بلھے شاہ کے پنجاب میں شہباز شریف حکومت کی طالبنائزڈ اسلامائزیشن

اسلام آباد(تجزیہ:رانا حامد یٰسین)مسلم لیگ ن نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اسلامائزیشن کو فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ میاں شہباز شریف کی حکومت کے ایک اہم وزیر رضا گیلانی نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں طالبات کو سکارف پہننے پر پانچ اضافی نمبر دینے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ عزت ماب جناب رضا گیلانی صاحب وزیر ہیں اور ہیں بھی اعلیٰ تعلیم کے۔ ظاہر ہے کہ خود بھی اعلیٰ تعلیم سے بہرہ مند ضرور ہوں گے۔ظاہر ہے کہ شہباز شریف حکومت کا وزیر ہے تو اس کے پاس ہر طرح کے اختیارات بھی ہوں گے۔ پنجاب تو ویسے بھی پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور انتہائی بااختیار مقام ہے۔ شہباز شریف صاحب کے ہوتے ہوئے اختیارات کا پنجاب میں جمع نا ہوناویسے بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔وزیر اعلیٰ تعلیم کے حکم پر عمل درآمد ظاہر ہے فوری ہونا بھی ضروری ہے نہ کیا گیا تو پرنسپلز اور ٹیچرز کی خیر نہیں ہے۔محترم رضا گیلانی صاحب کی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔انہوں نے ملک میں خواتین کو ان کے”بنیادی حق“ (پردہ) سے روشناس کروانے کی طرف اہم اقدام اٹھایا ہے۔ اپنے حکم نامے یا ہدائت نامے میں وزیر محترم نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ حکم نامہ صرف گرلز کالجز کیلئے ہی ہے یا اس پر پنجاب بھر کی یونیورسٹیوں میں بھی عمل کیا جائے گا۔ ویسے تو وزیر موصوف کا حکم نامہ انتہائی قابل قدر اور اسلام کی روح کے عین مطابق ہے مگر ساتھ ہی ان کے حکم نامے میں کچھ وضاحت طلب چیزیں بھی ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ طالبات کو پردہ کی پابندی کرنے پر پانچ اضافی نمبر کس مد سے دئیے جائیں گے۔ کیا پرچے میں یہ سوال بھی شامل ہوا کرے گا کہ آیا طالبہ نے پردہ کیا تھا کہ نہیں۔ حجاب کے ساتھ اس نے کتنے فیصد کلاسز لی ہیں اور اسی تناسب سے اس کو پانچ میں متناسب نمبر دئیے جائیں گے۔ بی ایس آنر کی کلاس میں اگر سیشنل نمبروں میں سے ملیں گے تو یہ اس طالبہ کیساتھ زیادتی نہیں ہو گی جو وزیر محترم کی اس اسلامائزیشن کی پالیسی سے اختلاف رکھتی ہے۔ اگر کوئی طالبہ مسلمان نہیں ہے اور وہ ایسے اسلامائزیشن کو قبول نہیں کرنا چاہتی تو اس کے بارے میں بھی وضاحت ضروری ہے کہ اس کے یہ پانچ اضافی نمبر کیسے پورے کئے جائیں گے۔سب سے اہم بات تو یہ ہو گی کہ یہ پانچ اضافی نمبر کس قانون کے تحت دئیے جائیں گے اور نصاب میں اس کی وضاحت کس طرح کی جائے گی۔”خادم اعلیٰ“میاں شہباز شریف صاحب کی کابینہ کے ہر قانون سے بالا اور با اختیار وزیر محترم رضا گیلانی صاحب کی طرف سے یہ وضاحت بھی ضرور آنی چاہئے کہ گرلز کالجز میں طالبات کو خصوصی پردے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ گرلز کالجز کے متواتر دوروں کے دوران محترم وزیر کیلئے نظریں نیچی رکھنا ممکن نہیں رہا۔ نظریں نیچی نہ رکھ سکنے کا متبادل انہوں نے یہ نکالا ہو کہ طالبات کو خصوصی پردہ کروا دیا جائے۔ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ سرکاری کالجز میں پردے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ پردہ اتنا ہی ضروری ہے تو وہ لوگ کالجز میں جائیں ہی نہیں جن کی وجہ سے طالبات کے پردے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ وزیر محترم کا ہدائت نامہ دیکھ کر محترم رضا گیلانی صاحب والی کابینہ کے سربراہ جناب میاں شہباز شریف کا و بیان یاد آگیا جس میں انہوں نے طالبان کو یاددہانی کروائی تھی کہ شہباز شریف حکومت اور طالبان کی پالیسی‘ نظریات ایک جیسے ہیں۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی سوچ آج بھی وہاں ہی کھڑی ہے اور طالبانائزیشن جیسی اسلامائزیشن مسلم لیگ ن کی ایجنڈا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مسلم لیگ ن اور خاص طور پر میاں شہباز شریف صاحب کو اس کی وضاحت ضرور کر دینی چاہئے تا کہ تاریخ کا ریکارڈ درست رہ سکے۔

Related posts