پنجاب حکومت عوام کو پانی کا قطرہ قطرہ بیچے گا


لاہور(نیوزلائن)پنجاب حکومت نے صوبے کی عوام کو پانی کی بوند بوند کیلئے ترسانے اور شہریوں سے پانی کے ہر قطرے کی قیمت وصول کرنے کا منصوبہ تیار کر لیاہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پنجاب کے عوام کو پانی بھی کھلم کھلا نہیں ملے گا بلکہ پانی کے ہر قطرے کے عوض بھاری معاوضہ حکومت کو دینا پڑے گا۔نیوز لائن کے مطابق اب اہلیان پنجاب کو پانی بھی بجلی کی طرح یونٹ کے حساب سے خریدنا پڑے گا۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام کو پانی کی یونٹ کے حساب سے فراہمی کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے 5 بڑے شہروں میں 8 ارب روپے کی لاگت سے پانی کے 82 لاکھ میٹر لگائے جائینگے۔ معلوم ہوا ہے کہ لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسیز ”واٹر میٹر“ کا منصوبہ رواں مالی سال کے دوران شروع کریں گی۔ منصوبہ پانچ سالہ میڈیم ٹرم پروگرام کا حصہ ہے جسے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ذریعے فنڈز جاری کئے جائینگے۔ اس سلسلے میں واسا لاہور نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب کو اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں جہاں سے منظوری اور فنڈز کے اجرا کے بعد منصوبہ پر کام شروع کر دیا جائے گا۔منصوبے کے تحت پانچوں واٹر ایجنسیاں ابتدائی طور پر مختلف استعداد کار رکھنے والے 82 لاکھ میٹر انسٹال کریں گی جبکہ ان میٹروں کو چیک کرنے کیلئے 5 میٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائیگا۔ منصوبے کے تخلیق کاروں نے عوام کو مبینہ طور پر یہ کہ کر قائل کرنا شروع کر دیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ایک ایجنسی میں میٹر ریڈرز، میٹر انسپکٹرز، مکینک ہیلپرز اور مکینک سب انجینئرز کی 109 نئی اسامیاں نکلیں گی۔ واضح رہے تاحال پنجاب کی پانچوں بڑی ایجنسیاں صارفین سے مقرر شدہ (فکس) ٹیرف کی بنیاد پر بل وصول کر رہی ہیں لیکن اب پنجاب حکومت نے پانی کے ضیاع کا بہانہ بنا کر خلق خدا پر پانی کی یونٹ کے حساب سے فروخت کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ واسا لاہور نے شہر کے کچھ مقامات خصوصاً کمرشل استعمال کی جگہوں پر واٹر میٹر لگا رکھے ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہے تاہم اب مرحلہ وار پانی کے میٹر لگا کر صارف کے استعمال کے مطابق بل وصول کیا جا سکے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ نواز حکومت نے مختلف ٹیکسوں کے نام پر عوام کا جینا حرام کر دیا ہے اور غریب عوام کے منہ سے نوالہ تک چھینا جا رہا ہے۔ بجلی کے نرخ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد اب پانی کے میٹرز لگانے کے منصوبے سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے

Related posts