ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز سی پیک میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے خوفزدہ


اسلام آباد(رانا حامد یٰسین)پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری سی پیک منصوبے میں بڑے پیمانے پر غیرملکی سرمایہ کاری سے خوفزدہ ہوگئی ہے اور سی پیک کے حوالے سے شکوک و شبہات اور خدشات سے بھرے خطوط وفاقی حکومت کو ارسال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ سی پیک سے خوفزدہ صنعتکاروں اور ایکسپورٹرز میں اکثریت فیصل آباد کے بزنس مینوں کی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد سمیت ملک بھر کے صنعتکارسی پیک کے حوالے سے شکوک و شبہات اور خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ صنعتکاروں کا خدشہ ہے کہ سی پیک منصوبے میں بڑے پیمانے پر انڈسٹریل سٹیٹس بھی شامل ہیں اور ان کے بننے اور ان کو کئی طرح کی ٹیکس چھوٹ ملنے سے توازن متاثر ہو گا۔ ان انڈسٹریل زونز سے باہر کی صنعتوں کو انکا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ذرائع کے مطابق ملک بھر کی صنعتی و تجارتی تنظیموں کی طرف سے وفاقی حکومت اور خاص طور پر وزارت تجارت کو اس حوالے سے مسلسل خطوط لکھے جا رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے سوالوں کے جواب ان کے خدشات کے تناظر میں ہی دئیے جائیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے مقامی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے مفادات کا بھی مکمل تحفظ کرنا ہوگا جو اس نئی صورتحال سے کسی بھی طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک میں سرمایہ کاری سے مقامی صنعتکاروں کی اجارہ داریاں متاثر ہو رہی ہیں اور انہیں مستقبل میں کھلے میدان کی بجائے مقابلے کی فضا کا سامنا کرنا پڑے گا اسی تناظر میں وہ حکومت کو تنگ کرکے مزید رعائتیں حاصل کرنے کے چکر میں ان خدشات و شہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

Related posts