پانامہ کیس فیصلہ اور نواز، زرداری خفیہ ڈیل

اسلام آباد (نیوزلائن) پانامہ کیس کے فیصلے میں ممکنہ طور پر وزیر اعظم نوازشریف اور چیئرمین نیب کوعہدے سے ہٹائے جانے یا وزیر اعظم کے وزارت عظمیٰ کے منصب سے دستبردار ہونے کی صورت میں آئندہ کے سیٹ اپ کیلئے حکمران جماعت ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑوں کے درمیان خفیہ ڈیل طے پاگئی ہے جس میں ابھی سے ہی نگران وزیر اعظم اور چیئرمین نیب کے لئے ناموں پر اتفاق رائے کیلئے دونوں پارٹیوں کے بڑوں میں خصوصی نمائندوں جن میں وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آصف زرداری کے کارخاص سینیٹررحمان ملک سرفہرست ہیں ، کے ذریعے معاملات کافی حد تک فائنل ہوچکے ہیں ۔سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل نے ٹویٹس کے ذریعے بڑا انکشاف کردیا ہے ۔پانامہ کیس کے فیصلہ کے بعد وزیر اعظم نوازشریف قومی اسمبلی توڑ دینگے اور نگران وزیر اعظم اور سیٹ ا پ ن لیگ اور پی پی پی کے درمیان طے شدہ فارمولے کے تحت بنے گا اور اسی طرح چیئرمین نیب کی تقرری بھی ن لیگ اور پی پی پی کے اتفاق رائے سے ہوگی ۔آئندہ انتخابات میں پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت پنجاب میں پی ٹی آئی کی بجائے پیپلز پارٹی کو زیاد ہ سیٹیں دلوانے کیلئے ن لیگ بعض سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کرے گی اور پنجاب میں ن لیگ اور پی پی پی کی مخلوط حکومت کے قیام کے لئے حکمت عملی تیار کی گئی ہے جبکہ اس کے بدلے میں پیپلز پارٹی سندھ میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو جتوانے کیلئے بعض جگہوں پر ایڈجسٹمنٹ کرے گی اور ایم کیوایم کے مختلف دھڑوں کے باعث ن لیگ کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کیلئے بھی منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے ۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سند ھ اور پنجاب کی اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ بھی پی پی پی اور ن لیگ مشاورت سے کریں گے تاہم زیاد امکان یہی ہے کہ یہ اسمبلیاں قائم رہیں گی تاکہ سند ھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ سرکاری مشینری اور فنڈز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے اپنے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو اپنے اپنے صوبوں میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکیں ۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو صوبہ خیبر پختونخواہ سے بھی آئندہ الیکشن میں آؤٹ کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے جس کے تحت ن لیگ ، پیپلز پارٹی ، اے این پی ، جے یو آئی (فضل الرحمن گروپ)اور آفتاب شیر پاؤ کی پارٹیوں نے مل کر مخلوط حکومت بنانے کے لئے ابھی سے مشاورت شروع کردی ہے۔ جبکہ بلوچستان میں آئندہ بھی مخلوط حکومت بننے کا امکان ہے ،اس صوبہ سے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کافی کم ہے اس لئے مرکزی حکومت بنانے کے لئے ان سیٹوں کا کوئی بہت بڑا کردار نہیں ہے ، اس لئے اس صوبے پر کوئی خاص توجہ مرکوز نہیں کی گئی ۔وفاقی حکومت بنانے کیلئے سب سے زیادہ کردار صوبہ پنجاب کا ہے اور اس کے بعد سندھ کا نمبر آتا ہے اس لئے ن لیگ اور پیپلز پارٹی قبل ازوقت انتخابات کے فارمولے پر اتفاق رائے کرچکی ہیں اور دونوں پارٹیوں نے انتخابی مہم شروع کردی ہے ، جس کیلئے دونو ں پارٹیو ں کی صوبائی حکومتوں کے باعث ا ن کو آئندہ انتخابات میں قومی اسمبلی میں سرکاری وسائل اور فنڈز کے بے دریغ استعمال سے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکیں گی ۔

Related posts