وفاقی افسروں کی ترقیاں،کیسے ہوئیں

وفاقی سروس سے تعلق رکھنے والے افسروں کے بارے ایک وقت میں یہ تاثر بڑا گہرا تھا ، کام کریں نہ کریںاگلے گریڈوں میں ترقی پا جاتے ہیں۔سابق ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ اور موجودہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس تو ویسے بھی وفاقی سروس کی سردار ہونے کے ناطے ہمیشہ سے پرائز پوسٹوں پر قابض رہی ہے انہیں برہمن گردانا جاتا تھا ۔ ان میں کسی افسر کی اعلیٰ حکومتی عہد یدار سے رشتہ داری اور تعلق سونے پہ سہاگہ ہوتا تھا ۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس حوالے سے بڑے انوکھے کام ہوئے جن میں سر فہرست گریڈ بائیس کا اتوار بازار تھا ۔اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بہنوئی جو قومی اسمبلی کے افسر تھے ان تک کو گریڈ بائیس دینے کے ساتھ ساتھ ایسے ایسے افسران کو بھی اس فہرست میں شامل کر دیا گیا جنکی صرف ایک دن کی سروس باقی تھی،شرط صرف ایک تھی : حصہ بقدر جثہ ؛ ۔ گریڈ بائیس ملنے کی شفافیت کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ جن اہل افسروں کو اس وقت گریڈ بائیس ملا وہ منہ چھپاتے پھرتے تھے ۔ اسی طرح سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک افسر فضل پیجوہا ، اس وقت کے صدر مملکت آصف زرداری کے بہنوئی تھے ۔ انہیں گریڈ اکیس سے نوازنے کیلئے افسروں کی فہرست کو شیطان کی آنت کی طرح لمبا کر کے پوسٹیں بھی بڑہا دی گئیں ۔ مگر ایک محنتی افسر اور معروف دانشور اوریا مقبول جان کا نام اس لئے گریڈ اکیس کیلئے کلیئر نہ کیا گیا کہ انکی اے سی آرز مکمل نہیں تھیں ۔گریڈ بائیس اور اکیس کے متزکرہ دونوں کیسز سول سروس کی تاریخ میں ایک ٹرننگ پوا ئینٹ کا درجہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں کیسز کے بعد اوریا مقبول جان سمیت کچھ افسر اعلیٰ عدالتوں میں چلے گئے جس کے بعد حکومت کو بھی خیال آیا کہ اچھے برے کی تمیز ہونی چاہئے ۔ پھر دو ہزار تیرہ میں پہلی ایکسرسائز کی گئی جس میں افسروں کی قابلیت کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ اہلیت اور دیانت کو بھی ترقی کا معیار بنانے کی منظوری دی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے بھی اس سلسلے میں اپنے فیصلے میں انٹیگریٹی یعنی دیانت کو کور ایشو قرار دیا اور اسے سینٹرل سلیکشن بورڈ کیلئے بھی بائنڈنگ قرار دے دیا۔ ٍاب آگے چلتے ہیں ،گزشتہ سال دسمبر میں ایک بار پھر سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس ہوا اور مختلف سروسز اور گروپوں کے چھ سو کے قریب افسران کو گریڈ بیس اور اکیس میں ترقی دینے کی سفارشات وزیر اعظم کو بھجوائی گئیں مگر وزیر اعظم محمد نوازشریف نے سلیکشن بورڈ کے تمام فیصلو ں کی توثیق کرنے کی بجائے اکثر ناموں پر اعتراض لگا کرانہیں نظر ثانی کے لیے دوبارہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کو بھجوا دیاہے۔ ان میں گریڈ بیس اور اکیس کے لئے بورڈ کی طرف سے بھجوائے گئے اکثر سروس گروپوں کے 75 سے زیادہ افسر ان شامل ہیں ۔وزیر اعظم نے ان افسروں کی پیشہ ورانہ اہلیت ، قابلیت اور دیانت کے معاملہ کو مشکوک قرار دیا ہے ۔ وزیراعظم نے سنٹرل سلیکش بورڈ کی طرف سے مختلف سروسز گروپوں سے تعلق رکھنے والے وفاقی سروس کے 600 کے قریب افسروں کے کیسز کا کئی گھنٹے تک جائزہ لینے کے بعد یہ آبزرویشن بھی دی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سنٹرل سلیکشن بورڈ میںپیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت اور دیانت کے لیے مخصوص پانچ نمبر شامل نہیں کیے گئے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں سنٹرل سلیکشن بورڈ نے ان 600 کے قریب افسروں کو اگلے گریڈوں میں ترقی دینے کے لیے اپنی سفارشات وزیراعظم کو بھجوائی تھیں۔ جس کے بعد وزیراعظم اور وزیراعظم آفس نے ان کا ابتدائی جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان سفارشات میں سپریم کورٹ کے احکامات اور وزیراعظم پاکستان کے گزشتہ فیصلوں کو ان کی روح کے مطابق نہیں دیکھا گیا ۔ جس کی وجہ سے بہت سارے ایسے افسران کے نام بھی ترقی کی سفارشات کے ساتھ بھجوا دیے گئے تھے جن کی پیشہ ورانہ اہلیت اور دیانت پر شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔اسی طرح اس سے پہلے بھی جن ایسے افسروں کے نام وزیراعظم نے واپس بھجوائے تھے انہیں بھی کسی معقول وجہ کے بغیر دوبارہ وزیراعظم کو ترقی کے لیے بھجوا دیا گیا حالانکہ ان افسران کے کیسز کو دوبارہ بھجوانے کی وجوہات اور ان کی پیشہ ورانہ اہلیت و قابلیت اوردیانت کے حوالے سے وضاحت دی جانی چاہیے تھی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان600 سے زائد افسران کی پیشہ ورانہ اہلیت و قابلیت اور دیانت کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نے خود نئے سرے سے رپورٹس منگوائیں جس کی وجہ سے بورڈ کے فیصلو ں کی توثیق کرنے کے لیے کافی وقت لگ گیا وزیر اعظم نے ان افسروں کو ترقی دینے کے لیے ایک ایک نام کے متعلق خود تحقیق کی اور اس افسر کی پیشہ ورانہ اہلیت و دیانت اور قابلیت کے حوالے سے تمام رپورٹوں کا خود مطالعہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس سنٹرل سلیکشن بورڈ کی ان سفارشات کے حوالے سے تین آپشنز موجود تھے ۔ ایک آپشن تو یہ تھی کہ وزیراعظم سنٹرل سلیکشن بورڈ کی تمام سفارشات کو رد کردیتے کہ یہ سپریم کورٹ کے احکامات اور وزیراعظم کے گزشتہ فیصلوں میں دی گئی ہدایات کے مطابق نہیں تھیں ۔ مگر وزیراعظم نے اس آپشن سے اس لیے اجتناب کیا کہ اس میں یہ قباحت تھی کہ اگر وزیراعظم ایسا کرتے تو بورڈ کی سفارشات میں اسی فیصد سے زیادہ افسران جو کہ پیشہ ورانہ اہلیت و قابلیت اور دیانت داری کے اصولوں پر پورا اترتے تھے ان کی ترقیاں بھی تاخیر کا شکار ہوجاتیں جو کہ انصاف کے زمرے میں نہیں آتا ۔ اس پہلی آپشن کے تحت یہ بھی قباہت تھی کہ وفاقی سروس کے تمام گروپوں اور سروسزکی پروموشن میں گیپ آجاتا اور بہت ساری پوسٹیں خالی رکھنی پڑتیں ۔وزیراعظم کے پاس دوسری آپشن یہ تھی کہ(باقی صفحہ5بقیہ نمبر9) وزیراعظم بورڈ کی تمام سفارشات کو من و عن مان لیتے مگر یہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی خلاف ورزی تصور ہوتا جس میں افسروں کی پیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت اور دیانت داری کو ملحوظ خاطر رکھنے کا کہا گیا تھا۔تیسری آپشن یہ تھی کہ وزیر اعظم ان افسران کو ترقیاں دینے کی سفارشات کو منظور کرلیتے جو پیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت اور دیانت داری کے اصولوں پر پورا اترتے تھے۔وزیراعظم نے 75 کے قریب جن افسران کو ترقی نہ دے کر ان کے کیسز نظر ثانی کے لیے دوبارہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کو بھجوائے ہیں ان کے لیے ایک اچھا فیصلہ یہ ہوا ہے کہ جن پوسٹوں کے مقابل ان افسران کو ترقی ملنی تھی وہ تب تک خالی رہیں گی جب تک کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ ان افسروں کے کیسز پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات اور وزیراعظم پاکستان کے سابقہ فیصلوں کی روح کے مطابق نظر ثانی کرکے دوبارہ وزیراعظم آفس نہیں بھیجتے۔ وزیر اعظم کے اس اقدام سے بیوروکریسی کے معاملات میں کہاں تک بہتری آتی ہے اس کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر ایک نیک نام ،دیانتدار اور محنتی افسر کو برا بھلا ضرور کہا جا رہا ہے ۔ وہ افسر کون ہے یہ ساری بیوروکریسی جانتی ہے ۔اپنے قارئین کی آگاہی کیلئے میں آئیندہ دنوں میں اس کا ذکر ضرور کروں گا۔ کالم

محسن گورایہ

Related posts