عظیم صوفی بزرگ خواجہ غلام فرید کا محل 35 روپے ماہانہ لیز پر دیدیا گیا

بہاولپور(نیوزلائن)برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید کا محل محکمہ اوقاف نے 35روپے ماہانہ لیز پردےدیا۔تفصیلات کےمطابق یہ محل کسی نواب کا نہیں بلکہ شہنشاہ روہی خواجہ غلام فرید کا ہے صوفی بزرگ کے نام پر فرید محل ان کے مرید نواب آف بہاولپورصادق عباسی نے خود تعمیر کرایاتھا۔ 8 کنال پر مشتمل اس محل میں مہمان خانہ، باغیچہ اور مسجد بھی شامل تھی۔ لیکن محل کے مہمان خانے اور باغیچہ کا اب نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔مختلف قبضہ مافیا گروہوں نے فرید محل میں ڈیرے جما رکھے ہیں۔رہی سہی کثر محل کو تین حصوں میں تقسیم کر کے کوریجہ خاندان نے پوری کر دی ہے۔ محل نما گھروں میں اب کسی عام شہری کا داخلہ تو دور کی بات، اس تاریخی عمارت کو دیکھنا بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ محکمہ اوقاف کی جانب سے لیز پردینے کے بعد محل کو چاروں اطراف سے بند کر دیا گیا ہے۔محل کے اندر ایک کمرے میں حضرت خواجہ غلام فرید کی پالکی بھی موجود ہے اور وہ چار پائی بھی جس پر اُنہیں غسل دیا گیا لیکن اس کمرے کی چھت بھی گر چکی ہے اور یہ تاریخی اثاثہ مکمل طور پر مٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔آج بھی ساری روہی دھرتی بابا فرید کی ہی مانی جاتی ہے اور اس دھرتی کے رہنے والے چاہتے ہیں کہ صوفی بزرگ سے جڑے قیمتی ورثے کو لیز پر دینے کی بجائے آٗئندہ نسل کے لئے محفوظ کیا جائے۔

Related posts