نیوورلڈآرڈر کی تشکیل: امریکہ کیلئے خطرہ‘ پاکستان کا کردار مرکزی


پاکستان کی موثر حکمت عملی اور پاک چائینہ دوستی کی بدولت دنیا میں معاشی و دفاعی تبدیلیاں آرہی ہیں۔مستقبل قریب میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ تشکیل پا رہا ہے۔نیو ورلڈ آرڈر میں دنیا ”یونی پولرورلڈ“ سے نکل کر ایک مرتبہ پھر ”بائی پولر ورلڈ“ یا بڑی حد تک ”ٹرائی پولر ورلڈ“ کے عالمی منظر نامے میں پہنچ جانے کا ااحتمال ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کی تشکیل کیلئے ابتدائیہ لکھا جا چکا ہے۔ نئے عالمی آرڈر میں ایک جانب شمالی امریکہ کی ریاستوں کے اتحاد میں خلل پڑنے کا خدشہ موجود ہے اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو دوسری جانب یو ایس اے مخالف قوتوں کے اکٹھے ہونے کی توقع ہے۔نئے عالمی منظر نامے میں ایک جانب امریکہ اور اس کے اتحادی ہوں گے تو دوسری جانب دنیا کی ابھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت چائینہ اور اس کے اتحادی ہوں گے۔پاکستان کیلئے ممکن ہی نہیں ہو گا کہ اس عالمی منظر نامے میں چائینہ کی بجائے کسی دوسری جانب جا سکے۔ اس اتحاد میں امریکہ کا ازلی مخالف روس امریکہ کے خلاف ہی کھڑا ہو گا اور چائینہ و پاکستان کا ساتھ دے گا۔ترکی اور ایران بھی اسی کیمپ میں نظر آرہے ہیں مگر بدقسمتی سے مسلم ورلڈ کا کااہم اور مقدس مقامات والا ملک سعودی عرب امریکہ مخالف اتحاد میں کھڑا نظر نہیں آتا۔ یورپین ممالک کیلئے امریکہ یا چائینہ میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ممکن نہ ہوا تو وہ یورپی یونین کو مزید مضبوط بنانے اور اسے معاشی اتحاد سے آگے لے جا کر دفاعی اتحاد میں بدل دیں۔تاہم بڑی حد تک یہ بھی ممکن ہے کہ یورپی ممالک اپنے اتحاد کو برقرار نہ رکھ سکیں اور دونوں بڑے عالمی اتحادوں کا ساتھ دینے کیلئے تقسیم ہو جائیں اور یورپ ایک مرتبہ پھر دوحصوں میں بٹ جائے۔نیو ورلڈ آرڈر میں تبدیلی کی بنیادتین بڑے عالمی واقعات نے رکھ دی ہے اور عالمی منظر نامے میں انہی واقعات کی بدولت ایسی تبدیلیاں آتی جائیں گی کہ آئندہ چند سالوں میں دنیاسے بتدریج ”یونی پولر ورلڈ“کا خاتمہ ہو جائے گا اور نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پا جائے گا۔اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخری چند سال اس حوالے سے انتہائی تیز تبدیلی والے ثابت ہونے کی توقع ہے جبکہ تیسری دہائی اس تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہو گی۔ نیو ورلڈ آرڈر میں دو مسابقتی اور متحرک قوتیں تو واضح نظر آرہی ہیں تاہم تیسری قوت کے ابھرنے کے بھی چانسز ہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تیسری قوت پہلے مرحلے میں خود اپنے آپ کو قوت کے طور پر نہ منوائے اور دوسری دونوں قوتوں کی مسابقت کا انتظار کرے تاہم تیسری قوت موجود رہے گی اور تیسری دہائی کے اواخر یا چوتھی دہائی میں بھرپور طاقت سے میدان میں کود پڑے۔گزشتہ ایک سے دو سال کا عالمی منظر نامہ دیکھیں تو پاکستان اور چائینہ کے تعاون سے شروع ہونے والا منصوبہ ”سی پیک“بہت کچھ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جو گیم چینجر ثابت ہو گا اور اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کی اس سے جڑ جانے والے ممالک صرف معاشی ہی نہیں معاشرتی‘ تقافتی اور انتظامی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے انتہائی قریب آجائیں گے۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی سپرپاور چائینہ سی پیک کا مرکزی سٹیک ہولڈر ہے۔ روس اس میں شامل ہو کر اپنے 70اور 80کی دہائی کے افغانستان پر حملے کے گناہ کو دھونے کی کوشش کریگا اور گرم پانیوں تک پہنچنے کی اپنی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنا لے گا۔ دنیا جانتی ہے کہ روس نے افغانستان پر حملے کا گناہ بھی گرم پانیوں تک رسائی کی اپنی خواہش کو پورا کرنے کیلئے کیا تھا اور یہی گناہ اس کی معاشی تباہی کا باعث بنا۔اب گرم پانیوں کے بہتر طریقے کو اپنا کر وہ دوبارہ عالمی منظر نامے میں شامل ہونے کا موقع ضائع نہیں کریگا۔روس کیلئے یہ انتہائی آسان ہے کہ صرف چائینہ کیساتھ معاملات بہتر رکھے جو کہ وہ پہلے ہی رکھے ہوئے ہے اور چائینہ روس عالمی سطح پر ایک ہی مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔قازقستان اور منگولیا کی سرحد کے پاس سے روس چائینہ کیساتھ سڑک کا راستہ بحال کرلے تو سی پیک کے فواعد سے براہ راست مستفید ہو نا شروع کر دے گا۔سی پیک کی بدولت ہی ازبکستان‘ تاجکستان‘ کرغزستان اور منگولیا کو گرم پانیوں تک رسائی مل سکتی ہے۔ چائینہ کیلئے تو سی پیک منصوبہ پہلے ہی وقت اور پیسے کی بے مثال بچت کاموجب بن رہا ہے۔ پاکستان کو اس سے جو فوائد آئندہ چند سالوں میں حاصل ہوں گے اس کا شائد اندازہ بھی دنیا کو نہیں ہوگا۔ صرف اقتصادی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ سیاسی اور ثقافتی منظر نامے میں بھی پاکستان کو بے مثال کامیابیاں اسی ایک منصوبے سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔سی پیک کے راستے اپنی مصنوعات کو چین‘ روس‘ منگولیہ‘ اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچانے کا بہترین موقع ایران کو بھی میسر ہے جبکہ سی پیک کیلئے توانائی کی ضروریات پوری کرکے بھی ایران بہت سے مواقع حاصل کرلے گا۔اس کے ساتھ ہی سی پیک سے جڑے ہوئے ممالک کی مجبوری بن جائے گی کہ وہ دفاعی‘ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کریں اور عالمی منظر نامے میں اکٹھے چلیں۔ اور کچھ ہو نہ ہو ایک بات بالکل واضح ہے کہ اس خطے میں یو ایس اے کا کردار بتدریج محدود ہوتا نظر آرہا ہے اور شائد اسی بات کو محسوس کرتے اور مستقبل کی پیش بندی کے لئے ہی امریکہ نے پاکستان کی بجائے بھارت کیساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا سلسلہ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں شروع کردیا تھا۔عالمی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی یورپی یونین کا قیام تھا اسے دوسری نہیں پہلی تبدیلی قرار دیا جانا چاہئے مگر اس کے قیام کے مقاصد یونی پولر ورلڈ میں حاصل ہی نہیں ہو سکتے۔ یونی پولر ورلڈ میں یہ ایک اقتصادی اتحاد تو قرار دیا جا سکتا تھا مگر اسے سیاسی‘ دفاعی اور انتظامی اتحاد کا درجہ یونی پولر ورلڈ کی حیثیت چیلنج ہونے پر ہی مل سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ یونی پولر ورلڈ کی حیثیت چیلنج ہونے پر کہ یورپی یونین کے اراکین فیصلہ کریں کہ انہوں نے الگ حیثیت میں اور ایک انتظامی یونٹ بن کر عالمی طاقت بننا ہے یا دونوں عالمی طاقتوں میں سے کس کا ساتھ دینا ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یونی پولر ورلڈ کے خاتمے اور نیو ورلڈ آرڈر کی تشکیل کے بعد یورپی یونین ایک انتظامی یونٹ نہیں بنا تو اس کا اتحاد اقتصادی بھی نہیں رہے گا اور بکھر جائے گا۔ کیونکہ دونوں طاقتیں اس اتحاد میں شامل ممالک کو اپنی طرف کھینچ لیں گی اور اتحاد کے مفادات پر زد پڑے گی۔برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کا فیصلہ برطانوی عوام کر چکے ہیں اور برطانیہ کے نکل جانے کی صورت میں یورپی ممالک کے اتحاد کو عالمی منظر نامے میں ہوتی تبدیلیوں کا ادراک کر کے کئے گئے فیصلوں کی صورت میں فوائد حاصل ہوں گے۔عالمی منظر نامے میں تیسری بڑی تبدیلی یو ایس اے میں ہیلری کلنٹن کی شکست ثابت ہوئی ہے جس سے کہ یو ایس اے میں ایک بڑا سیاسی و معاشرتی بحران پیدا ہوا ہے۔ پورے یونائٹڈ سٹیٹس میں تبدیلی کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ کی دو سو سالہ تاریخ میں اس طرح کا بحران پیدا نہیں ہوا جوکہ اب وہاں پیدا ہونے جا رہا ہے۔معاملہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کا نہیں ہے بلکہ ٹرمپ کی پالیسیوں کا ہے کہ جس سے امریکی مفادات کو عالمی سطح پر زک پہنچے گی اور پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ افغانستان اور عراق میں امریکی افواج کو ایک دہائی میں اس ہزیمت کا سامنا نہیں رہا جو کہ اب ہونا شروع ہو گئی ہے اور یہ سلسلہ تیز تر ہوتا جائے گا۔ صدر اوباما اور ان کے پیش رو کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ٹرمپ کیلئے افغانستان سے فرار کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں رہ گیا۔ فرار کیلئے بھی باعزت راستہ ملنا ممکن نظر نہیں آرہا۔اس صورت میں امریکہ کا واحد سپر پاور کا سٹیٹس بری طرح متاثر ہو گا روس کی طرح شکست و ریخت سے بچ بھی گیا تو واحد عالمی طاقت کا درجہ اس سے چھن جائے گا۔

چین عالمی طاقت کے طور پر عالمی منظر نامے میں ابھر کر سامنے آچکا ہے۔ روس جو کہ خود ایک بڑی طاقت ہے اس کا ساتھ چین کو مزید مضبوط بنائے گا۔پاکستان بھی چین کو طاقت ور اور عالمی سپرپاور دیکھنے کا خواہاں ہے۔ اقوام متحدہ میں مختلف ایشوز پر امریکی مؤقف کو بری طرح رد کرکے چین نے امریکی طاقت کو چیلنج کر دیا ہے رہی سہی کسر امریکی کی غیر دانشمندانہ پالیسیاں پوری کریں گی۔ اور آئندہ چند سالوں میں عالمی منظر نامے میں بہت کچھ بدلا ہوا نظر آئے گا۔


تجزیہ:رانا حامد یٰسین

Related posts