رضا ربانی فوجی عدالتوں کی مخالفت کیلئے میدان میں کود پڑے

کراچی(نیوزلائن) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا کہ اٹھارویں ترامیم میں پارٹی سربراہان کوزیادہ اختیارات دے دیئے گئے مگر جب یہ ترامیم ہو رہی تھیں اس وقت ہارس ٹریڈنگ کا ماحول تھا جبکہ ابھی تک سیاسی نظام میں سنجیدگی نہیں آئی کہ پارلیمنٹ اس میں تبدیلی کر سکے گی۔ میری بزدلی یا لالچ تھی کہ میں نے سینیٹ سے استفعی نہیں دیا۔ اب چوں کہ بل میرے دستخط سے ہی صدر مملکت کے پاس جائے گا اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ میں موجود رہوں اور فوجی عدالتوں کے بل کی مخالفت کروں،سخت فیصلوں کے لئے قیادت کا دیانیدار ہونا بہت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ڈاکٹر سید جعفر احمد کی کتاب”پاکستان ہسٹروکل لیجیسز“کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دوسری طرف ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی اٹھائیس مارچ کو ہونے والے سینٹ اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے سینٹ اجلاس کی صدارت کرنا تھی لیکن انہوںنے فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت سے انکار کرتے ہوئے کراچی روانہ ہوگئے جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری بھی اجلاس کی صدارت کرنے سے قبل چھٹی پر چلے گئے ۔ تاہم اٹھائیس کو کسی نہ کسی طریقے سے سینٹ سے فوجی عدالتوں کے حوالے سے بل منظور کرلیا جائےگا۔

Related posts