لعل قلندر کی درگاہ خون سے لال‘90شہید‘250زخمی


دادو(نیوزلائن)درگاہ لعل شہباز قلندر پر خود کش دھماکہ ہوا ہے۔ جس سے لعل قلندر کا مزار خون سے لال ہو گیا۔ درگاہ پر خودکش دھماکے میں 90افرا شہید اور250سے زائد زخمی ہوگئے۔جاں بحق و زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جمعرات کے باعث زائرین کی بڑی تعداد مزار میں موجود تھی، دھماکے کے بعد بھگڈر مچ گئی، درجنوں زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، شہر کے اسپتالوں میں طبی سہولیات اور ایمبولینسوں کی کمی کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پولیس حکام نے سیہون کی لعل شہباز قلندر درگاہ کے احاطے میں زور دار دھماکے میں 72 افراد کی شہادت کی تصدیق کردی، خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہیں، زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، امدادی کارکنان اور ایمبولینسوں کی کمی کے باعث شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ گاڑیوں میں زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال پہنچایا، سیہون کے اسپتال میں ڈاکٹرز اور طبی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، آرمی اور رینجرز کی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں، شدید زخمیوں کو دیگر قریبی شہروں کے اسپتالوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق تعلقہ اسپتال سیہون کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ 50 سے زائد افراد کی لاشیں منتقل کی گئی ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دھماکے کے باعث لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہے، شناخت کرنا بھی مشکل ہورہا ہے، درجنوں زخمی بھی اسپتال لائے گئے ہیں جنہیں طبی امداد دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درگاہ لعل شہباز قلندر میں سیکیورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات تھے، واک تھرو گیٹ بھی خراب تھے، پولیس کی نفری بھی انتہائی کم تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کے باعث خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں زائرین درگاہ میں موجود تھے، مغرب کے وقت دھمال جاری تھا کہ زور دار دھماکا ہوگیا جس کی آواز پورے شہر میں سنی گئی، واقعے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ نیوزلائن کے مطابق مقامی اسپتالوں میں جگہ، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی قلت کے باعث زخمیوں کو دیگر شہروں میں منتقل کیا جارہا ہے، زخمی تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں، اسپتال حکام کی جانب سے زخمیوں کیلئے خون کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

Related posts