رانا ثناء اللہ بظاہر موقع واردات پر موجود ہی نہیں تھے۔اس بارے میں ہائیکورٹ کے جج کی انکوائری رپورٹ کو پنجاب حکومت نے دبا رکھا ہے اور اسے منظر عام پر آنے نہیں دیا گیا۔ جس سے الزامات در الزامات کا سلسلہ ایسا بڑھ گیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پنجاب حکومت کا چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔پنجاب حکومت اور خاص طور میاں شہباز شریف کو چاہئے کہ اس معاملے کی مکمل انکوائری کروائیں۔ رانا ثناء اللہ مسلم لیگ ن کے وہ رہنما ہیں جن کی پارٹی وابستگی ہر شک و شبہ بالاتر ہے اور انہوں نے مشرف آمریت کا جس طرح مقابلہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔الزامات کی گرداب میں بہا کر ان جیسے رہنماکو ضائع کرنا اور عوام کی نظر میں ان کا تاثر خراب ہونے دینا کسی طور درست نہیں بلکہ یہ جمہوریت پسندوں کی توہین ہے۔یہ تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا کہ رانا ثناء اللہ خاں ایسا کر سکتے ہیں۔پنجاب حکومت اس معاملے کی ہائیکورٹ کے جج سے انکوائری کروائے اور رانا ثناء اللہ خاں کو کلیئر کروائے۔ایسا کرنا ہی رانا ثناء اللہ خاں‘ پنجاب حکومت‘ مسلم لیگ ن‘ اور جمہوریت کیلئے سود مند ثابت ہو گا۔

Related posts