کراچی کے شہری کی اراضی پر فیصل آباد کے ن لیگی ایم پی اے نے قبضہ کر لیا


فیصل آباد(ندیم جاوید)رینجرز‘ فوج اور حکومت کہاں ہیں۔ فیصل آباد میں میاں شہباز شریف کا نام استعمال کر کے کراچی کے رہائشی شہری کی ایک ارب روپے کی اراضی جعل سازی سے ن لیگی ایم پی اے نے اپنے ساتھیوں کے نام پر منتقل کروا لی اور قبضہ جما لیا۔ جعلی انتقال اور قبضے کیلئے اراضی مالک کا جعلی شناختی کارڈ بنایا گیا۔ جعلی افراد سے بیانات کروائے گئے۔ علاقے کے چیئرمین یونین کونسل نے جعلی شخص کی شناخت کردی۔ پٹواری‘ تحصیل دار اور ریونیو افسران جعل سازی کا علم ہونے کے باوجود بااثر ایم پی اے کے سامنے بے بس رہے اور جعل سازی میں اس کا ساتھ دیتے رہے۔نیوز لائن کے مطابق مسلم لیگ ن کے فیصل آباد کے حلقہ پی پی 64سے رکن پنجاب اسمبلی ظفر اقبال ناگرہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے ایک پرائیویٹ بنک ”اپنا بنک“ کے مالک کاشف اور سوتر منڈی کے ایک بڑے تاجر تصدیق رسول کیساتھ مل کر ایک ارب روپے کی اراضی پر قبضہ جما لیا۔ریکارڈ کے مطابق سرگودھا روڈ پر واقع اڑھائی کنال اراضی کراچی کے رہائشی خورشید مظہر کی ملکیتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خورشید مظہر طویل عرصہ سے بیرون ملک مقیم ہے تاہم اس کے عزیزواقارب مختلف اوقات میں فیصل آباد آتے رہتے ہیں۔خورشید مظہر کی غیرموجودگی میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ظفر اقبال ناگرہ نے علاقے کے پٹواری راشد سنگھیڑا کیساتھ مل کر اراضی کی نشاندہی کروائی اور بعد ازاں اس کے مالک خورشید مظہر کانادرا سے جعلی شناختی کارڈ بنوایا گیااور دیگر دستاویزات جعل سازی سے تیار کر کے ظفر ناگرہ نے اپنے ساتھی سلیم‘ اپنا بنک کے مالک کاشف اور معروف تاجر تصدق رسول کے نام پر جعلی انتقال کروا لئے۔ جعل سازی میں حلقہ پٹواری راشد سنگھیڑا اور محکمہ مال کے متعدد افسران کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے جبکہ علاقے کی یونین کونسل کا چیئرمین بھی اس میں ملوث پایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس اراضی پر قبضے کیلئے متعدد گروپ کوشاں تھے۔ جاوید نامی ایک شخص نے اس کے جعلی مختار نامہ تیار کروا رکھا تھا جبکہ غفران نامی ایک شخص بھی جعلی سیل ڈیڈ اور اقرار نامہ و مختار نامہ لئے سرگرم تھا۔ متعدد دیگر افراد بھی اس پر قبضے کیلئے کوشاں تھے کہ اس دوران ن لیگی ایم پی اے نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے ”کام“ دکھا دیا۔ تاجر رہنما تصدق رسول بھی ایک ن لیگی سیاسی شخصیت کا قریبی عزیز بتایا جاتا ہے اور کیا جا رہا ہے کہ اراضی پرقبضے میں اسی سیاسی شخصیت کا ہاتھ اور تاجر رہنما کا صرف نام ہی استعمال کیا گیا ہے

Related posts