بودھ مت کا بانی


لاہور(نیوزلائن) بودھ مت کا بانی گوتم بدھ ہندوستان میں پیدا ہوا، لیکن آج بھی اس کے کروڑوں پیرولنکا، برما، سیام، کمبوڈیا، جاپان اور چین میں موجود ہیں اور وہ دنیا کے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں کپل دستو (نیپال) کے راجا شدھو دھن کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام سدھارتھ رکھا گیا۔ یہ بچہ بچپن ہی سے سوچتا رہتا کہ انسانوں میں اونچ نیچ کا فرق کیوں ہے؟ اِس دنیا میں اتنے دکھ اور تکلیفیں کیوں ہیں؟ اور سکھ کیونکر حاصل کیا جا سکتا ہے؟ باپ نے اٹھارہ برس کی عمر میں اس کی شادی کر دی، لیکن سدھارتھ برابر بے چین رہا۔ آخر ایک رات بیوی بچے اور شاہی محل کی آسائشوں کو چھوڑ کر نکل گیا اور جنگلوں میں جا کر سخت ریاضتیں کرنے لگا۔ ایک دن شہر گیا۔ قریب ایک بڑے درخت تلے بیٹھا ہوا غور کر رہا تھا کہ اس پر سچائی منکشف ہو گئی اور اس نے تہیہ کر لیا کہ عالمگیر انسانی محنت کا پیغام دنیا والوں کو پہنچائے گا۔ اب سدھارتھ ’’گوتم بدھ‘‘ کہلانے لگا۔ جب اس نے دیکھا کہ پرانا ویدک دھرم ذات پات کے بندھنوں کی وجہ سے نا قابلِ برداشت ہو چکا ہے تو اس نے اس مذہب کے خلاف آواز بلند کی۔ اس نے کہا کہ شودر اور برہمن میں کوئی فرق نہیں۔ سب انسان ہیں اور ان کے حقوق برابر ہیں۔ مذہب میں کسی ریت، رسم اور قربانی کی ضرورت نہیں۔ دیوی دیوتاؤں کو ماننا جہالت ہے۔ صرف خواہشات پر قابو پانے سے نجات ہو سکتی ہے۔ صحیح علم حاصل کرو۔ نیک نیتی، راست گفتاری، راست بازی، جائز ذریعۂ معاش اور فکر و مراقبہ کی پاکیزگی اختیار کرو اور ان اصولوں پر عمل کر کے اپنے آپ کو تمام زنجیروں سے آزاد کر لو۔ مہاتما بدھ نے اپنے ان اصولوں کی تعلیم عام کرنے کے لیے نگر نگر کا دورہ کیا۔ برہمنوں کے ستائے ہوئے ہندوؤں نے جوق در جوق اس نئے دھر کو قبول کرناشروع کیا اور بدھ کے راسخ العقیدہ ’’بھکشؤوں‘‘ نے اس دھرم کی تبلیغ میں محنت اور جفاکشی سے کام لیا۔ یہ لوگ بھوکے پیاسے رہ کر بھی دھرم کا پرچار کرتے رہتے۔ مہاتما بدھ کی تبلیغ سے دیکھتے ہی دیکھتے ہندو دھرم کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ اشوک اس برعظیم کا پہلا مہاراجا تھا جس نے بودھ مت قبول کر کے اسے ملک کے طول و عرض میں پھیلایا۔ غالباً 483 قبل مسیح میں مہاتما بدھ کا انتقال ہو گیا۔

حسن ریاض

Related posts