سگریٹ کی درآمد میں حکومت کو کروڑوں کے نقصان کا انکشاف


اسلام آباد(نیوزلائن)ملک بھر میں سگریٹوں کی درآمد میں کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریوینو نے سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کا اسکینڈل بے نقاب کیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن اسلام آباد کو ذرائع سے اطلاع ملی کہ لاہور کے ڈسٹری بیوٹر میسرز نیمیرک ڈسٹری بیوشن کی جانب سے جاپان ٹوبیکو انٹرنیشنل کے کیمل سگریٹ برانڈ درآمد کیے جا رہے ہیں جن پرقانون کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ریٹیل قیمت کے لحاظ سے واجب الادا ہوتی ہے لیکن ان درآمدی سگریٹوں کی قیمت اتنی کم بتائی گئی کہ ان پر درآمد کردہ اشیا کے حوالے سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا۔ ادھر کسٹم انٹیلی جنس و انویسٹی گیشن کے ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے مذکورہ کیس لاہور کے متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کو بھجوایا گیا اور ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس لاہور نے مذکورہ کیس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیم تشکیل دی جس نے اس کیس کی انکوائری کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مذکورہ درآمد کنندہ نے حال ہی میں 22 لاکھ سے زائد کے کیمل سگریٹ پاکستان میں درآمد کیے جن پر ریٹیل قیمت 57.26 روپے سے لے کر 61.53 روپے فی پیکٹ ڈیکلیر کی گئی تھی جبکہ مارکیٹ میں اصل ریٹیل قیمت سیلز ٹیکس کے علاوہ 93 روپے 74 پیسے سے لے کر 101روپے 80 پیسے تک ہے۔ کسٹم انٹیلی جنس کے ذرائع کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ریٹیل قیمت بشمول تمام ٹیکس وڈیوٹیز پر لاگو ہوتا ہے، اس طرح امپورٹر میسرز نیمیرک ڈسٹری بیوشن نے کلیئرنگ ایجنٹ کی مدد سے غلط ریٹیل قیمت لکھتے ہوئے 9کروڑ6 لاکھ50ہزار روپے کی ٹیکس چوری کی۔ علاوہ ازیں کسٹم ڈائریکٹوریٹ نے مذکورہ کیس مزید کارروائی کے لیے کلکٹر کسٹمز لاہور کو بجھوا دیا ہے جو مذکورہ امپورٹر کے خلاف کسٹم ایکٹ 1969 کی دفعہ 79،80،32(1) (2) اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005کے سیکشن 3،12(4) اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے سیکشن 3،2(a) کے تحت کارروائی کرے گا :-

Related posts